(آیت 25،24) {وَالَّذِيْنَفِيْۤاَمْوَالِهِمْحَقٌّمَّعْلُوْمٌ …:} اس آیت سے معلوم ہوا کہ صدقہ و زکوٰۃ مکہ میں بھی فرض تھے اور وہاں بھی اہل ایمان اپنے اموال میں سے ایک مقرر حصہ نکالتے تھے، کیونکہ یہ سورت مکی ہے، بلکہ مشرکین بھی اپنی کھیتی اور مویشیوں میں سے بتوں کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا ایک مقرر حصہ نکالتے تھے۔ (دیکھیے انعام: ۱۳۶) اس سے بہت پہلے اسماعیل علیہ السلام بھی اپنے اہل کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے۔ (دیکھیے مریم: ۵۵) ہاں زکوٰۃ کا موجودہ مخصوص نصاب مدینہ میں مقرر ہوا، اتنے فرض کی ادائیگی کے بغیر تو آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتا۔ البتہ اہلِ ایمان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے علاوہ بھی اللہ کی راہ میں خرچ کریں، یہ ہر شخص کی اپنی صوابدید ہے کہ وہ اس کی راہ میں کتنا حصہ مقرر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہے۔ صحیح مسلم میں ایک شخص کا واقعہ مذکور ہے جس کا نام لے کر بادلوں کو حکم ہوا کہ اس کے باغ کو پانی پلائیں۔ وہ شخص اپنے باغ کی آمدنی کے تین حصے کرتا تھا، جس میں سے ایک حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتا تھا۔ [دیکھیے مسلم: ۲۹۸۴] حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ کیے بغیربے صبری اور بخل کی کمینگی دور ہو ہی نہیں سکتی۔ {”الْمَحْرُوْمِ“} میں وہ بھی شامل ہے جس کا کوئی ذریعۂ معاش نہیں یا کسی آفت کی وجہ سے اپنے سرمایہ سے محروم ہو گیا ہے اور وہ بھی جسے ضرورت مند ہونے کے باوجود سوال نہ کرنے کی وجہ سے کچھ نہیں دیا جاتا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
24۔ 1 یعنی زکوٰۃ مفروضۃ، بعض کے نزدیک یہ عام ہے، صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں اس میں شامل ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
24۔ اور جن کے اموال میں کا ایک مقرر حق [16] ہے
[16] سوال کرنا صرف تین طرح کے لوگوں کو جائز ہے :۔
سائل سے مراد پیشہ ور گداگر نہیں۔ ایسی گداگری کا اسلام میں کوئی جواز نہیں سائل سے مراد وہ شخص ہے۔ جو فی الواقع مانگنے پر مجبور ہو۔ چنانچہ سیدنا قبیصہ بن مخارق کہتے ہیں کہ میں ایک شخص کا ضامن ہوا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہاں ٹھہرو تاآنکہ ہمارے پاس صدقہ آئے پھر ہم تیرے لیے کچھ حکم کریں گے۔ پھر مجھے مخاطب کر کے فرمایا: ”قبیصہ! تین شخصوں کے سوا کسی کو سوال کرنا جائز نہیں۔ ایک وہ جو ضامن ہو اور ضمانت اس پر پڑ جائے جس کا وہ اہل نہ ہو۔ وہ اپنی ضمانت کی حد تک مانگ سکتا ہے۔ پھر رک جائے دوسرے وہ جسے ایسی آفت پہنچے جو اس کا سارا مال تباہ کر دے۔ وہ اس حد تک مانگ سکتا ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل ہو جائے اور تیسرے وہ شخص جس کو فاقہ کی نوبت آگئی ہو اور اس کے قبیلہ کے تین معتبر شخص گواہی دیں کہ فلاں کو فاقہ پہنچا ہے۔ اسے سوال کرنا جائز ہے تاآنکہ اس کی محتاجی دور ہو جائے“ پھر فرمایا: ”اے قبیصہ ان تین قسم کے آدمیوں کے سوا کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اور ان کے سوا جو شخص سوال کر کے کھاتا ہے وہ حرام کھا رہا ہے۔“ [مسلم۔ کتاب الزکوٰۃ۔ باب من تحل لہ المسئلۃ] نیز سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جو شخص اپنا مال بڑھانے کے لیے لوگوں سے سوال کرتا ہے۔ وہ دراصل آگ کے انگارے طلب کر رہا ہے اب وہ چاہے تو کم کرے یا زیادہ اکٹھے کر لے“ [بخاری۔ کتاب الوصایا۔ باب تاویل قولہ تعالیٰ من بعد وصیۃ توصون بہا اودین] اور محروم سے مراد وہ شخص ہے جو سوال کرنے کا مستحق ہونے کے باوجود سوال کرنے سے ہچکچاتا ہو۔ جسے ہماری زبان میں سفید پوش کہتے ہیں۔ علاوہ ازیں محروم سے مراد وہ شخص بھی ہے جو روزگار کی تلاش میں ہو اور روزگار اسے میسر نہ آرہا ہو یا جتنی روزی کما رہا ہے اس سے اس کی ضروریات پوری نہ ہوتی ہوں یا روزی کمانے کے قابل ہی نہ ہو۔ جیسے بوڑھا، بیمار، اندھا، لنگڑا، اپاہج وغیرہ۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔