ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 62

اُبَلِّغُکُمۡ رِسٰلٰتِ رَبِّیۡ وَ اَنۡصَحُ لَکُمۡ وَ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۲﴾
میں تمھیں اپنے رب کے پیغامات پہنچاتا ہوں اور تمھاری خیرخواہی کرتا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیرخواہی کرتا ہوں اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بےخبر ہو
تم کو اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں اور میں اللہ کی طرف سے ان امور کی خبر رکھتا ہوں جن کی تم کو خبر نہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 62){ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ:} کیونکہ میری طرف وحی آتی ہے اور تمھاری طرف وحی نہیں آتی۔ (شوکانی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ میں تمہیں اپنے پروردگار کا پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی [65] کر رہا ہوں کیونکہ جو کچھ مجھے اللہ کی طرف سے معلوم ہے اسے تم نہیں جانتے
[65] نوحؑ نے جواب میں کہا کہ گمراہی میں میں نہیں بلکہ تم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ اللہ کا رسول ہونے کی حیثیت سے اس کا پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں اور اگر تم میری دعوت قبول کر لو تو اس میں تمہاری ہی بھلائی اور خیر خواہی ہے ایک تو تمہاری دنیا اور آخرت سنور جائے گی دوسرے عذاب الٰہی سے بچ جاؤ گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔