اس آیت کی تفسیر آیت 75 میں تا آیت 77 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
76۔ 1 اس معقول جواب کے باوجود وہ اپنے استکبار اور انکار پر اڑے رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ وہ متکبر کہنے لگے: ”جس بات پر تم ایمان لائے ہو، ہم تو اسے ماننے [80] والے نہیں“
[80] قوم کا اکڑ جانا اور استہزا:۔
یہ بھی استہزاء کی ہی ایک قسم ہے یعنی متکبر لوگ جو اپنے آپ کو انتہائی عقل مند سمجھتے تھے، ایمان لانے والے کمزور مسلمانوں سے پوچھتے تھے بھلا صالحؑ کی جس دعوت کی ہمیں سمجھ نہیں آرہی اور ہم اسے غیر معقول باتیں سمجھتے ہیں تم انہیں کیسے معقول سمجھ کر ایمان لے آئے ہو؟ کمزور مسلمانوں نے اپنی ایمانی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے جواب دیا کہ جس بات کو تم غلط کہتے ہو ہم اسی کو معقول اور برحق سمجھ کر ایمان لائے ہیں اور اسے واقعی رسول برحق سمجھتے ہیں۔ متکبر لوگ کہنے لگے ہم تو بہرحال تمہاری احمقانہ باتوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔