قَالَ ادۡخُلُوۡا فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ فِی النَّارِ ؕ کُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّۃٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ادَّارَکُوۡا فِیۡہَا جَمِیۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰىہُمۡ لِاُوۡلٰىہُمۡ رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِہِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ۬ؕ قَالَ لِکُلٍّ ضِعۡفٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۸﴾
فرمائے گا ان جماعتوں کے ہمراہ جو جنوں اور انسانوں میں سے تم سے پہلے گزر چکی ہیں، آگ میں داخل ہو جائو۔ جب بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنے ساتھ والی کو لعنت کرے گی، یہاں تک کہ جس وقت سب ایک دوسرے سے آملیں گے تو ان کی پچھلی جماعت اپنے سے پہلی جماعت کے متعلق کہے گی اے ہمارے رب! ان لوگوں نے ہمیں گمراہ کیا، تو انھیں آگ کا دگنا عذاب دے۔ فرمائے گا سبھی کے لیے دگنا ہے اور لیکن تم نہیں جانتے۔
تو خدا فرمائے گا کہ جنّوں اور انسانوں کی جو جماعتیں تم سے پہلے ہو گزری ہیں ان کے ساتھ تم بھی داخل جہنم ہو جاؤ۔ جب ایک جماعت (وہاں) جا داخل ہو گئی تو اپنی (مذہبی) بہن (یعنی اپنے جیسی دوسری جماعت) پر لعنت کرے گی۔ یہاں تک کہ جب سب اس میں داخل ہو جائیں گے تو پچھلی جماعت پہلی کی نسبت کہے گی کہ اے پروردگار! ان ہی لوگوں نے ہم کو گمراہ کیا تھا تو ان کو آتش جہنم کا دگنا عذاب دے۔ خدا فرمائے گا کہ (تم) سب کو دگنا (عذاب دیا جائے گا) مگر تم نہیں جانتے
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جو فرقے تم سے پہلے گزر چکے ہیں جنات میں سے بھی اور آدمیوں میں سے بھی، ان کے ساتھ تم بھی دوزخ میں جاؤ۔ جس وقت بھی کوئی جماعت داخل ہوگی اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو پچھلے لوگ پہلے لوگوں کی نسبت کہیں گے کہ ہمارے پروردگار ہم کو ان لوگوں نے گمراه کیا تھا سو ان کو دوزخ کا عذاب دو گنا دے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب ہی کا دوگنا ہے، لیکن تم کو خبر نہیں
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 38) ➊ {قَالَ ادْخُلُوْا فِيْۤ اُمَمٍ ……:} اس میں بھی کفار کی حالت کا بیان ہے، اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام کفار ایک ساتھ جہنم میں نہیں جائیں گے، بلکہ ان میں سے کچھ پہلے ہوں گے، کچھ بعد میں جائیں گے۔ (رازی)
➋ { كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا: ” اُخْتٌ “} کا معنی بہن ہوتا ہے، یعنی ہر بعد میں داخل ہونے والی امت اپنی پہلی ہم مذہب امت پر لعنت کرے گی جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہو گی، مثلاً یہودی دوسرے یہودیوں پر، دہریے دوسرے دہریوں پر، نصاریٰ دوسرے نصاریٰ پر، مشرکین اور ندائے غیر اﷲ والے دوسرے مشرکین اور غیر اﷲ کو پکارنے والوں پر۔
➌ { حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا: ” ادَّارَكُوْا “} اصل میں {” تَدَارَكُوْا “} ہے، یعنی ایک دوسرے کو آ ملیں گے۔
➍ {قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ:} یعنی جہنم میں بعد میں داخل ہونے والے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں، یا پیروی کرنے والے عوام اپنے سرداروں اور پیشواؤں کے بارے میں کہیں گے۔
➎ {رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا ……:} یعنی ہم تو اپنے ان پہلوں کی تقلید میں یا انھی کی باتوں میں آ کر ایمان کے بجائے شرک و بدعت اور منکرات کی راہ پر چلتے رہے، ہمیں گمراہ کرنے والے یہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۶۷، ۶۸)۔
➏ {لِكُلٍّ ضِعْفٌ: } ہر ایک کے لیے ایک عذاب کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اگر خود گمراہ ہوئے تو پچھلوں نے ان کا کہا مانا اور خود غور و فکر نہ کیا، لہٰذا دونوں مجرم ہوئے۔ اور دگنا عذاب ہونے کی وجہ یہ کہ پہلوں نے انھیں گمراہ کیا تو انھوں نے بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کیا، لہٰذا دونوں دگنے عذاب کے حق دار ٹھہرے۔ رازی نے لکھا ہے کہ جہنم کا عذاب چونکہ مسلسل اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہو گا اور ایک دور کے بعد دوسرا دور شروع ہو جائے گا، اس اعتبار سے ہر ایک کے لیے {” ضِعْفٌ “} ”دگنا“ قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نحل(۸۸)۔ دونوں گروہوں کا ایسا ہی مکالمہ سورۂ سبا (۳۱، ۳۲) میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
➋ { كُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّةٌ لَّعَنَتْ اُخْتَهَا: ” اُخْتٌ “} کا معنی بہن ہوتا ہے، یعنی ہر بعد میں داخل ہونے والی امت اپنی پہلی ہم مذہب امت پر لعنت کرے گی جو اس سے پہلے جہنم میں داخل ہو گی، مثلاً یہودی دوسرے یہودیوں پر، دہریے دوسرے دہریوں پر، نصاریٰ دوسرے نصاریٰ پر، مشرکین اور ندائے غیر اﷲ والے دوسرے مشرکین اور غیر اﷲ کو پکارنے والوں پر۔
➌ { حَتّٰۤى اِذَا ادَّارَكُوْا فِيْهَا جَمِيْعًا: ” ادَّارَكُوْا “} اصل میں {” تَدَارَكُوْا “} ہے، یعنی ایک دوسرے کو آ ملیں گے۔
➍ {قَالَتْ اُخْرٰىهُمْ لِاُوْلٰىهُمْ:} یعنی جہنم میں بعد میں داخل ہونے والے پہلے داخل ہونے والوں کے بارے میں، یا پیروی کرنے والے عوام اپنے سرداروں اور پیشواؤں کے بارے میں کہیں گے۔
➎ {رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوْنَا ……:} یعنی ہم تو اپنے ان پہلوں کی تقلید میں یا انھی کی باتوں میں آ کر ایمان کے بجائے شرک و بدعت اور منکرات کی راہ پر چلتے رہے، ہمیں گمراہ کرنے والے یہی ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۶۷، ۶۸)۔
➏ {لِكُلٍّ ضِعْفٌ: } ہر ایک کے لیے ایک عذاب کی وجہ یہ ہے کہ پہلے اگر خود گمراہ ہوئے تو پچھلوں نے ان کا کہا مانا اور خود غور و فکر نہ کیا، لہٰذا دونوں مجرم ہوئے۔ اور دگنا عذاب ہونے کی وجہ یہ کہ پہلوں نے انھیں گمراہ کیا تو انھوں نے بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کیا، لہٰذا دونوں دگنے عذاب کے حق دار ٹھہرے۔ رازی نے لکھا ہے کہ جہنم کا عذاب چونکہ مسلسل اور کبھی ختم نہ ہونے والا ہو گا اور ایک دور کے بعد دوسرا دور شروع ہو جائے گا، اس اعتبار سے ہر ایک کے لیے {” ضِعْفٌ “} ”دگنا“ قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ نحل(۸۸)۔ دونوں گروہوں کا ایسا ہی مکالمہ سورۂ سبا (۳۱، ۳۲) میں بھی ذکر کیا گیا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
38۔ 1 امم امۃ کی جمع ہے مراد وہ فرقے اور گروہ ہیں جو کفر شقاق اور شرک و تکذیب میں ایک جیسے ہوں گے۔ فی بمعنی مع بھی ہوسکتا ہے۔ یعنی تم سے پہلے انسانوں اور جنوں میں جو گروہ تم جیسے یہاں آچکے ہیں ان کے ساتھ جہنم میں داخل ہوجاؤ یا ان میں شامل ہوجاؤ۔ (لَّعْنَتُ اُخْتَھَا) اپنی دوسری جماعت کو لعنت کرے گی۔ اُخْت " بہن " کو کہتے ہیں۔ ایک جماعت (امت) کو دوسری جماعت (امت) کی بہن بہ اعتبار دین، یا گمراہی کے کہا گیا۔ یعنی دونوں ہی ایک غلط مذہب کے پیرو یا گمراہ تھے یا جہنم کے ساتھی ہونے کے اعتبار سے ان کو ایک دوسری کی بہن قرار دیا گیا ہے۔ 38۔ 2 اِدَّارَکُوْا کے معنی ہیں تَدَارَکُوْا۔ جب ایک دوسرے کو ملیں گے اور باہم اکٹھے ہونگے۔ 38۔ 3 اخری (پچھلے) سے مراد بعد میں داخل ہونے والے اور اولی (پہلے) سے مراد ان سے پہلے داخل ہونے والے ہیں۔ یا اخری سے مراد اتباع پیروکار اور اولی سے متبوع لیڈر اور سردار مراد ہیں۔ ان کا جرم چونکہ زیادہ شدید ہے کہ خود بھی راہ حق سے دور ہو رہے ہیں اور دوسروں کو بھی کوشش کرکے اس سے دور رکھا، اس لئے یہ اپنے پیرو کاروں سے پہلے جہنم میں جائیں گے۔ 38۔ 4 جس طرح ایک دوسرے مقام پر فرمایا گیا۔ جہنمی کہیں گے، اے ہمارے رب! ہم تو اپنے سرداروں اور بڑوں کے پیچھے لگے رہے، پس انہوں نے ہمیں سیدھے راستے سے گمراہ کیا، یا اللہ ان کو دوگنا عذاب دے اور ان کو بڑی لعنت کر۔ 38۔ 5 یعنی ایک دوسرے کو طعنے دینے، کو سنے اور ایک دوسرے پر الزام دھرنے سے کوئی فائدہ نہیں، تم سب ہی اپنی اپنی جگہ بڑے مجرم ہو اور تم سب ہی دوگنے عذاب کے مستحق ہو۔ ان کا یہ مکالمہ سورة سبا۔ 31، 23 میں بیان کیا گیا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
38۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ”اچھا تو تم بھی انہی جماعتوں میں شامل ہو جاؤ جو تم سے پہلے جنوں اور انسانوں کی جماعتیں دوزخ میں داخل ہو چکی ہیں۔ جب بھی کوئی جماعت (دوزخ میں) داخل ہو گی تو اپنی پیش رو جماعت پر لعنت کرے گی یہاں تک کہ جب سب کی سب جماعتیں دوزخ میں جمع ہو جائیں گی تو ہر پچھلی جماعت اپنے سے پہلے والی جماعت کے متعلق کہے گی: ”ہمارے پروردگار! یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا، لہذا ان کو آگ کا [38] دگنا عذاب دے“ اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ ”تم سبھی کے لئے دگنا ہے [39] لیکن یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آرہی“
[38] یہاں پہلی اور پچھلی جماعت سے مراد ایک ہی جنس کے اسلاف اور اخلاف ہیں مثلاً یہود یا نصاریٰ یا مشرکین یا مسلمانوں میں سے ایک فریق گمراہ کرنے والا اور دوسرا فریق گمراہ ہونے والا۔ گمراہ ہونے والے اللہ تعالیٰ سے کہیں گے یا اللہ ہمارے ان اسلاف کو دوگنا عذاب کر۔ اس لیے کہ وہ خود تو گمراہ ہوئے ہی تھے ہمیں بھی اپنے ساتھ لے ڈوبے اور گمراہ کرنے والے اپنے اخلاف سے کہیں گے کہ ملعونو! اگر ہم گڑھے میں گر گئے تھے تو کیا تم اندھے ہو گئے تھے جو اسی گڑھے میں تم بھی گر گئے۔ آخر تمہارا جرم کس لحاظ سے کم ہے؟ گویا دونوں اپنے گناہ اور بدبختی ایک دوسرے کے سر تھوپنے کی کوشش کریں گے۔ [39] مکافات عمل کے تقاضے:۔
اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ سب کے لیے دگنا عذاب ہے اس لیے کہ مکافات عمل کا یہی تقاضا ہے۔ ایک شخص مثلاً زید ایک شرکیہ رسم ایجاد کرتا ہے اب اس کا بیٹا، پھر پوتا، پھر پڑپوتا اور اسی طرح اگلی نسلیں اس شرکیہ رسم کو ادا کرتی چلی جاتی ہیں تو زید کو یہی نہیں کہ صرف اپنے شرکیہ رسم ایجاد کرنے کی سزا ملے گی۔ بلکہ بعد میں آنے والے جتنے لوگ اس شرکیہ رسم کو بجا لائیں گے تو زید کو بھی ان کے گناہ سے حصہ رسدی پہنچے گا اور اس کے اعمال نامے میں درج ہوتا رہے گا۔ زید کے بیٹے اور اس سے آگے پوتوں پڑپوتوں کا جرم صرف یہی نہیں کہ وہ اپنے باپ کی شرکیہ رسم کیوں بجا لاتے رہے۔ بلکہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے بلاتحقیق اور اللہ کے فرمانبرداروں کے سمجھانے کے باوجود اپنے آباء و اجداد کی تقلید کیوں کی جبکہ تقلید آباء بذات خود گناہ کبیرہ اور شرک کے مترادف ہے۔ پھر زید کے بیٹے اور ان سے آگے چلنے والی نسلوں کے لوگوں کو صرف اپنے ہی جرم کی سزا نہیں ملے گی بلکہ ان کے بعد ایسا عمل کرنے والوں کے گناہ میں سے بھی حصہ پہنچتا رہے گا اس لحاظ سے کسی بھی شرکیہ یا بدعیہ رسم کا موجد اور اس کے مقلدین اپنے جرم کی سزا کے علاوہ کئی گنا زیادہ سزا کے مستوجب بن جاتے ہیں۔ مکافات عمل (یعنی کسی عمل کا پورا پورا بدلہ دئیے جانے) کی اس بنیاد کو قرآن کریم میں متعدد بار دہرایا گیا ہے۔ مثلاً جہاں آدمؑ کے قاتل بیٹے کا قصہ بیان کیا تو فرمایا: ”اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا تھا کہ جس کسی نے کسی کو ناحق قتل کیا تو اس نے گویا سب لوگوں کو قتل کیا۔“ [5: 32] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جہاں بھی کوئی ناحق قتل ہوتا ہے تو اس قتل کے گناہ کا کچھ حصہ آدمؑ کے اس بیٹے کے کھاتے میں بھی ڈالا جاتا ہے جس نے یہ طرح ڈالی۔“ نیز اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا: ”کہ ہم ایسے لوگوں کے لیے عذاب پر مزید عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے۔“ [16: 88] نیز فرمایا کہ ”وہ اپنے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے علاوہ دوسروں کے گناہوں کا بوجھ بھی۔“ [29: 13] اور ایک مقام پر فرمایا: ”وہ ان لوگوں کے گناہوں کا بوجھ بھی اٹھائیں گے جنہیں انہوں نے بغیر علم کے گمراہ کیا تھا۔“ [16: 25] اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی اچھے کام کی طرح ڈالی تو اس پر عمل کرنے والوں کے ثواب سے اس طرح ڈالنے والے کو بھی ملتا رہے گا اور جس نے کسی برے کام کی طرح ڈالی تو اس پر عمل کرنے والوں کی سزا میں سے حصہ رسدی اسے بھی ملتا رہے گا۔“ [مسلم۔ كتاب العلم، باب من سن سنة حسنة او سيئة]
مکافات عمل کے لئے یوم آخرت ضروری ہے:۔
مکافات عمل کے اس اصول کا تقاضا یہ ہے کہ انسان کو مرنے کے بعد طویل بلکہ لامحدود مدت کی زندگی حاصل ہوتا کہ وہ اپنے کیے کی پوری پوری جزاء و سزا پا سکے مثلاً دیکھئے ایک شخص پچاس آدمیوں کو ناحق قتل کرتا ہے تو ایک شخص کے قتل کے عوض تو قصاص کے طور پر اس کی جان لی جا سکتی ہے یا برطانوی قانون کے مطابق اسے 14 سال یا 21 سال یا عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ باقی 49 آدمیوں کے قتل کی سزا وہ یہاں کیسے بھگت سکتا ہے یا مثلاً ایک شخص جنگ کا فتنہ برپا کرنے کا سبب بنتا ہے جس میں لاکھوں انسان ناحق مر جاتے ہیں تو اس کے اس جرم کی سزا اسے اس دنیا میں کیسے دی جا سکتی ہے؟ جبکہ اس کی عمر کی مدت محدود ہے اور سزا کے لیے لامحدود مدت درکار ہے۔ لہٰذا مکافات عمل کا اور عدل کا تقاضا یہی ہے کہ مرنے کے بعد انسان کو لامحدود زندگی حاصل ہوتا کہ اسے اس کے اعمال کی پوری پوری جزا یا سزا دی جا سکے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
کفار کی گردنوں میں طوق ٭٭
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مشرکوں کو جو اللہ پر افتراء باندھتے تھے، اس کی آیتوں کو جھٹلاتے تھے، فرمائے گا کہ تم بھی اپنے جیسوں کے ساتھ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں خواہ وہ جنات میں سے ہوں خواہ انسانوں میں سے جہنم میں جاؤ۔ «فِي النَّارِ» یا تو «فِي أُمَمٍ» کا بدل ہے یا «فِي أُمَمٍ» میں «فِي» معنی میں «مع» کے ہے۔
ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے۔“ الخ
اور آیت میں ہے «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» ۱؎ [2-البقرة:166-167] یعنی ’ وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ ہم سے بیزار ہیں، ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کے لئے سراسر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ ‘
ہر گروہ اپنے ساتھ کے اپنے جیسے گروہ پر لعنت کرے گا۔ جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ”تم ایک دوسرے سے اس روز کفر کرو گے۔“ الخ
اور آیت میں ہے «إِذْ تَبَرَّأَ الَّذِينَ اتُّبِعُوا مِنَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا وَرَأَوُا الْعَذَابَ وَتَقَطَّعَتْ بِهِمُ الْأَسْبَابُ وَقَالَ الَّذِينَ اتَّبَعُوا لَوْ أَنَّ لَنَا كَرَّةً فَنَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ كَمَا تَبَرَّءُوا مِنَّا كَذَٰلِكَ يُرِيهِمُ اللَّـهُ أَعْمَالَهُمْ حَسَرَاتٍ عَلَيْهِمْ وَمَا هُم بِخَارِجِينَ مِنَ النَّارِ» ۱؎ [2-البقرة:166-167] یعنی ’ وہ ایسا برا وقت ہو گا کہ گرو اپنے چیلوں سے دست بردار ہو جائیں گے، عذابوں کو دیکھتے ہی آپس کے سارے تعلقات ٹوٹ جائیں گے۔ مرید لوگ اس وقت کہیں گے کہ اگر ہمیں بھی یہاں سے پھر واپس دنیا میں جانا مل جائے تو جیسے یہ لوگ ہم سے بیزار ہیں، ہم بھی ان سے بالکل ہی دست بردار ہو جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ اسی طرح ان کے کرتوت ان کے سامنے لائے گا جو ان کے لئے سراسر موجب حسرت ہوں گے اور یہ دوزخ سے کبھی آزاد نہ ہوں گے۔ ‘
یہاں فرماتا ہے کہ جب یہ سارے کے سارے جہنم میں جا چکیں گے تو پچھلے یعنی تابعدار اور مرید اور تقلید کرنے والے اگلوں سے یعنی جن کی وہ مانتے رہے، ان کی بابت اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ گمراہ کرنے والے ان سے پہلے ہی جہنم میں موجود ہوں گے کیونکہ ان کا گناہ بھی بڑھا ہوا تھا۔ کہیں گے کہ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:66] ’ جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ کے رسول کے مطیع ہوتے۔ یااللہ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ ‘
انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کے لئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔
جیسے فرمان ہے «اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن» ۱؎ [16-النحل:88] ’ جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا، ان کا ہم اب عذاب اور زیادہ کریں گے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] یعنی ’ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ ‘
اور آیت میں ہے: ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔
چنانچہ اور آیت میں ہے «يَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوهُهُمْ فِي النَّارِ يَقُولُونَ يَا لَيْتَنَا أَطَعْنَا اللَّـهَ وَأَطَعْنَا الرَّسُولَا وَقَالُوا رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سَادَتَنَا وَكُبَرَاءَنَا فَأَضَلُّونَا السَّبِيلَا رَبَّنَا آتِهِمْ ضِعْفَيْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَالْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِيرًا» ۱؎ [33-الأحزاب:66] ’ جبکہ ان کے چہرے آتش جہنم میں ادھر سے ادھر جھلسے جاتے ہوں گے۔ اس وقت حسرت و افسوس کرتے ہوئے کہیں گے کہ کاش کہ ہم اللہ کے رسول کے مطیع ہوتے۔ یااللہ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی تابعداری کی جنہوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یااللہ! انہیں دگنا عذاب کر۔ ‘
انہیں جواب ملا کہ ہر ایک کے لئے دگنا ہے۔ یعنی ہر ایک کو اس کی برائیوں کا پورا پورا بدلہ مل چکا ہے۔
جیسے فرمان ہے «اَلَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِيْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا يُفْسِدُوْن» ۱؎ [16-النحل:88] ’ جنہوں نے کفر کیا اور راہ رب سے روکا، ان کا ہم اب عذاب اور زیادہ کریں گے۔ ‘
اور آیت میں ہے «وَلَيَحْمِلُنَّ اَثْــقَالَهُمْ وَاَثْــقَالًا مَّعَ اَثْقَالِهِمْ ۡ وَلَيُسْـَٔــلُنَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَمَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ» ۱؎ [29-العنكبوت:13] یعنی ’ اپنے بوجھ کے ساتھ ان کے بوجھ بھی اٹھائیں گے۔ ‘
اور آیت میں ہے: ان کے بوجھ ان پر لادے جائیں گے جن کو انہوں نے بےعلمی سے گمراہ کیا۔
اب وہ جن کی مانی جاتی رہی، اپنے ماننے والوں سے کہیں گے کہ جیسے ہم گمراہ تھے، تم بھی گمراہ ہوئے۔ اب اپنے کرتوت کا بدلہ اٹھاؤ۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [34-سبأ:31-33] ’ کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار، بدکردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں! تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ نہ کم، نہ زیادہ (پورا پورا)۔
اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِندَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُم بَلْ كُنتُم مُّجْرِمِينَ وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَن نَّكْفُرَ بِاللَّـهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَندَادًا وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [34-سبأ:31-33] ’ کاش کہ تو دیکھتا جب کہ یہ گنہگار اللہ کے سامنے کھڑے ہوئے ہوں گے۔ ایک دوسرے پر الزام رکھ رہے ہوں گے۔ ضعیف لوگ متکبروں سے کہیں گے کہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن بن جاتے۔ وہ جواب دیں گے کہ کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا؟ وہ تو تمہارے سامنے کھلی ہوئی موجود تھی۔ بات یہ ہے کہ تم خود ہی گنہگار، بدکردار تھے۔ یہ پھر کہیں گے کہ نہیں نہیں! تمہاری دن رات کی چالاکیوں نے اور تمہاری اس تعلیم نے (کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے شریک ٹھہرائیں) ہمیں گم کردہ راہ بنا دیا۔ بات یہ ہے کہ سب کے سب اس وقت سخت نادم ہوں گے لیکن ندامت کو دبانے کی کوشش میں ہوں گے۔ کفار کی گردنوں میں طوق پڑے ہوں گے اور انہیں ان کے اعمال کا بدلہ ضرور دیا جائے گا۔ نہ کم، نہ زیادہ (پورا پورا)۔