ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 36

فَمَالِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا قِبَلَکَ مُہۡطِعِیۡنَ ﴿ۙ۳۶﴾
پھر ان لوگوں کو جنھوں نے کفر کیا، کیا ہے کہ تیری طرف دوڑتے چلے آنے والے ہیں۔ En
تو ان کافروں کو کیا ہوا ہے کہ تمہاری طرف دوڑے چلے آتے ہیں
En
پس کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ وه تیری طرف دوڑتے آتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 36تا39) {فَمَالِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا …: مُهْطِعِيْنَ أَهْطَعَ يُهْطِعُ} (افعال) سے اسم فاعل ہے، تیزی سے دوڑنے والے۔ { عِزِيْنَ } جمع ہے {عِزَةٌ} کی، جو اصل میں {عِزَوَةٌ} یا {عِزَهَةٌ} تھا، ٹولیاں، گروہ۔ کفار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق کرنے کے لیے ٹولیاں بنا بنا کر کبھی دائیں طرف سے دوڑے چلے آتے، کبھی بائیں طرف سے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے، آخرت کو بھی جھٹلاتے اور مذاق سے کہتے کہ اگر بالفرض کوئی جنت ہے بھی تو وہ بھی ہمارے ہی لیے ہے، کیونکہ دنیا میں بھی ہمیں ہی زیادہ نعمتیں ملی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس طرح آنے پر تعجب کا اظہار فرمایا اور فرمایا، کیا ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اتنا اونچا سمجھنے لگ گیا ہے کہ وہ نعمت والی جنت میں داخل ہونے کی طمع رکھتا ہے؟ ہر گز نہیں! ہم نے انھیں جس چیز سے پیدا کیا ہے اسے وہ خود بھی جانتے ہیں، حقیر قطرے سے پیدا ہونے والے انسان کو یہ تکبر بھلا زیب دیتا ہے؟ اس مضمون کے لیے دیکھیے سورۂ مرسلات (۲۰ تا ۲۳) اور سورۂ طارق (۵تا ۷)۔
ان آیات سے تین باتیں مقصود ہیں، ایک انسان کو تکبر سے باز رکھنا اور یہ یاد دلانا کہ تم منی جیسی حقیر چیز سے پیدا ہو کر اتنے بڑ ے بن رہے ہو کہ جنت میں داخل ہونے کو اپنا حق سمجھ رہے ہو، حالانکہ جنت کے قابل تو رسول کی اطاعت سے ہو گے جس پر ٹولیاں بنا کر حملہ آور ہو رہے ہو۔ دوسری کفار کے اس طمع کا ردّ کہ وہ جنت میں جائیں گے، گویا بتایا جا رہا ہے کہ ہم نے تمھیں بھی اسی چیز سے پیدا کیا جس سے دوسروں کو پیدا کیا ہے، جب سب کی پیدائش ایک جیسی ہے تو تم عمل کے بغیر جنت میں داخل ہونے کے امیدوار کیسے بن گئے؟ تیسری بات دوبارہ زندہ کرنے کی دلیل پیش کرنا ہے کہ جب ہم نے اس حقیر پانی سے تمھیں بنا لیا تو دوبارہ بنانا کون سا مشکل کام ہے؟ جیسے فرمایا: «‏‏‏‏اَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّنْ مَّنِيٍّ يُّمْنٰى» [القیامۃ: ۳۷] کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

36۔ ان کافروں کو کیا ہو گیا ہے کہ یہ آپ کی طرف دوڑے آرہے ہیں

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

مرکز نور و ہدایت سے مفرور انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ عزوجل ان کافروں پر انکار کر رہا ہے جو حضور علیہ السلام کے مبارک زمانہ میں تھے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ دیکھ رہے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو ہدایت لے کر آئے وہ ان کے سامنے تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کھلے معجزے بھی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے پھر باوجود ان تمام باتوں کے وہ بھاگ رہے تھے اور ٹولیاں ٹولیاں ہو کر دائیں بائیں کترا جاتے تھے۔
جیسے اور جگہ «‏‏‏‏فَمَا لَهُمْ عَنِ التَّذْكِرَةِ مُعْرِضِيْنَ كَأَنَّهُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنفِرَةٌ فَرَّتْ مِن قَسْوَرَةٍ» ‏‏‏‏۱؎ [74-المدثر:51-49]‏‏‏‏، ’ یہ نصیحت سے منہ پھیر کر ان گدھوں کی طرح جو شیر سے بھاگ رہے ہوں کیوں بھاگ رہے ہیں؟ ‘ یہاں بھی اسی طرح فرما رہا ہے کہ ’ ان کفار کو کیا ہو گیا ہے یہ نفرت کر کے کیوں تیرے پاس سے بھاگے جا رہے ہیں؟ کیونکہ دائیں بائیں سرکتے جاتے ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ متفرق طور پر اختلاف کے ساتھ ادھر ادھر ہو رہے ہیں ‘۔
امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے خواہش نفس پر عمل کرنے والوں کے حق میں یہی فرمایا ہے کہ وہ کتاب اللہ کے مخالف ہوتے ہیں اور آپس میں بھی مختلف ہوتے ہیں۔ ہاں کتاب اللہ کی مخالفت میں سب متفقہ ہوتے ہیں۔‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بروایت عوفی رحمہ اللہ مروی ہے کہ وہ ٹولیاں ہو کر بے پرواہی کے ساتھ تیرے دائیں بائیں ہو کر تجھے مذاق سے گھورتے ہیں۔‏‏‏‏ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی دائیں بائیں الگ ہو جاتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ اس شخص نے کیا کہا؟ قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں بائیں ٹولیاں ٹولیاں ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد پھرتے رہتے ہیں نہ کتاب اللہ کی چاہت ہے نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رغبت ہے۔‏‏‏‏
ایک حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے پاس آئے اور وہ متفرق طور پر حلقے حلقے تھے تو فرمایا: میں تمہیں الگ الگ جماعتوں کی صورتوں میں کیسے دیکھ رہا ہوں؟ } ۱؎ [صحیح مسلم:430]‏‏‏‏ ابن جریر میں اور سند سے بھی مروی ہے۔
پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ کیا ان کی چاہت ہے کہ جنت نعیم میں داخل کئے جائیں؟ ایسا نہ ہو گا ‘، یعنی جب ان کی یہ حالت ہے کہ کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور دائیں بائیں کترا جاتے ہیں پھر ان کی یہ چاہت پوری نہیں ہو سکتی بلکہ یہ جہنمی گروہ ہے، اب جس چیز کو یہ محال جانتے تھے اس کا بہترین ثبوت ان ہی کی معلومات اور اقرار سے بیان ہو رہا ہے کہ ’ جس نے تمہیں ضعیف پانی سے پیدا کیا ہے جیسے کہ خود تمہیں بھی معلوم ہے پھر کیا وہ تمہیں دوبارہ نہیں پیدا کر سکتا؟ ‘
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَلَمْ نَخْلُقْكُّمْ مِّنْ مَّاءٍ مَّهِيْنٍ» ۱؎ ‏‏‏‏[77-المرسلات:20]‏‏‏‏ ’ کیا ہم نے تمہیں ناقدرے پانی سے پیدا نہیں کیا؟ ‘ فرمان ہے «الْإِنسَانُ مِمَّ خُلِقَ خُلِقَ مِن مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِن بَيْنِ الصُّلْبِ وَالتَّرَائِبِ إِنَّهُ عَلَىٰ رَجْعِهِ لَقَادِرٌ يَوْمَ تُبْلَى السَّرَائِرُ فَمَا لَهُ مِن قُوَّةٍ وَلَا نَاصِرٍ» ۱؎ ‏‏‏‏[86-الطارق:10-5]‏‏‏‏، ’ انسان کو دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے، اچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے جو پیٹھ اور چھاتی کے درمیان سے نکلتا ہے، یقیناً وہ اللہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے جس دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی اور کوئی طاقت نہ ہو گی نہ مددگار ‘۔
پس یہاں بھی فرماتا ہے ’ مجھے قسم ہے اس کی جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا اور مشرق و مغرب متعین کی اور ستاروں کے چھپنے اور ظاہر ہونے کی جگہیں مقرر کر دیں ‘، مطلب یہ ہے کہ اے کافرو! جیسا تمہارا گمان ہے ویسا معاملہ نہیں کہ نہ حساب کتاب ہو، نہ حشر نشر ہو بلکہ یہ سب یقیناً ہونے والی چیزیں ہیں۔ اسی لیے قسم سے پہلے ان کے باطل خیال کی تکذیب کی اور اسے اس طرح ثابت کیا کہ اپنی قدرت کاملہ کے مختلف نمونے ان کے سامنے پیش کئے، مثلاً آسمان و زمین کی ابتدائی پیدائش اور حیوانات، جمادات اور مختلف قسم کی مخلوق کی موجودگی۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ ‏‏‏‏[40-غافر:57]‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے بہت بڑا ہے لیکن اکثر لوگ بےعلم ہیں ‘، مطلب یہ ہے کہ جب بڑی بڑی چیزوں کو پیدا کرنے پر اللہ قادر ہے تو چھوٹی چیزوں کی پیدائش پر کیوں قادر نہ ہو گا؟
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ‏‏‏‏۱؎ [46-الأحقاف:33]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش میں نہ تھکا کیا وہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ بیشک وہ قادر ہے اور ایک اس پر کیا ہر ایک چیز پر اسے قدرت حاصل ہے ‘۔
اور جگہ ارشاد ہے «أَوَلَيْسَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُم بَلَىٰ وَهُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ» ۱؎ [36-يس:82،81]‏‏‏‏، یعنی ’ کیا زمین و آسمان کو پیدا کرنے والا، ان کے مثل پیدا کرنے پر قادر نہیں؟ ہاں ہے اور وہی پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے، وہ جس چیز کا ارداہ کرے کہہ دیتا ہے کہ ہو جا وہ اسی وقت ہو جاتی ہے ‘۔
یہاں ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ مشرق اور مغرب کے پروردگار کی قسم ہم ان کے ان جسموں کو جیسے یہ اب ہیں اس سے بھی بہتر صورت میں بدل ڈالنے پر پورے پورے قادر ہیں کوئی چیز کوئی شخص اور کوئی کام ہمیں عاجز اور درماندہ نہیں کر سکتا ‘۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَلَّن نَّجْمَعَ عِظَامَهُ بَلَىٰ قَادِرِينَ عَلَىٰ أَن نُّسَوِّيَ بَنَانَهُ» ۱؎ ‏‏‏‏[75-القيامة:4،3]‏‏‏‏، ’ کیا کسی شخص کا یہ گمان ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کر سکیں گے؟ غلط گمان ہے بلکہ ہم تو اس کی پور پور جمع کر کے ٹھیک ٹھاک بنا دیں گے ‘، اور فرمایا «‏‏‏‏نَحْنُ قَدَّرْنَا بَيْنَكُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوقِينَ عَلَىٰ أَن نُّبَدِّلَ أَمْثَالَكُمْ وَنُنشِئَكُمْ فِي مَا لَا تَعْلَمُونَ» ‏‏‏‏۱؎ [56-الواقعة:61،60]‏‏‏‏، ’ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر دی ہے اور ہم اس سے عاجز نہیں کہ تم جیسوں کو بدل ڈالیں اور تمہیں اس نئی پیدائش میں پیدا کریں جسے تم جانتے بھی نہیں ‘۔
پس ایک مطلب تو آیت مندرجہ بالا کا یہ ہے، دوسرا مطلب امام ابن جریر رحمہ اللہ نے یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ’ ہم قادر ہیں اس امر پر کہ تمہارے بدلے ایسے لوگ پیدا کر دیں جو ہمارے مطیع و فرمانبردار ہوں اور ہماری نافرمانیوں سے رکے رہنے والے ہوں ‘۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَكُم» ‏‏‏‏۱؎ [47-محمد:38]‏‏‏‏ یعنی ’ اگر تم نے منہ موڑا تو اللہ تمہارے سوا اور قوم کو لائے گا اور وہ تم جیسی نہ ہو گی ‘، لیکن پہلا مطلب دوسری آیتوں کی صاف دلالت کی وجہ سے زیادہ ظاہر ہے۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ»