اِنَّ الۡاِنۡسَانَ خُلِقَ ہَلُوۡعًا ﴿ۙ۱۹﴾
بلاشبہ انسان تھڑدلا بنایا گیا ہے۔
En
کچھ شک نہیں کہ انسان کم حوصلہ پیدا ہوا ہے
En
بیشک انسان بڑے کچے دل واﻻ بنایا گیا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 19تا21) {اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ هَلُوْعًا …:} یعنی انسان میں پیدائشی طور پر یہ کمزوری رکھی گئی ہے کہ وہ تھڑدلا ہے، بے صبرا ہے۔ تکلیف پہنچتی ہے تو بہت گھبرا جاتا ہے، مال یا کوئی اور نعمت ملتی ہے تو روک کر بیٹھ جاتا ہے اور حق داروں کو نہیں دیتا، مگر یہ کمزوری ایسی نہیں کہ انسان اس پر قابو نہ پا سکے۔ اہلِ ایمان نہ مصیبت میں گھبراتے ہیں اور نہ خوش حالی میں اتراتے ہیں۔ صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ فَكَانَ خَيْرًا لَهُ] [مسلم، الزھد، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹] ”مومن کا معاملہ عجیب ہے کہ اس کے سب کام ہی (اس کے لیے) خیر ہیں اور مومن کے علاوہ یہ چیز کسی کو حاصل نہیں، (اس طرح کہ) اسے کوئی خوشی پہنچتی ہے تو شکر کرتا ہے، سو وہ اس کے لیے خیر ہوتی ہے اور اگر تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتا ہے، سو وہ (بھی) اس کے لیے خیر ہوتی ہے۔“ مگر اس کے لیے کوشش یقینا کرنا پڑتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَمَنْ يَّسْتَعِفَّ يُعِفَّهُ اللّٰهُ وَ مَنْ يَّسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللّٰهُ وَ مَنْ يَّتَصْبِرْ يُصَبِّرْهُ اللّٰهُ] [مسلم، الزکاۃ، باب فضل العفف والصبر…: ۱۰۵۳] ”جو شخص سوال سے بچے گا اللہ اسے بچا لے گا، جو اللہ سے غنا مانگے گا اللہ اسے غنی کر دے گا اور جو صبر کی کوشش کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
19۔ 1 سخت حریص اور بہت جزع فزع کرنے والے کو ھلوع کہا جاتا ہے۔ جس کو ترجمے میں انسان کچے دل والا سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ ایسا شخص ہی بخیل و حریص اور زیادہ گریہ جاری کرنے والا ہوتا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
19۔ بلا شبہ انسان تھڑ دلا [12] پیدا کیا گیا ہے
[12] ﴿هلوعا﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿هَلُوْعًا﴾ بمعنی بے قرار، بے ثبات، ایک حالت پر قائم نہ رہنے والا۔ حالات کی تبدیلی کا فوراً اثر قبول کر لینے والا۔ یعنی انسان فطری طور پر ایسا ہی پیدا ہوا ہے۔ یہ کیفیت ایک عام دنیا دار انسان یا انسانوں کی اکثریت کی ہے۔ اور جو لوگ ایمان لا کر اپنی اصلاح کر لیتے ہیں ان کے دل کی یہ کیفیت نہیں رہتی ان کے دل میں صبر و سکون اور ٹھہراؤ پیدا ہو جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
انسان بےصبرا، بخیل اور کنجوس بھی ہے ٭٭
یہاں انسانی جبلت کی کمزوری بیان ہو رہی ہے کہ ’ یہ بڑا ہی بے صبرا ہے ‘، مصیبت کے وقت تو مارے گھبراہٹ اور پریشانی کے باؤلا سا ہو جاتا ہے، گویا دل اڑ گیا اور گویا اب کوئی آس باقی نہیں رہی، اور راحت کے وقت بخیل کنجوس بن جاتا ہے اللہ تعالیٰ کا حق بھی ڈکار جاتا ہے۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
{ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”بدترین چیز انسان میں بے حد بخیلی اور اعلیٰ درجہ کی نامردی ہے۔“ ۱؎ [سنن ابوداود:2511،قال الشيخ الألباني:صحیح]
پھر فرمایا کہ ’ ہاں اس مذموم خصلت سے وہ لوگ دور ہیں جن پر خاص فضل الٰہی ہے اور جنہیں توفیق خیر ازل سے مل چکی ہے، جن کی صفتیں یہ ہیں کہ وہ پورے نمازی ہیں، وقتوں کی نگہبانی کرنے، واجبات نماز کو اچھی طرح بجا لانے، سکون اطمینان اور خشوع خضوع سے پابندی کے ساتھ نماز ادا کرنے والے ‘۔
جیسے فرمایا «قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:2-1]، ’ ان ایمان داروں نے نجات پا لی جو اپنی نماز خوف اللہ سے ادا کرتے ہیں ‘۔ ٹھہرے ہوئے بے حرکت کے پانی کو بھی عرب «الْمَاءُ الدَّائِمُ» کہتے ہیں اس سے ثابت ہوا کہ نماز میں اطمینان واجب ہے، جو شخص اپنے رکوع سجدے پوری طرح ٹھہر کر بااطمینان ادا نہیں کرتا وہ اپنی نماز پر دائم نہیں کیونکہ نہ وہ سکون کرتا ہے، نہ اطمینان بلکہ کوئے کی طرح ٹھونگیں مار لیتا ہے اس کی نماز اسے نجات نہیں دلوائے گی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد ہر نیک عمل پر مداوت اور ہمیشگی کرنا ہے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
جیسے کہ نبی علیہ صلوات اللہ کا فرمان ہے کہ { اللہ کو سب سے زیادہ پسند وہ عمل ہے جس پر مداوت کی جائے گو کم ہو }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6464]
خود حضور علیہ السلام کی عادت مبارک بھی یہی تھی کہ جس کام کو کرتے اس پر ہمیشگی کرتے۔
قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”ہم سے ذکر کیا گیا کہ دانیال علیہ السلام پیغمبر نے امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ ”وہ ایسی نماز پڑھے گی کہ اگر قوم نوح ایسی نماز پڑھتی تو ڈوبتی نہیں اور قوم عاد کی اگر ایسی نماز ہوتی تو ان پر بے برکتی کی ہوائیں نہ بھیجی جاتیں اور اگر قوم ثمود کی نماز ایسی ہوتی تو انہیں چیخ سے ہلاک نہ کیا جاتا، پس اے لوگو! نماز کو اچھی طرح پابندی سے پڑھا کرو مومن کا یہ زیور اور اس کا بہترین خلق ہے۔“
پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرماتا ہے ’ ان کے مالوں میں حاجت مندوں کا بھی مقررہ حصہ ہے ‘، سائل اور محروم کی پوری تفسیر سورۃ ذاریات میں گزر چکی ہے۔ یہ لوگ حساب اور جزا کے دن پر بھی یقین کامل اور پورا ایمان رکھتے ہیں اسی وجہ سے وہ اعمال کرتے ہیں جن سے ثواب پائیں اور عذاب سے چھوٹیں، پھر ان کی صفت بیان ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے اور خوف کھانے والے ہیں، جس عذاب سے کوئی عقلمند انسان بے خوف نہیں رہ سکتا ہاں جسے اللہ امن دے اور یہ لوگ اپنی شرمگاہوں کو حرام کاری سے روکتے ہیں جہاں اللہ کی اجازت نہیں اس جگہ سے بچاتے ہیں، ہاں اپنی بیویوں اور اپنی ملکیت کی لونڈیوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں سو اس میں ان پر کوئی ملامت اور عیب نہیں، لیکن جو شخص ان کے علاوہ اور جگہ یا اور طرح اپنی شہوت رانی کر لے وہ یقیناً حدود اللہ سے تجاوز کرنے والا ہے۔
ان دونوں آیتوں کی پوری تفسیر «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں گزر چکی ہے یہاں دوبارہ لانے کی ضرورت نہیں۔ یہ لوگ امانت کے ادا کرنے والے وعدوں اور وعیدوں قول اور قرار کو پورا کرنے والے اور اچھی طرح نباہنے والے ہیں، نہ خیانت کریں نہ بدعہدی اور وعدہ شکنی کریں۔ یہ کل صفتیں مومنوں کی ہیں اور ان کا خلاف کرنے والا منافق ہے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے { منافق کی تین خصلتیں ہیں جب کبھی بات کرے جھوٹ بولے، جب کبھی وعدہ کرے خلاف کرے، جب امانت دیا جائے خیانت کرے } ـ ۱؎ [صحیح بخاری:33]
اور ایک روایت میں { جب کبھی عہد کرے توڑ دے اور جب بھی جھگڑے گالیاں بولے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:33]
یہ اپنی شہادتوں کی بھی حفاظت کرنے والے ہیں ‘ یعنی نہ اس میں کمی کریں نہ زیادتی نہ شہادت دینے سے بھاگیں نہ اسے چھپائیں، «وَمَنْ يَكْتُمْهَا فَإِنَّهُ آثِمٌ قَلْبُهُ» ’ جو چھپا لے وہ گنہگار دل والا ہے ‘۔ ۱؎ [2-البقرة:283]
پھر فرمایا ’ وہ اپنی نماز کی پوری چوکسی کرتے ہیں ‘ یعنی وقت پر ارکان اور واجبات اور مستجات کو پوری طرح بجا لا کر نماز پڑھتے ہیں، یہاں یہ بات خاص توجہ کے لائق ہے کہ ان جنتیوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے شروع وصف میں بھی نماز کی ادائیگی کا بیان کیا اور ختم بھی اسی پر کیا پس معلوم ہوا کہ نماز امر دین میں عظیم الشان کام ہے اور سب سے زیادہ شرافت اور فضیلت والی چیز بھی یہی ہے اس کا ادا کرنا سخت ضروری ہے اور اس کا بندوبست نہایت ہی تاکید والا ہے۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔
سورۃ «قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [23-المؤمنون:1] میں بھی ٹھیک اسی طرح بیان ہوا ہے اور وہاں ان اوصاف کے بعد بیان فرمایا ہے کہ ’ یہی لوگ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے وارث فردوس ہیں ‘ اور یہاں فرمایا ’ یہی لوگ جنتی ہیں اور قسم قسم کی لذتوں اور خوشبوؤں سے عزت و اقبال کے ساتھ مسرور و محفوظ ہیں ‘۔