(آیت 23،22) {اِلَّاالْمُصَلِّيْنَ …:} مگر نمازی بے صبرے اور تھڑ دلے نہیں ہوتے، وہ نہ مصیبت پر شکوہ شکایت کرتے ہیں اور نہ نعمت ملنے پر بخل کرتے ہیں۔ نماز کی صحیح ادائیگی سے آدمی میں وہ عزم اور وہ ہمت پیدا ہوتی ہے کہ وہ ایسی تمام کمزوریوں پر قابو پا لیتا ہے، کیونکہ روزانہ پانچ وقت دنیا کے کسی لالچ کے بغیر پورے شروط و آداب کے ساتھ نماز ادا کرنا بہت ہی مشکل کام ہے جو اللہ کے خوف اور آخرت پر ایمان کے بغیر ادا ہو ہی نہیں سکتا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَاسْتَعِيْنُوْابِالصَّبْرِوَالصَّلٰوةِوَاِنَّهَالَكَبِيْرَةٌاِلَّاعَلَىالْخٰشِعِيْنَ (45) الَّذِيْنَيَظُنُّوْنَاَنَّهُمْمُّلٰقُوْارَبِّهِمْوَاَنَّهُمْاِلَيْهِرٰجِعُوْنَ» [البقرۃ: 46،45]”اور صبر اور نماز کے ساتھ مدد طلب کرو اور بے شک وہ بہت بڑی ہے مگر عاجزی کرنے والوں پر۔ جو سمجھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ آیات(۲۳) تا(۳۴) تک وہ صفات بیان فرمائی ہیں جن کے بغیر نمازی بھی” ہلوع“ (تھڑدلا) ہی رہتا ہے۔ ان میں سے پہلی صفت اپنی نماز پر ہمیشگی ہے، یہ نہیں کہ کبھی پڑ ھ لی کبھی چھوڑ دی، کیونکہ جونہی نماز ترک کرے گا، تو صرف بے صبری اور بخل ہی واپس نہیں آئیں گے بلکہ کفر بھی دوبارہ اس میں پلٹ آئے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [بَيْنَالْعَبْدِوَبَيْنَالْكُفْرِتَرْكُالصَّلَاةِ][أبو داوٗد، السنۃ، باب في رد الإرجاء: ۴۶۷۸۔ مسلم: ۸۲]” بندے اور کفر کے درمیان نماز ترک کرنے کی دیر ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ مگر نماز [14] ادا کرنے والے
[14] یہ دونوں حالتیں، یعنی تنگ دستی میں صبر کے بجائے شکوہ و شکایت اور خوشحالی میں اللہ کا شکر ادا کرنے کے بجائے بخل اور پیسہ سے والہانہ محبت ایسی چیزیں ہیں جو انسان کو جہنم میں لے جانے والی ہیں۔ البتہ جن لوگوں میں اور بالخصوص جن ایمانداروں میں مندرجہ ذیل آٹھ صفات، جو آگے آیت نمبر 22 سے 34 تک مذکور ہیں، پائی جائیں وہ عذاب جہنم سے محفوظ رہیں گے۔ اور ان میں مذکورہ بالا قباحتیں بھی ختم ہو جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔