اَوَ عَجِبۡتُمۡ اَنۡ جَآءَکُمۡ ذِکۡرٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ عَلٰی رَجُلٍ مِّنۡکُمۡ لِیُنۡذِرَکُمۡ وَ لِتَتَّقُوۡا وَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۶۳﴾
اور کیا تم نے عجیب سمجھا کہ تمھارے پاس تمھارے رب کی طرف سے تم میں سے ایک آدمی پر ایک عظیم الشان نصیحت آئی، تاکہ وہ تمھیں ڈرائے اور تاکہ تم بچ جائو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
اور کیا تم اس بات سے تعجب کرتے ہو کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس ایک ایسے شخص کی معرفت، جو تمہاری ہی جنس کا ہے، کوئی نصیحت کی بات آگئی تاکہ وه شخص تم کو ڈرائے اور تاکہ تم ڈرجاؤ اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 63) ➊ { اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ ……:} تمام کافر اقوام کا اعتراض یہی تھا کہ ہمیں میں سے ایک شخص یعنی کوئی انسان رسول کیسے ہو سکتا ہے؟ جیسا کہ آج کل کے کئی کلمہ گو کہتے ہیں کہ جو نبی ہو وہ انسان کیسے ہو سکتا ہے؟ دونوں کی اصل مشکل ایک ہی ہے۔ نوح علیہ السلام کا جواب یہ تھا کہ اس میں تعجب کی کیا بات ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے تم میں سے ایک آدمی کے ذریعے سے تمھاری طرف نصیحت بھیجی، تاکہ وہ نمونہ بنے، تمھیں خبردار کرے اور تم اﷲ سے ڈرو اور تم پر رحم ہو جائے۔ فرشتے یا کسی اور مخلوق کو بھیجنے سے یہ مقصد کبھی حاصل نہ ہوتا۔
➋ {وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ:} اشارہ فرمایا کہ انبیاء کی دعوت قبول کر لینے سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور یہی تقویٰ آخرت میں رحمت کا سبب بنے گا۔ (رازی)
➋ {وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ:} اشارہ فرمایا کہ انبیاء کی دعوت قبول کر لینے سے دلوں میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے اور یہی تقویٰ آخرت میں رحمت کا سبب بنے گا۔ (رازی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
63۔ 1 حضرت نوح ؑ اور حضرت آدم ؑ کے درمیان دس قرنوں یا دس پشتوں کا فاصلہ ہے، حضرت نوح ؑ کے کچھ پہلے تک تمام لوگ اسلام پر قائم چلے آرہے تھے پھر سب سے پہلے توحید سے انحراف اس طرح آیا کہ اس قوم کے صالحین فوت ہوگئے تو ان کے عقیدت مندوں نے ان پر سجدہ گاہیں (عبادت خانے) قائم کردیں اور ان کی تصویریں بھی وہاں لٹکا دیں، مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح ان کی یاد سے وہ بھی اللہ کا ذکر کریں گے اور ذکر الٰہی میں ان کی مشابہت اختیار کریں گے۔ جب کچھ وقت گزرا تو انہوں نے تصویروں کے مجسمے بنا دیئے اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ مجسمے بتوں کی شکل اختیار کر گئے اور ان کی پوجا پاٹ شروع ہوگئی اور قوم نوح کے یہ صالحین معبود بن گئے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ؑ کو ان میں نبی بنا کر بھیجا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی۔ لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا، کسی نے آپ کی تبلیغ کا اثر قبول نہیں کیا بالآخر اہل ایمان کے سوا سب کو غرق کردیا گیا۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ قوم نوح نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان ہی میں کا ایک آدمی نبی بن کر آگیا جو انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہے؟ یعنی ان کے خیال میں نبوت کے لئے انسان موزوں نہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
63۔ کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے پاس نصیحت تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک ایسے آدمی کے ذریعہ آئی ہے جو تمہی [66] میں سے ہے؟ تاکہ وہ تمہیں (برے انجام سے) ڈرائے اور تم نافرمانی سے بچو اور تم پر رحم کیا جائے
[66] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء کی دعوت کے جواب میں منکرین کی طرف سے ایک ہی جیسے اعتراضات کیے جاتے رہے ہیں ایسے ہی اعتراضات میں سے ایک یہ ہے کہ تم ہمارے ہی جیسے آدمی ہو کر اللہ کے رسول کیسے ہو سکتے ہو۔ اس مقام پر گو اس اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا تاہم بہت سے مقامات پر اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ انسانوں کی ہدایت کا اس کے سوا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں کہ انہی میں سے ایک رسول مبعوث کیا جائے جو انہی کی زبان میں انہیں اللہ کا پیغام پہنچا سکے۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
نوح علیہ السلام پر کیا گزری؟ ٭٭
نوح علیہ السلام اپنی قوم سے فرما رہے ہیں کہ تم اس بات کو انوکھا اور تعجب والا نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے لطف و کرم سے کسی انسان پر اپنی وحی نازل فرمائے اور اسے اپنی پیغمبری سے ممتاز کر دے تاکہ وہ تمہیں ہو شیار کر دے۔ پھر تم شرک و کفر سے الگ ہو کر عذاب الٰہی سے نجات پا لو اور تم پر گو نا گوں رحمتیں نازل ہوں۔
نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔
پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔
جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔
نوح علیہ السلام کی ان دلیلوں اور وعظوں سے ان سنگدلوں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ یہ انہیں جھٹلاتے رہے، مخالفت سے باز نہ آئے، ایمان قبول نہ کیا۔ صرف چند لوگ سنور گئے۔
پس ہم نے ان لوگوں کو اپنے نبی علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں بٹھا کر طوفان سے نجات دی اور باقی لوگوں کو تہ آب غرق کر دیا۔ جیسے سورۃ نوح میں فرمایا ہے کہ وہ اپنے گناہوں کے باعث غرق کر دیئے گئے۔ پھر دوزخ میں ڈال دیئے گئے اور کوئی ایسا نہیں تھا جو ان کی کسی قسم کی مدد کرتا۔ یہ لوگ حق سے آنکھیں بند کئے ہوئے تھے، نابینا ہو گئے تھے، راہ حق انہیں آخر تک سجھائی نہ دی۔ پس اللہ نے اپنے نبی علیہ السلام کو، اپنے دوستوں کو نجات دی۔ اپنے اور ان کے دشمنوں کو تہ آب برباد کر دیا۔
جیسے اس کا وعدہ ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ایمانداروں کی ضرور مدد فرمایا کرتے ہیں، دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت میں بھی وہ ان کی امداد کرتا ہے۔ ان پرہیزگاروں کے لئے ہی عافیت ہے۔ انجام کار غالب اور مظفر و منصور یہی رہتے ہیں جیسے کہ نوح علیہ السلام آخر کار غالب رہے اور کفار ناکام و نامراد ہوئے۔ یہ لوگ تنگ پکڑ میں آ گئے اور غارت کر دئیے گئے۔ صرف اللہ کے رسول علیہ السلام کے اسی (۸۰) آدمیوں نے نجات پائی۔ ان ہی میں ایک صاحب جرہم نامی تھے جن کی زبان عربی تھی۔ ابن ابی حاتم میں یہ روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے متصلاً مروی ہے۔