ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 65

وَ اِلٰی عَادٍ اَخَاہُمۡ ہُوۡدًا ؕ قَالَ یٰقَوۡمِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۶۵﴾
اور عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو (بھیجا)، اس نے کہا اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں، تو کیا تم نہیں ڈرتے؟
اور (اسی طرح) قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیو خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں؟
اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا۔ انہوں نے فرمایا اے میری قوم! تم اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں، سو کیا تم نہیں ڈرتے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 65){ وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا:} عاد عرب کی ایک قدیم ترین قوم تھی جو جنوبی عرب میں آباد تھی۔ قرآن کے بیان کے مطابق ان کا مسکن احقاف کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور عمان کے درمیان واقع ہے اور اب ربع خالی کے نام سے مشہور ہے۔ یمن کا شہر حضر موت ان کا پایۂ تخت تھا۔ ان کا نسب یوں بیان کیا جاتا ہے: عاد بن عوض بن ارم بن سام بن نوح۔ (ابن کثیر) مگر اس کی صحت اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہود علیہ السلام کی قومِ عاد قرآن میں عادِ ارم یا عادِ اولیٰ کے نام سے مذکور ہے۔ حضر موت کے نزدیک ایک مقام پر ہود علیہ السلام کی قبر بتائی جاتی ہے۔ (المنار) مگر ملا علی قاری نے الموضوعات میں لکھا ہے کہ انبیاء میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ میں سے ابو بکر اور عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کے سوا کسی نبی یا صحابی کی قبر کا کوئی صحیح علم نہیں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

65۔ 1 یہ قوم عاد، عاد اولیٰ ہے جن کی رہائش یمن میں ریتلے پہاڑوں پر تھی اور اپنی قوت و طاقت میں بےمثال تھی۔ ان کی طرف حضرت ہود علیہ السلام، جو اسی قوم کے ایک فرد تھے نبی بن کر آئے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

65۔ اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔ اس نے اپنی قوم کے لوگوں سے کہا: ”اللہ کی عبادت کرو جس کے بغیر تمہارا کوئی الٰہ نہیں۔ [70] کیا تم (اللہ سے) ڈرتے نہیں“
[70] سیدنا ہودؑ کا مرکز تبلیغ:۔
طوفان نوح کے بعد بھی ایک مدت سیدنا نوحؑ زندہ رہے پھر اس طوفان کے تقریباً چھ سو سال بعد سیدنا ہودؑ کو قوم عاد کی طرف بھیجا گیا یہ سام کی اولاد میں سے تھے جو عاد عرب کی قدیم ترین قوم تھی، جس کے افسانے عرب میں زبان زد عام تھے اس قوم کو عاد اولیٰ بھی کہا جاتا ہے اس کی شان و شوکت بھی ضرب المثل تھی اور دنیا سے اس کا نام و نشان تک مٹ جانا بھی ضرب المثل بن گیا تھا۔ اسی شہرت کی وجہ سے عربی زبان میں ہر قدیم چیز کے لیے عادی کا لفظ بولا جاتا ہے۔ آثار قدیمہ کو عادیات کہتے ہیں اور جس زمین کے مالک باقی نہ رہے ہوں یا مدت سے بنجر پڑی ہو اسے عادی الارض کہا جاتا ہے۔ اس قوم کا اصل مسکن احقاف کا علاقہ تھا جو حجاز، یمن اور یمامہ کے درمیان الربع الخالی کے جنوب مغرب میں واقع ہے یہیں سے پھیل کر ان لوگوں نے یمن کے مغربی سواحل اور عمان اور حضرموت سے عراق تک اپنی طاقت کا سکہ رواں کر دیا تھا۔ یہ قوم بڑی قد آور، مضبوط اور سرکش تھی۔ رہنے کے لیے زمین دوز شہروں کے شہر بسا رکھے تھے اور بت پرستی میں بری طرح پھنسے ہوئے تھے۔ سیدنا ہودؑ نے انہیں بت پرستی سے منع کیا اور سمجھایا کہ یہ بت نہ کسی کا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور نہ سنوار سکتے ہیں لہٰذا صرف ایک اللہ کی عبادت کرو جو ہر چیز کا خالق و مالک ہے اور ہر قسم کے اختیارات و تصرفات صرف اسی کے قبضۂ قدرت میں ہیں۔ لہٰذا انہیں اپنی اس غلط روش سے پرہیز کرنا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ہود علیہ السلام اور ان کا رویہ! ٭٭
فرماتا ہے کہ جیسے قوم نوح کی طرف نوح علیہ السلام کو ہم نے بھیجا تھا، قوم عاد کی طرف ہود علیہ السلام کو ہم نے نبی بنا کر بھیجا، یہ لوگ عاد بن ارم بن عوص بن سام بن نوح کی اولاد تھے۔ یہ عاد اولیٰ ہیں۔ یہ جنگل میں ستونوں میں رہتے تھے۔
فرمان ہے «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» [89-الفجر:6-8]‏‏‏‏ یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ عاد، ارم کے ساتھ تیرے رب نے کیا کیا؟ جو بلند قامت تھے۔ دوسرے شہروں میں جن کی مانند لوگ پیدا ہی نہیں کئے گئے۔ ‘
یہ لوگ بڑے قوی، طاقتور اور لمبے چوڑے قد کے تھے۔ جیسے فرمان ہے کہ عادیوں نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور نعرہ لگایا کہ ہم سے زیادہ قوی کون ہے؟ کیا انہیں اتنی بھی تمیز نہیں کہ ان کا پیدا کرنے والا یقیناً ان سے زیادہ قوت و طاقت والا ہے۔ وہ ہماری آیتوں سے انکار کر بیٹھے۔ ان کے شہر یمن میں احقاف تھے، یہ ریتلے پہاڑ تھے۔
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حضر موت کے ایک شخص سے کہا کہ تو نے ایک سرخ ٹیلہ دیکھا ہو گا جس میں سرخ رنگ کی راکھ جیسی مٹی ہے۔ اس کے آس پاس پیلو اور بیری کے درخت بکثرت ہیں، وہ ٹیلہ فلاں جگہ حضر موت میں ہے۔ اس نے کہا: امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ آپ تو اس طرح کے نشان بتا رہے ہیں گویا آپ نے بچشم خود دیکھا ہے۔ آپ نے فرمایا: نہیں دیکھا تو نہیں لیکن ہاں مجھ تک حدیث پہنچی ہے کہ وہیں ہود علیہ السلام کی قبر ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بستیاں یمن میں تھیں۔ اس لیے ان کے پیغمبر وہیں مدفون ہیں۔ آپ ان سب میں شریف قبیلے کے تھے۔ اس لیے کہ انبیاء ہمیشہ حسب نسب کے اعتبار سے عالی خاندان میں ہی ہوتے رہے ہیں لیکن آپ کی قوم جس طرح جسمانی طور سے سخت اور زوردار تھی، اسی طرح دلوں کے اعتبار سے بھی بہت سخت تھی۔ جب اپنے نبی کی زبانی اللہ کی عبادت اور تقویٰ کی نصیحت سنی تو لوگوں کی بھاری اکثریت اور ان کے سردار اور بڑے بول اٹھے کہ تو تو پاگل ہو گیا ہے، ہمیں اپنے بتوں کی ان خوبصورت تصویروں کی عبادت سے ہٹا کر اللہ واحد کی عبادت کی طرف بلا رہا ہے۔
یہی تعجب قریش کو ہوا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس نے سارے معبودوں کو عبادت سے ہٹا کر ایک کی دعوت کیوں دی؟
ہود علیہ السلام نے انہیں جواب دیا کہ مجھ میں تو بیوقوفی کی بفضلہ کوئی بات نہیں۔ میں جو کہہ رہا ہوں وہ اللہ کا فرمودہ ہے۔ اس لیے کہ میں رسول اللہ ہوں۔ رب کی طرف سے حق لایا ہوں۔ وہ رب ہر چیز کا مالک، سب کا خالق ہے۔
میں تو تمہیں کلام اللہ پہنچا رہا ہوں، تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور امانت داری سے حق رسالت ادا کر رہا ہوں۔ یہی وہ صفتیں ہیں جو تمام رسولوں میں یکساں ہوتی ہیں یعنی پیغام حق پہنچانا، لوگوں کی بھلائی چاہنا اور امانت داری کا نمونہ بننا۔
تم میری رسالت پر تعجب نہ کرو بلکہ اللہ کا شکر بجا لاؤ کہ اس نے تم میں سے ایک فرد کو اپنا پیغمبر بنایا کہ وہ تمہیں عذاب الٰہی سے ڈرا دے۔ تمہیں رب کے اس احسان کو بھی فراموش نہ کرنا چاہیئے کہ اس نے تمہیں ہلاک ہونے والوں کے بقایا میں سے بنایا، تمہیں باقی رکھا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ تمہیں قوی ہیکل، مضبوط اور طاقتور کر دیا۔ یہی نعمت طالوت پر تھی کہ انہیں جسمانی اور علمی کشادگی دی گئی تھی۔ ۱؎ [2-البقرة:247]‏‏‏‏ تم اللہ کی نعمتوں کو یاد رکھو تاکہ نجات حاصل کر سکو۔