ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 3

اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾
اس کے پیچھے چلو جو تمھاری طرف تمھارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے اور اس کے سوا اور دوستوں کے پیچھے مت چلو۔ بہت کم تم نصیحت قبول کرتے ہو۔ En
(لوگو) جو (کتاب) تم پر تمہارے پروردگار کے ہاں نازل ہوئی ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا اور رفیقوں کی پیروی نہ کرو (اور) تم کم ہی نصیحت قبول کرتے ہو
En
تم لوگ اس کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے آئی ہے اور اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر من گھڑت سرپرستوں کی اتباع مت کرو تم لوگ بہت ہی کم نصیحت پکڑتے ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) {اِتَّبِعُوْا مَاۤ اُنْزِلَ اِلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ:} رسالت (پیغام پہنچانے) کا معاملہ تین افراد کے درمیان ہوتا ہے: {مُرْسِلٌ } پیغام بھیجنے والا، یعنی اﷲ تعالیٰ،{ مُرْسَلْ } جسے پیغام دے کر بھیجا جائے، یعنی رسول اور { مُرْسَلٌ اِلَيْهِ } جس کی طرف پیغام بھیجا جائے، یعنی امت۔ پچھلی آیت میں رسول کو انذار (ڈرانے) اور تذکیر (نصیحت کرنے) کا حکم ہے، اس آیت میں امت کو صرف اﷲ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام کی پیروی کا اور اس کے علاوہ کسی بھی دوسرے کی پیروی نہ کرنے کا حکم ہے، کیونکہ اﷲ کے نازل کردہ کے سوا کسی بھی دوسرے کی پیروی کرنا اﷲ کے مقابلے میں غیر اﷲ (من دون اﷲ) کو اولیاء بنانا ہے۔ حکم صرف اﷲ کا حق ہے، جسے پہنچانا رسول کی ذمہ داری ہے اور رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف قرآن اور حدیث دونوں وحی کے ذریعے سے نازل ہوئے، اس لیے رسول کا ہر حکم اﷲ کا حکم ہے، سو اسی کی پیروی کرو، قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی کی بات مت مانو، خواہ وہ کتنا ہی بڑا امام، بزرگ، محقق یا دانش ور ہو، ہر ایک کی بات کو قرآن و حدیث کی کسوٹی پر پرکھا جائے گا۔ «اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ» ‏‏‏‏ [المائدۃ: ۳] کے مطابق دین کا ہر مسئلہ قرآن و حدیث میں موجود ہے۔ اگر کوئی بات قرآن و حدیث میں صریح الفاظ میں نہ ملے تو کسی آیت یا حدیث میں اس کی طرف اشارہ ضرور ہو گا، اس کے لیے کسی بھی بڑے عالم سے پوچھ سکتے ہیں۔ کسی ایک ہی کی ہر بات کی تقلید، خواہ وہ صحیح ہو یا غلط، تو یہ {مِنْ دُونِهِ اَوْلِيَاءَ} کی طرف لے جائے گی، جس سے اﷲ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 جو اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے، یعنی قرآن، اور جو رسول اللہ نے فرمایا یعنی حدیث، کیونکہ آپ نے فرمایا کہ ' میں قرآن اور اس کی مثل اس کے ساتھ دیا گیا ہوں۔ ' ان دونوں کی پیروی ضروری ہے ان کے علاوہ کسے کا اتباع (پیروی) ضروری ٰ نہیں بلکہ ان کا انکار لازمی ہے۔ جیسے کہ اگلے فقرے میں فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر دوسروں کی پیروی مت کرو۔ جس طرح زمانہء جاہلیت میں سرداروں اور نجومیوں کاہنوں کی بات کو ہی اہمیت دی جاتی تھی حتیٰ کہ حلال اور حرام میں بھی ان کو سند تسلیم کیا جاتا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ (لوگو) جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار سے نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو۔ اس کے علاوہ [4] دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔ تھوڑے ہی تم نصیحت مانتے ہو
[4] اسلام میں باہر سے کوئی نظریہ:
یہاں اولیاء سے مراد پیشوا اور قائدین ہیں یعنی انسانی زندگی کے لیے جو قوانین اس کتاب میں مذکور ہیں آپ صرف انہیں کا اتباع کیجئے۔ آج بھی غیرمسلم قائدین سے مسلمانوں کو کسی طرح کے قواعد و احکام اسلام میں درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہی کہ وہ مسائل شرعیہ علمائے یہود سے پوچھیں، زہد اور رہبانیت کے لیے ہندی اور یونانی فلسفہ کے محتاج ہوں اپنا معاشی نظام لینن اور کارل مارکس سے حاصل کریں یا روس اور چین سے درآمد کریں۔ سیاسی نظام کے لیے امریکی جمہوریت کو اسلام کے اندر لا گھسائیں بلکہ انسانی زندگی کی ہر طرح کی ضرورت کے لیے انہیں یہ کتاب اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کافی ہے مگر آج کے مسلمان یہ بات ذرا کم ہی سوچتے ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔