قَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖۤ اِنَّا لَنَرٰىکَ فِیۡ سَفَاہَۃٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّکَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿۶۶﴾
اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے جنھوں نے کفرکیا، کہا بے شک ہم یقینا تجھے بہت بڑی بے وقوفی میں (مبتلا) دیکھ رہے ہیں اور بے شک ہم یقینا تجھے جھوٹوں میں سے گمان کرتے ہیں۔
تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں
ان کی قوم میں جو بڑے لوگ کافر تھے انہوں نے کہا ہم تم کو کم عقلی میں دیکھتے ہیں۔ اور ہم بے شک تم کو جھوٹے لوگوں میں سمجھتے ہیں
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 66){ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْ سَفَاهَةٍ:} ان کے نزدیک آباء کی تقلید میں شرک کرنا اور دوسری خرافات اختیار کرنا عین عقل مندی اور اس کی مخالفت بے وقوفی تھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
66۔ 1 یہ کم عقلی ان کے نزدیک یہ تھی کہ بتوں کو چھوڑ کر، جن کی عبادت ان کے آباواجداد سے ہوتی آرہی تھی۔ اللہ واحد کی عبادت کی طرف دعوت دی جا رہی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
66۔ اس کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا: ”ہم تو تجھے کم عقل آدمی [71] دیکھتے ہیں اور ہمارا خیال ہے کہ تم جھوٹے ہو“
[71] زیادہ خداؤں کی ضرورت کا نظریہ اور سیدنا ھودؑ پر کم عقلی کا الزام:۔
مشرکین کسی بھی قوم یا کسی بھی مقام سے تعلق رکھتے ہوں وہ عموماً اللہ تعالیٰ اور اس کی فرمانروائی کو بھی دنیا کے کسی بادشاہ اور اس کی حکمرانی کی طرح خیال کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جیسے بادشاہ اکیلا اپنی مملکت پر فرمانروائی نہیں کر سکتا بلکہ اس نے اپنے بہت سے مددگار و معاون افسر اپنے ماتحت رکھے ہوتے ہیں جنہیں وہ کچھ اختیارات بھی تفویض کرتا ہے اور ان کی مدد ہی سے حکومت کرتا ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی بعض ہستیوں کو بعض چیزوں کے اختیارات تفویض کر رکھے ہیں جن کی مدد سے وہ کائنات کی فرمانروائی کر رہا ہے، گویا وہ اللہ تعالیٰ کو بھی ایک عام انسان کی طرح خیال کرتے ہیں جو اپنی بادشاہی کے انتظام اور اسے چلانے کے لیے دوسروں کا محتاج ہوتا ہے اور بعض ملکوں کے مشرکین یہ ممد و معاون ہستیاں فرشتوں کو قرار دیتے ہیں۔ بعض دیوی دیوتاؤں کو بعض سیاروں کی ارواح کو اور بعض اولیاء اللہ کو۔ ان کی سمجھ میں یہ آہی نہیں سکتا کہ اللہ اکیلا بھی ساری کائنات کا انتظام چلا سکتا ہے۔ اس لیے جب ہودؑ نے انہیں سمجھایا کہ اللہ اکیلا ہی تمہارے سارے کے سارے کام سنوار سکتا ہے اسے کسی معاون کی ضرورت نہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ دو ہی باتیں ہیں یا تو تم کم عقل ہو جسے یہ موٹی سی بات بھی سمجھ میں نہیں آرہی یا پھر تم جھوٹے ہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭
فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔
فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘
یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔
فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8] یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘
یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔
یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔
یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟
ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔
میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔
تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔
میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔
تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247] تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔