ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 76

قَالَ الَّذِیۡنَ اسۡتَکۡبَرُوۡۤا اِنَّا بِالَّذِیۡۤ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۷۶﴾
وہ لوگ جو بڑے بنے ہوئے تھے، انھوں نے کہا بے شک ہم جس پر تم ایمان لائے ہو، اس کے منکر ہیں۔
تو (سرداران) مغرور کہنے لگے کہ جس چیز پر تم ایمان لائے ہو ہم تو اس کو نہیں مانتے
وه متکبر لوگ کہنے لگے کہ تم جس بات پر یقین ﻻئے ہوئے ہو، ہم تو اس کے منکر ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 75 میں تا آیت 77 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

76۔ 1 اس معقول جواب کے باوجود وہ اپنے استکبار اور انکار پر اڑے رہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

76۔ وہ متکبر کہنے لگے: ”جس بات پر تم ایمان لائے ہو، ہم تو اسے ماننے [80] والے نہیں“
[80] قوم کا اکڑ جانا اور استہزا:۔
یہ بھی استہزاء کی ہی ایک قسم ہے یعنی متکبر لوگ جو اپنے آپ کو انتہائی عقل مند سمجھتے تھے، ایمان لانے والے کمزور مسلمانوں سے پوچھتے تھے بھلا صالحؑ کی جس دعوت کی ہمیں سمجھ نہیں آرہی اور ہم اسے غیر معقول باتیں سمجھتے ہیں تم انہیں کیسے معقول سمجھ کر ایمان لے آئے ہو؟ کمزور مسلمانوں نے اپنی ایمانی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ جس بات کو تم غلط کہتے ہو ہم اسی کو معقول اور برحق سمجھ کر ایمان لائے ہیں اور اسے واقعی رسول برحق سمجھتے ہیں۔ متکبر لوگ کہنے لگے ہم تو بہرحال تمہاری احمقانہ باتوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔