اس آیت کی تفسیر آیت 22 میں تا آیت 24 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
23۔ 1 مراد ہیں مومن کامل اور اہل توحید، ان کے اندر مذکورہ اخلاقی کمزوریاں نہیں ہوتیں بلکہ اس کے برعکس وہ صفات محمودہ کے پیکر ہوتے ہیں۔ ہمیشہ نماز پڑھنے کا مطلب ہے کہ نماز میں کوتاہی نہیں کرتے ہر نماز اپنے وقت پر نہایت پابندی اور التزام سے پڑھ لیتے ہیں۔ کوئی مشغولیت انہیں نماز سے نہیں روکتی اور دنیا کا کوئی فائدہ انہیں نماز سے غافل نہیں کرتا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
23۔ جو ہمیشہ اپنی نماز پر قائم [15] ہیں
[15] ﴿دائمون﴾ کے دو مفہوم :۔
سب سے پہلی اور اہم صفت یہ ہے کہ وہ نماز ادا کرتے ہیں۔ بروقت ادا کرتے ہیں۔ با جماعت ادا کرتے ہیں۔ ٹھیک طرح سے خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ اور ہمیشہ ادا کرتے ہیں اور باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ اس آیت میں ﴿دَائِمُوْنَ﴾ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ دوام کا ایک معنی تو ہمیشگی ہے اور ﴿دام الشَيْيُ﴾ بمعنی کسی چیز کا عرصہ دراز تک بلا تغیر ایک ہی حالت میں رہنا، ترجمہ میں یہی معنی اختیار کیا گیا ہے اس کا دوسرا معنی سکون اور ٹھہراؤ ہے اور ماء الدَّائِمِ بمعنی کھڑا پانی جس میں کچھ حرکت نہ ہو۔ اس لحاظ سے معنی یہ ہو گا کہ وہ لوگ اپنی نماز کو نہایت سکون، ٹھہراؤ، اطمینان قلب اور خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ وہ نہ یہ کرتے ہیں کہ منافقوں کی طرح جلدی جلدی چند ٹھونگیں ماریں اور فٹا فٹ نماز سے فارغ ہوئے۔ اور نہ یہ کرتے ہیں کہ بس ایک اللہ کی یاد کو دل و دماغ میں نہ لائیں باقی ادھر ادھر کی ساری باتیں نماز میں سوچتے رہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔