ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 46

وَ بَیۡنَہُمَا حِجَابٌ ۚ وَ عَلَی الۡاَعۡرَافِ رِجَالٌ یَّعۡرِفُوۡنَ کُلًّۢا بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ وَ نَادَوۡا اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ ۟ لَمۡ یَدۡخُلُوۡہَا وَ ہُمۡ یَطۡمَعُوۡنَ ﴿۴۶﴾
اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور (اس کی) بلندیوں پر کچھ مرد ہوں گے، جو سب کو ان کی نشانی سے پہچانیں گے اور وہ جنت والوں کو آواز دیں گے کہ تم پر سلام ہے۔ وہ اس میں داخل نہ ہوئے ہوں گے اور وہ طمع رکھتے ہوں گے۔
ان دونوں (یعنی بہشت اور دوزخ) کے درمیان (اعراف نام) ایک دیوار ہو گی اور اعراف پر کچھ آدمی ہوں گے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے۔ تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ بھی بہشت میں داخل تو نہیں ہوں گے مگر امید رکھتے ہوں گے
اور ان دونوں کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور اعراف کے اوپر بہت سے آدمی ہوں گے وه لوگ، ہر ایک کو ان کے قیافہ سے پہچانیں گے اور اہل جنت کو پکار کر کہیں گے، السلام علیکم! ابھی یہ اہل اعراف جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46) ➊ {وَ بَيْنَهُمَا حِجَابٌ:} جو جنت اور جہنم کے درمیان ایک دیوار ہو گی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ» ‏‏‏‏ [الحدید: ۱۳] یعنی جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان ایک دیوار بنا دی جائے گی، جس کے اندر کی طرف اﷲ کی رحمت ہو گی اور باہر کی طرف عذاب۔ شاہ ولی اﷲ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وآں مسمی باعراف است۔ یعنی اس دیوار کو اعراف کہا جاتا ہے۔ (فتح الرحمن)
➋ { وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ: الْاَعْرَافِ } یہ { عُرْفٌ} کی جمع ہے اور لغت میں {عَرَفَ يَعْرِفُ مَعْرِفَةً} پہچاننے کو اور { عُرْفٌ} بلند جگہ کو کہتے ہیں، کیونکہ بلند چیز ممتاز ہونے کی وجہ سے آسانی سے پہچانی جاتی ہے، اسی سے مرغ کی کلغی اور گھوڑے کی گردن کے بلند حصے کے بالوں کو { عُرْفٌ} کہتے ہیں، کیونکہ بلندی کی وجہ سے وہ پہچان میں ممتاز ہوتے ہیں، لہٰذا { الْاَعْرَافِ } سے مراد جنتیوں اور جہنمیوں کے درمیان دیوار کی بلندیاں ہیں، جہاں ٹھہرنے والوں کو ایک طرف جنتی اور دوسری طرف جہنمی لوگ نظر آئیں گے، اکثر مفسرین یہی فرماتے ہیں۔
➌ {يَعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِيْمٰىهُمْ: سِيْمَا } کا معنی نشانی ہے، مثلاً جنتیوں کے چہرے سفید اور نورانی ہوں گے اور جہنمیوں کے کالے سیاہ، یا امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وضو کے اعضاء چمک رہے ہوں گے۔ { الْاَعْرَافِ } میں کون لوگ ہوں گے، اس بارے میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں۔ قرطبی نے دس قول ذکر کیے ہیں، ان میں سب سے مشہور قول جسے جمہور مفسرین نے کثرت روایات کی بنا پر ترجیح دی ہے، یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی، اس لیے وہ بیچ میں دیوار پر ہوں گے۔ اس کا ایک قرینہ یہ جملہ بھی ہے: «لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ يَطْمَعُوْنَ» ‏‏‏‏ وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے اور اس کی طمع رکھتے ہوں گے۔
➍ { وَ هُمْ يَطْمَعُوْنَ:} یعنی جنت میں جانے کی امید رکھتے ہوں گے، اس کے دو مطلب ہو سکتے ہیں، ایک یہ کہ اعراف والے ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے، مگر امید رکھتے ہوں گے کہ انھیں آئندہ جنت نصیب ہو گی۔ دوسرے یہ کہ اعراف والے ان لوگوں کو پکاریں گے جن کا جنتی ہونا ان کی علامات دیکھ کر معلوم ہو جائے گا، حالانکہ وہ ابھی حساب کتاب میں مشغول ہونے کی وجہ سے جنت میں داخل نہیں ہوئے ہوں گے۔ (ابن کثیر)
➎ ابن کثیر میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصحاب الاعراف کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جو نافرمانی کرتے ہوئے ماں باپ کی اجازت کے بغیر چلے گئے اور اﷲ کی راہ میں قتل ہو گئے، اب انھیں جنت میں داخلے سے ماں باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور آگ میں داخل ہونے سے انھیں اﷲ کی راہ میں قتل ہونے نے روک دیا۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے ان روایات کے غیر معتبر ہونے کی طرف یہ کہہ کر اشارہ فرمایا کہ مرفوع روایات کی صحت اﷲ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے اور ابن کثیر کی تخریج ہدایۃ المستنیر میں ان تمام روایات کا غیر معتبر ہونا تفصیل سے بیان کر دیا گیا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 ' ان دونوں کے درمیان ' سے مراد جنت دوزخ کے درمیان یا کافروں اور مومنوں کے درمیان ہے۔ حِجَاب، ُ (آڑ) سے وہ فصیل (دیوار) مراد ہے جس کا ذکر سورة حدید میں ہے: (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ) 57۔ الحدید:13) پس ان کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی جائے گی، جس میں ایک دروازہ ہوگا یہی اعراف کی دیوار ہے۔ 46۔ 2 یہ کون ہونگے؟ ان کی تعین میں مفسرین کے درمیان خاصا اختلاف ہے۔ اکثر مفسرین کے نزدیک یہ وہ لوگ ہونگے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر ہوں گی۔ ان کی نیکیاں جہنم میں جانے سے اور برائیاں جنت میں جانے سے مانع ہونگی اور یوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قطعی فیصلہ ہونے تک وہ درمیان میں معلق رہیں گے۔ 46۔ 3 سیماء کے معنی علامت کے ہیں جنتیوں کے چہرے روشن اور جہنمیوں کے چہرے سیاہ اور آنکھیں نیلی ہونگی۔ اس طرح وہ دونوں قسم کے لوگوں کو پہچان لیں گے۔ 46۔ 4 یہاں یَطْمَعُوْنَ کے معنی بعض لوگوں نے یَعْلَمُوْن کے کئے ہیں یعنی ان کو علم ہوگا کہ وہ عنقریب جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان ایک اوٹ [45] حائل ہو گی اور اعراف [46] پر کچھ آدمی ہوں گے جو ہر ایک کو اس کی پیشانی کے نشانات سے پہچانتے ہوں گے۔ وہ اہل جنت کو آواز دیں گے کہ: ”تم پر سلامتی ہو“ یہ اعراف والے ابھی جنت میں داخل تو نہ ہوئے ہوں گے البتہ اس کی امید [47] ضرور رکھتے ہوں گے
[45] اعراف کیا ہے؟
اعراف جنت اور دوزخ کے درمیان ایک اوٹ ہے سورۃ حدید میں اس اوٹ کی یہ تفصیل ملتی ہے کہ وہ ایک دیوار ہو گی جس میں ایک دروازہ ہو گا اس کے بیرونی طرف تو عذاب ہو گا اور اندرونی طرف رحمت [57: 13] یعنی یہ دیوار جنت کے لذائذ اور خوشیوں کو جہنم کی طرف جانے سے اور جہنم کی کلفتوں کو اور آگ کی لپیٹ اور گرمی اور دھوئیں کو جنت کی طرف جانے سے روک دے گی۔
[46] اعراف اور اہل اعراف:۔
اصحاب اعراف کون لوگ ہیں؟ اس کے متعلق بہت سے اقوال ہیں جن میں سے راجح تر یہی قول ہے کہ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں برابر برابر ہوں گی وہ اس مقام پر مقیم ہوں گے ان کے ایک طرف اہل جنت ہوں گے جنہیں وہ ان کے نورانی چہروں کی بدولت پہچانتے ہوں گے اور دوسری طرف اہل دوزخ ہوں گے جن کی رو سیاہی اور کالی کلوٹی رنگت کی بنا پر انہیں بھی پہچانتے ہوں گے۔
[47] اس آیت کے دو مطلب بیان کیے گئے ہیں ایک یہ کہ جو لوگ جنت میں داخل ہو چکے ہوں گے انہیں دیکھ کر اصحاب اعراف انہیں سلام علیکم کہیں گے اور ان اصحاب اعراف کی اپنی کیفیت یہ ہو گی کہ وہ بھی جنت میں داخل ہونے کی توقع رکھتے ہوں گے دوسرے یہ کہ کئی اہل جنت ابھی حساب و کتاب سے فارغ نہ ہوئے ہوں گے مگر اصحاب اعراف ان کے نورانی چہرے دیکھ کر پہچان لیں گے کہ وہ جنتی ہیں تو انہیں سلام علیکم کے بعد جنت کی خوشخبری دیں گے اور ان حساب کتاب میں مشغول لوگوں کی اپنی کیفیت یہ ہو گی کہ گو وہ ابھی تک جنت میں داخل نہ ہوئے ہوں گے تاہم وہ اس کی امید ضرور رکھتے ہوں گے۔
جنت میں دیدار الٰہی:۔
اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان مکالمہ، اصحاب اعراف کا ان سے مکالمہ اور ان کو بعید مقامات سے دیکھ کر پہچان لینے اور ایک دوسرے کی آوازیں سن کر ان کا جواب دینے کو اور روز محشر کے احوال کو موجودہ قوتوں اور عقل سے جانچنا درست نہیں اور اس کی تائید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین سے فرمایا کہ ”اس دن تم اپنے پروردگار کو اس طرح بلا تکلف دیکھ سکو گے جس طرح چاند کو دیکھ رہے ہو اور تمہیں کوئی رکاوٹ محسوس نہ ہو گی“ [بخاري۔ كتاب التوحيد باب ﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَيِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 75۔ القيامة: 22] حالانکہ اس دنیا میں موجودہ آنکھوں سے دیدار الٰہی نا ممکن ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

جنت اور جہنم میں دیوار اور اعراف والے ٭٭
جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک حجاب، حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے۔ اسی دیوار کا ذکر آیت «فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب» ۱؎ [57-الحديد:13]‏‏‏‏ میں ہے یعنی ’ ان کے درمیان ایک دیوار حائل کر دی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ ‘
اسی کا نام «الْأَعْرَافِ» ہے۔ «الْأَعْرَاف» «عرف» کی جمع ہے، ہر اونچی زمین کو عرب میں «عرفہ» کہتے ہیں۔ اسی لیے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں «عرف الدیک» کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: یہ ایک اونچی جگہ ہے، جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔
سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کا نام «اعراف» اس لیے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔
یہاں کون لوگ ہوں گے؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں۔ سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برابر ہوں گی، بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ سیدنا حذیفہ، سیدنا ابن عباس، سیدنا سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔
ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے۔ اور سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں، سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت کے بغیر نکلے پھر اللہ کی راہ میں قتل کر دیئے گئے۔ } ۱؎ [الدر المنشور للسیوطی:164/3:ضعیف]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے کہ { یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14713:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے۔ بہت ممکن ہے، یہ موقوف روایتیں ہوں گی۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جا سکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے۔ یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو۔
اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا: جاؤ جنت میں داخل ہو جاؤ، میں نے تمہیں بخشا۔
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہو گا۔ ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہو گا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہو گی تو دوزخ میں جائے گا۔ پھر آپ نے «فَمَن ثَقُلَتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِينُهُ فَأُولَـٰئِكَ الَّذِينَ خَسِرُوا أَنفُسَهُمْ فِي جَهَنَّمَ خَالِدُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:102-103]‏‏‏‏ سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا: ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی سے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہو جاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوئیں، یہ اعراف والے ہیں۔ یہ ٹھہرا لیے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہو جائیں گے۔ یہ جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔
نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا۔ ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں، ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا۔ اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہو گا، انہیں جنت میں جانے کی طمع ہو گی، لوگو! ایک نیکی دس گنا کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے، جتنی ہو۔ افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آ جائیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے، اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہو گا تو حکم ملے گا: انہیں نہر حیات کی طرف لے جاؤ۔ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے، اس کی مٹی مشک خالص ہو گی، اس میں غوطہٰ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہو جائے گا جس سے وہ پہچان لیے جائیں گے۔ یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے،
اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جو چاہو، مانگو۔ یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا۔ پھر فرمائے گا: ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہو گی۔ جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہو گا۔ یہی روایت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہو گا۔ رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کر چکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کر لیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے۔ اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں۔ جاؤ! جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:14723:مرسل و ضعیف]‏‏‏‏
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔
ابن عساکر میں فرمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ { مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں، انہیں عذاب بھی ہو گا۔ ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: وہ اعراف پر ہوں گے، جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے۔ ہم نے پوچھا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اعراف کیا ہے؟ فرمایا: جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں۔ } ۱؎ [بیہقی فی البعث:117:ضعیف جداً]‏‏‏‏ (‏‏‏‏بیہقی)
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ صالح دیندار فقہاء علما لوگ ہوں گے۔
ابومجاز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ فرشتے ہیں، جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کی تلاوت کی اور فرمایا: سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن و امان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے بلکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے۔ کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا، غرابت سے خالی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
قرطبی رحمہ اللہ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے۔ یہ یہاں اسی لیے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کر لیں اور سب کو پہچان لیں۔ یہ جنتیوں سے سلام کریں گے، جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے۔ یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لیے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہو چکا ہے۔
جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار! ہمیں ظالموں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں۔ جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہو جائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہو جائے گی۔ جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہو گی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہو گا۔