(آیت 3) {مِنَاللّٰهِذِيالْمَعَارِجِ: ”الْمَعَارِجِ“”عَرَجَيَعْرُجُ“} (ن) سے {”مِعْرَجٌ“} کی جمع ہے، چڑھنے کا آلہ، سیڑھی، زینہ۔ یعنی اس عذاب کو معمولی نہ سمجھو، بلکہ وہ اس اللہ کی طرف سے ہو گا جو سیڑھیوں والا ہے، یعنی اس کی ذات بہت ہی بلند ہے۔ فرشتوں کو اس کے حضور پیش ہونے کے لیے کئی سیڑھیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ {”الْمَعَارِجِ“} (سیڑھیوں) سے مراد آسمان ہیں، کیونکہ فرشتے آسمانوں پر چڑھتے ہوئے سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 یا درجات والا، بلندیوں والا ہے، جس کی طرف فرشتے چڑھتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ (یہ عذاب) اللہ کی طرف سے (آئے گا) جو بلندیوں کا مالک [2] ہے
[2] ﴿معارج﴾ کی لغوی تشریح :۔
﴿معارج﴾﴿مِعْرَجْ﴾ اور ﴿معراج﴾ کی جمع ﴿عَرَجَ﴾ میں دو باتیں بنیادی طور پر پائی جاتی ہیں۔ جھکاؤ اور بلندی اور ﴿عَرَجَفِيْالسِّلْمِ﴾ بمعنی سیڑھی یا زینہ پر چڑھنا۔ سیڑھی پر چڑھنے کے لیے آگے کی طرف جھکنا بھی پڑتا ہے اور بلندی کی طرف چڑھنا عام چلنے کی نسبت دشوار بھی ہوتا ہے۔ نیز عرج کے معنی لنگڑا کر چلنا اور ﴿أعْرَجَ﴾ بمعنی لنگڑا۔ کیونکہ لنگڑا کر چلنے میں بھی یہ دو باتیں پائی جاتی ہیں آگے کو جھکاؤ بھی اور بلندی پر چڑھنے جیسی دشواری بھی۔ اور ﴿معراج﴾ کے معنی بلندی پر چڑھنے کا ذریعہ بھی یعنی سیڑھی یا زینہ وغیرہ اور وہ بلند جگہ بھی جہاں پہنچنا مقصود ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ﴿معراج﴾ ہوا تھا تو ﴿معراج﴾ سے مراد بلند مقام ہے، جہاں تک اللہ تعالیٰ آپ کو لے جانا چاہتا تھا۔ اور ﴿ذِيالْمَعَارِجِ﴾ کا معنی وہ بلند و بالا ذات جس کے سامنے سب بلندیاں ہیچ ہوں۔ بلند سے بلند مقامات کا مالک۔ گویا کافروں پر یہ ٹلنے والا عذاب ایسی بلند ذات کی طرف سے آئے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔