ترجمہ و تفسیر — سورۃ المعارج (70) — آیت 21

وَّ اِذَا مَسَّہُ الۡخَیۡرُ مَنُوۡعًا ﴿ۙ۲۱﴾
اور جب اسے بھلائی ملتی ہے تو بہت روکنے والا ہے۔ En
اور جب آسائش حاصل ہوتی ہے تو بخیل بن جاتا ہے
En
اور جب راحت ملتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 20 میں تا آیت 22 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

21۔ اور جب مال ملتا ہے تو بخیل [13] بن جاتا ہے
[13] یعنی انسان کی عمومی سرشت یہی ہے کہ اسے جب کوئی تکلیف پہنچے۔ کوئی بیماری آلگے یا معاشی تنگی میں مبتلا ہو تو صبر کے ساتھ وہ وقت گزارنے کے بجائے جزع و فزع شروع کر دیتا ہے۔ کبھی تقدیر کو کو سنے لگتا ہے اور کبھی اپنے نصیبوں کو اور جب اللہ اس سے اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے تو پھر بھی اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔ بلکہ مال و دولت کو گلے سے ایسے لگا لیتا ہے جیسے خزانے پر سانپ بیٹھا ہو۔ پھر وہ ایسا ننانوے کے چکر میں پڑ جاتا ہے کہ کسی غریب محتاج کی مدد کرنا اور اس کی کسی ضرورت کو پورا کرنا تو درکنار، اپنے اہل و عیال بلکہ اپنی ذات پر خرچ کرنا گوارا نہیں کرتا۔ اس کی بس ایک ہی ہوس ہوتی ہے کہ اس کی دولت میں روز افزوں اضافہ ہوتا رہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔