ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 81

اِنَّکُمۡ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلۡ اَنۡتُمۡ قَوۡمٌ مُّسۡرِفُوۡنَ ﴿۸۱﴾
بے شک تم تو عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت سے آتے ہو، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔
یعنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر لونڈوں پر گرتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ حد سے نکل جانے والے ہو
تم مردوں کے ساتھ شہوت رانی کرتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر، بلکہ تم تو حد ہی سے گزر گئے ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 81) ➊ {اِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ:} چھوٹے یا بے ریش لڑکوں کے بجائے مردوں کا لفظ ان کے فعل کی قباحت کے مزید اظہار کے لیے استعمال کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ فعل بد تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا، جیسا کہ اس سے پہلی آیت میں ہے: «مَا سَبَقَكُمْ بِهَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِيْنَ» ‏‏‏‏ یعنی تم دوہرے مجرم ہو، ایک اس فعل بد کی وجہ سے، دوسرے اس فعل بد کا آغاز کرنے کی وجہ سے۔ اب قیامت تک اس جرم کے ہر مرتکب کا گناہ اس کے ساتھ ساتھ قوم لوط کی گردن پر بھی ہوتا ہے۔
➋ { شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ:} یہ تیسرا جرم ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تمھاری خواہش نفس پوری کرنے کے لیے جو بیویاں بنائی ہیں انھیں چھوڑ کر مردوں سے خواہش نفس پوری کرتے ہو، یہ تمھاری فطرت مسخ ہونے کی دلیل ہے، پھر بیویوں سے حاجت پوری کرنے میں خواہش نفس پوری کرنے کے ساتھ بہت سی حکمتیں وابستہ ہیں، اولاد کی طلب، گھر کی رونق، دلی سکون، میاں بیوی کی باہمی دوستی کے ساتھ ایک دوسرے پر رحم اور شفقت۔ دیکھیے سورۂ روم(۲۱)۔ جبکہ تمھارا مردوں کے پاس جانا صرف خواہش نفس پوری کرنے کے لیے ہے جو نہایت کمینگی کی بات ہے۔
➌ { مِنْ دُوْنِ النِّسَآءِ:} سورۂ شعراء میں فرمایا: «وَ تَذَرُوْنَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ عٰدُوْنَ» [الشعراء: ۱۶۶] اور انھیں چھوڑ دیتے ہو جو تمھارے رب نے تمھارے لیے تمھاری بیویاں پیدا کی ہیں، بلکہ تم حد سے گزرنے والے لوگ ہو۔ یعنی تم نے اس خبیث فعل کی وجہ سے بیویوں کو چھوڑ رکھا ہے، تم اپنے آپ پر بھی زیادتی کر رہے ہو اور ان مردوں پر بھی جن سے یہ فعل کرتے ہو اور ان عورتوں پر بھی جو تمھاری بیویاں ہیں۔ ذرا غور کرو کہ اس عمل کا نتیجہ تمھاری بیویوں پر کیا مرتب ہو گا؟ ان کی کچھ اور زیادتیوں کا ذکر سورۂ عنکبوت (۲۹) میں بھی کیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ اور یورپ کی اقوام نے ہم جنس پرستی کو جائز قرار دے کر مرد کی مرد اور عورت کی عورت کے ساتھ شادی کو قانونی تحفظ دے رکھا ہے، اب ان کی کوشش یہ ہے کہ مسلم معاشرے میں بھی اس فعل کو جرم نہ سمجھا جائے اور اس کے لیے وہ اپنے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو حق پر قائم رہنے کی اور جہاد فی سبیل اﷲ کے ذریعے سے کفار کی اﷲ تعالیٰ سے علانیہ بغاوت کو کچلنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ اب اﷲ تعالیٰ کا قانون آسمانی عذاب کے بجائے مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دینا ہے، فرمایا: «قَاتِلُوْهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ» ‏‏‏‏ [التوبۃ: ۱۴] ان سے لڑو، اﷲ انھیں تمھارے ہاتھوں سے عذاب دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

81۔ 1 یعنی مردوں کے پاس تم اس بےحیائی کے کام کے لئے محض شہوت رانی کی غرض سے آتے ہو، اس کے علاوہ تمہاری اور کوئی غرض ایسی نہیں ہوتی جو موافق عقل ہو۔ اس لحاظ سے جاہلوں کی طرح تھے یا محض شہوت رانی کے لئے ایک دوسرے پر چڑھتے ہیں۔ 181۔ 2 جو قضائے شہوت کا اصل محل اور حصول لذت کی اصل جگہ ہے۔ یہ ان کی فطرت کے مسخ ہونے کی طرف اشارہ ہے، یعنی اللہ نے مرد کی جنسی لذت کی تسکین کے لئے عورت کی شرم گاہ کو اس کا محل اور موضع بنایا ہے اور ان ظالموں نے اس سے تجاوز کرکے مرد کی دبر کو اس کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ 81۔ 3 لیکن اب یہ فطرت صحیحہ سے انحراف اور حدود الٰہی سے تجاوز کو مغرب کی ' مہذب ' قوموں نے اختیار کرلیا ہے تو یہ انسان کا بنیادی حق قرار پا گیا ہے، جس سے روکنے کا کسی کو حق حاصل نہیں ہے۔ چناچہ اب وہاں لواطت کو قانونی تحفظ حاصل ہوگیا ہے۔ اور یہ سرے سے جرم ہی نہیں رہا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

81۔ تم شہوت رانی کے لئے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آتے ہو۔ تم تو حد سے بڑھے [86] ہوئے لوگ ہو
[86] عمل قوم لوط غیر فطری اور حیوانی سطح سے بھی گرا ہوا فعل ہے:۔
اس لیے کہ یہ فعل فطرت کی وضع کے خلاف ہے اور مرد اور عورت کے جنسی اعضاء کی ساخت ان کے اس فعل بد کی تردید کا کھلا ہوا ثبوت ہے سوا ازیں انسانوں کے علاوہ دوسرے جانور خواہ وہ درندے ہوں یا پالتو ہوں یا پرندے ہوں کوئی بھی ایسی مذموم حرکت نہیں کرتا کہ نر، نر پر کودنے لگے جس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان حیوانات کی سطح سے بھی نیچے اتر آیا ہے۔ اب دیکھیے اگر مرد، مردوں سے اپنی شہوانی اغراض پوری کر لیں تو ایسے معاشرے میں عورتوں کی کیا حیثیت رہ جائے گی۔ اس کے علاوہ اگر عورتیں بھی عورتوں سے لپٹ کر یا کسی دوسرے جانور مثلاً کتے وغیرہ سے اپنی شہوت پوری کر لیں تو گویا سارا معاشرہ فحاشی کے سمندر میں ڈوب جائے گا۔ پھر انسان کی نسل آگے کیسے چلے گی؟ کیا یہ اپنی قوم کو اپنے ہاتھوں تباہ کرنے ہی کا ذریعہ نہیں؟ یہ تو ایسے واضح نتائج ہیں جو ایسے معاشرے کا تصور کرنے سے ہی سامنے آ جاتے ہیں اور جو اس کے دور رس نتائج ہیں وہ بے شمار ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

لوط علیہ السلام کی بدنصیب قوم ٭٭
فرمان ہے کہ لوط علیہ السلام کو بھی ہم نے ان کی قوم کی طرف اپنا رسول بنا کر بھیجا۔ تو ان کے واقعہ کو بھی یاد کر۔ لوط علیہ السلام ہاران بن آزر کے بیٹے تھے، ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپ ہی کے ہاتھ پر ایمان قبول کیا تھا اور آپ ہی کے ساتھ شام کی طرف ہجرت کی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا نبی بنا کر سدوم نامی بستی کی طرف بھیجا۔ آپ نے انہیں اور آس پاس کے لوگوں کو اللہ کی توحید اور اپنی اطاعت کی طرف بلایا۔ نیکیوں کے کرنے، برائیوں کو چھوڑنے کا حکم دیا۔ جن میں ایک برائی اغلام بازی تھی جو ان سے پہلے دنیا سے مفقود تھی۔ اس بدکاری کے موجد یہی ملعون لوگ تھے۔
عمرو بن دینار رحمہ اللہ یہی فرماتے ہیں۔ جامع دمشق کے بانی خلیفہ ولید بن عبدالملک کہتے ہیں: اگر یہ خبر قرآن میں نہ ہوتی تو اس بات کو کبھی نہ مانتا کہ مرد مرد سے حاجت روائی کر لے۔
اسی لیے لوط علیہ السلام نے ان حرام کاروں سے فرمایا کہ تم سے پہلے تو یہ ناپاک اور خبیث فعل کسی نے نہیں کیا۔ عورتوں کو جو اس کام کے لئے تھیں، چھوڑ کر تم مردوں پر ریجھ رہے ہو؟ اس سے بڑھ کر اسراف اور جہالت اور کیا ہو گی؟
چنانچہ اور آیت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’ یہ ہیں میری بچیاں یعنی تمہاری قوم کی عورتیں۔ ‘ ۱؎ [15-الحجر:71]‏‏‏‏ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں ان کی چاہت نہیں۔ ہم تو تمہارے ان مہمان لڑکوں کے خواہاں ہیں۔
مفسرین فرماتے ہیں: جس طرح مرد مردوں میں مشغول تھے، عورتیں عورتوں میں پھنسی ہوئی تھیں۔