اس آیت کی تفسیر آیت 13 میں تا آیت 15 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
14۔ 1 یعنی اولاد، بیوی، بھائی اور خاندان یہ ساری چیزیں انسان کو نہایت عزیز ہوتی ہیں، لیکن قیامت والے دن مجرم چاہے گا کہ اس سے فدیے میں یہ عزیز چیزیں قبول کرلی جائیں اور اسے چھوڑ دیا جائے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
14۔ اور جو کچھ بھی زمین میں ہے سب کچھ [9] دے کر اپنے آپ کو بچا لے
[9] اس دنیا میں یہ کیفیت دیکھی جا سکتی ہے کہ بسا اوقات باپ بیٹے پر، بیٹا باپ پر، خاوند بیوی پر، بیوی خاوند پر، ماں بیٹے پر، بیٹا ماں پر، دوست دوست پر فدا ہو جاتا ہے۔ اگرچہ ایسی مثالیں کم ہیں تاہم مل ضرور جاتی ہیں۔ مگر اس دن یہ حال ہو گا کہ مجرم یہ سوچے گا کہ ماں، باپ اور اولاد تو درکنار میری طرف سے ساری دنیا جہنم میں جاتی ہے تو جائے میری بلا سے بس ایک میں جہنم کے عذاب سے بچ جاؤں۔ لیکن اس کی یہ آرزو کبھی پوری نہ ہو سکے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔