قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾
کہہ دے میرے رب نے انصاف کا حکم دیا ہے اور اپنے رخ ہر نماز کے وقت سیدھے رکھو اور اس کے لیے دین کو خالص کرتے ہوئے اس کو پکارو۔ جس طرح اس نے تمھاری ابتدا کی، اسی طرح تم دوبارہ پیدا ہو گے۔
کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ کہ ہر نماز کے وقت سیدھا (قبلے کی طرف) رخ کیا کرو اور خاص اسی کی عبادت کرو اور اسی کو پکارو۔ اس نے جس طرح تم کو ابتداء میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم پھر پیدا ہوگے
آپ کہہ دیجیئے کہ میرے رب نے حکم دیا ہے انصاف کا اور یہ کہ تم ہر سجده کے وقت اپنا رخ سیدھا رکھا کرو اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طور پر کرو کہ اس عبادت کو خالص اللہ ہی کے واسطے رکھو۔ تم کو اللہ نے جس طرح شروع میں پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوباره پیدا ہوگے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 29) ➊ {قُلْ اَمَرَ رَبِّيْ بِالْقِسْطِ:} لہٰذا تم اس کی پیروی کرو۔ یہاں{ ” اَلْقِسْطُ“} (انصاف) سے مراد توحید ہے، پھر بے حیائی اور بدکاری سے بچنا ہے، کیونکہ سب سے بڑا ظلم اﷲ کے ساتھ شرک ہے، فرمایا: «اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ» [لقمان: ۱۳] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“ پھر کسی انسان کی جان، مال یا آبرو برباد کرنا بڑا ظلم ہے اور سب سے بڑا انصاف اﷲ تعالیٰ کی توحید کی شہادت ہے، جیسا کہ اﷲ تعالیٰ کے اس فرمان سے معلوم ہوتا ہے: «{شَهِدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۙ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ وَ اُولُوا الْعِلْمِ قَآىِٕمًۢا بِالْقِسْطِ}» [آل عمران: ۱۸] ”اﷲ نے گواہی دی کہ بے شک حقیقت یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور فرشتوں نے اور علم والوں نے بھی، اس حال میں کہ وہ انصاف پر قائم ہے۔“
➋ {وَ اَقِيْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ: ” مَسْجِدٍ “} سے مصدر میمی، ظرف زمان اور ظرف مکان تینوں مراد ہو سکتے ہیں۔ مصدر میمی ہو تو اس کا معنی سجدہ بھی ہے اور نماز بھی، جیسے{ ” رَكْعَةٌ “} کا معنی رکوع بھی ہے اور نماز میں قیام، رکوع، قومہ، سجدہ اور قراء ت وغیرہ کے مجموعہ کو بھی {” رَكْعَةٌ “} کہا جاتا ہے اور سجدہ بھی اور قیام بھی۔ یعنی جز بول کر کُل مراد لیا جاتا ہے، تو معنی ہو گا ہر نماز میں۔ اگر مراد زمان ہو تو ہر سجدے یا نماز کے وقت اور مکان ہو تو ہر سجدے یا نماز کی جگہ اپنے رخ سیدھے کر لو، یعنی قبلہ کی طرف، یا جیسے اﷲ کے رسول نے حکم دیا ہے اس طرح اپنے چہروں، یعنی اپنے آپ کو سیدھا کر لو اور ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نماز پڑھو۔
➌ {وَ ادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ: ” الدِّيْنَ “ } کا معنی یہاں عبادت ہے، یعنی خالصتاً اس کی عبادت کرو اور اس کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو، مراد ریا سے بچنا ہے۔ الغرض اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ جو عبادت شرک یا ممنوع چیزوں، مثلاً ننگے ہونے یا ریا وغیرہ پر مشتمل ہو وہ فواحش میں داخل ہے۔ (رازی) خلاصہ یہ کہ ہر عبادت کے لیے توحید، اتباع رسول اور اخلاص (ریا سے پاک ہونا) تینوں چیزیں ضروری ہیں، ورنہ وہ مردود ہو گی۔
➍ { كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ:} یعنی جس طرح تم پہلے کچھ نہ تھے، اﷲ نے کسی مشکل کے بغیر تمھیں پیدا فرمایا، اسی طرح تمھارے مر جانے کے بعد وہ تمھیں دوبارہ نہایت آسانی سے زندہ کر دے گا اور جس طرح تم پیدا ہوئے تو تمھارے پاس کچھ نہ تھا اور بغیر ختنے اور لباس کے تھے، ایسے ہی دوبارہ زندہ ہوتے وقت ہو گے۔
➋ {وَ اَقِيْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ: ” مَسْجِدٍ “} سے مصدر میمی، ظرف زمان اور ظرف مکان تینوں مراد ہو سکتے ہیں۔ مصدر میمی ہو تو اس کا معنی سجدہ بھی ہے اور نماز بھی، جیسے{ ” رَكْعَةٌ “} کا معنی رکوع بھی ہے اور نماز میں قیام، رکوع، قومہ، سجدہ اور قراء ت وغیرہ کے مجموعہ کو بھی {” رَكْعَةٌ “} کہا جاتا ہے اور سجدہ بھی اور قیام بھی۔ یعنی جز بول کر کُل مراد لیا جاتا ہے، تو معنی ہو گا ہر نماز میں۔ اگر مراد زمان ہو تو ہر سجدے یا نماز کے وقت اور مکان ہو تو ہر سجدے یا نماز کی جگہ اپنے رخ سیدھے کر لو، یعنی قبلہ کی طرف، یا جیسے اﷲ کے رسول نے حکم دیا ہے اس طرح اپنے چہروں، یعنی اپنے آپ کو سیدھا کر لو اور ان کے بتائے ہوئے طریقے پر نماز پڑھو۔
➌ {وَ ادْعُوْهُ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ: ” الدِّيْنَ “ } کا معنی یہاں عبادت ہے، یعنی خالصتاً اس کی عبادت کرو اور اس کو پکارنے اور اس کی عبادت کرنے میں کسی دوسرے کو شریک نہ کرو، مراد ریا سے بچنا ہے۔ الغرض اس آیت میں تین باتوں کا حکم دیا ہے، جس کا معنی یہ ہے کہ جو عبادت شرک یا ممنوع چیزوں، مثلاً ننگے ہونے یا ریا وغیرہ پر مشتمل ہو وہ فواحش میں داخل ہے۔ (رازی) خلاصہ یہ کہ ہر عبادت کے لیے توحید، اتباع رسول اور اخلاص (ریا سے پاک ہونا) تینوں چیزیں ضروری ہیں، ورنہ وہ مردود ہو گی۔
➍ { كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَ:} یعنی جس طرح تم پہلے کچھ نہ تھے، اﷲ نے کسی مشکل کے بغیر تمھیں پیدا فرمایا، اسی طرح تمھارے مر جانے کے بعد وہ تمھیں دوبارہ نہایت آسانی سے زندہ کر دے گا اور جس طرح تم پیدا ہوئے تو تمھارے پاس کچھ نہ تھا اور بغیر ختنے اور لباس کے تھے، ایسے ہی دوبارہ زندہ ہوتے وقت ہو گے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 انصاف سے مراد یہاں بعض کے نزدیک لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ یعنی توحید ہے۔ 29۔ 2 امام شوکانی نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ' اپنی نمازوں اپنا رخ قبلے کی طرف کرلو، چاہے تم کسی بھی مسجد میں ہو ' اور امام ابن کثیر نے اس سے استقامت بمعنی متابعت رسول مراد لی ہے اور اگلے جملے سے اخلاص اللہ اور کہا ہے کہ ہر عمل کی مقبولیت کے لئے ضروری ہے کہ وہ شریعت کے مطابق ہو اور دوسرے خالص رضائے الٰہی کے لئے ہو آیت میں ان باتوں کی تاکید کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ آپ کہیے کہ ”میرے پروردگار نے تو انصاف کا حکم دیا ہے اور اس بات کا کہ ہر مسجد میں نماز کے وقت اپنی توجہ ٹھیک اسی کی طرف رکھو اور اس کی مکمل حاکمیت تسلیم کرتے ہوئے خالصتاً اسی کو پکارو“ جس طرح اس نے تمہیں پہلے پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر [27] پیدا کئے جاؤ گے
[27] مشرکوں نے طواف کعبہ کے دوران اللہ کے ساتھ اپنے دوسرے معبودوں کو پکارنے اور ننگا طواف کرنے کی رسوم ایجاد تو خود کر لی تھیں اور ذمے اللہ کے لگا رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا کہ اللہ نے جو حکم نہیں دیا وہ تو تم اس کے ذمے لگاتے ہو اور جو حکم دیا ہے وہ کرتے نہیں۔ اس نے حکم یہ دیا ہے کہ جو بات کرو انصاف کی کرو، خواہ مخواہ جرم کسی اور کے ذمے نہ لگاؤ اپنی زندگی عدل اور راستی پر استوار کرو جب بھی عبادت کے لیے کسی مسجد میں جاؤ تو تمہاری توجہ صرف اللہ ہی کی طرف ہونا چاہیے، خالصتاً اسی کی عبادت کرو اس میں دوسروں کو شریک نہ بناؤ اور یہ ملحوظ رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا و سزا دینے کا پورا اختیار رکھتا ہے نیز یہ کہ جس طرح تم اکیلے اکیلے دنیا میں آئے تھے بعینہٖ اسی طرح حساب و کتاب کے دن اللہ تعالیٰ کے حضور اکیلے اکیلے حاضر کیے جاؤ گے وہاں تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس بھی ہو گی اور جزا و سزا بھی ملے گی۔ تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
کہہ دے کہ رب العالمین کا حکم تو عدل و انصاف کا ہے، استقامت اور دیانت داری کا ہے، برائیوں اور گندے کاموں کو چھوڑنے کا ہے، عبادات ٹھیک طور پر بجا لانے کا ہے۔ جو اللہ کے سچے رسولوں کے طریقہ کے مطابق ہوں، جن کی سچائی ان کے زبردست معجزوں سے اللہ نے ثابت کر دی ہے، ان کی لائی ہوئی شریعت پر اخلاص کے ساتھ عمل کرتے ہوں۔ جب تک اخلاص اور پیغمبر کی تابعداری کسی کام میں نہ ہو، اللہ کے ہاں وہ مقبول نہیں ہوتا۔
اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا۔ دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت میں بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا۔ پہلے تم کچھ نہیں تھے، اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی، اسی طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا۔
اس نے جس طرح تمہیں اول اول پیدا کیا ہے، اسی طرح وہ دوبارہ بھی لوٹائے گا۔ دنیا میں بھی اسی نے پیدا کیا، آخرت میں بھی وہی قبروں سے دوبارہ پیدا کرے گا۔ پہلے تم کچھ نہیں تھے، اس نے تمہیں بنایا۔ اب مرنے کے بعد پھر بھی وہ تمہیں زندہ کر دے گا۔ جیسے اس نے شروع میں تمہاری ابتداء کی تھی، اسی طرح پھر سے تمہارا اعادہ کرے گا۔
چنانچہ حدیث میں بھی ہے: { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک وعظ میں فرمایا: لوگو! تم اللہ کے سامنے ننگے پیروں، ننگے بدنوں، بےختنہ جمع کئے جاؤ گے۔ جیسے کہ ہم نے تمہیں پیدائش میں کیا تھا اسی کو پھر دوہرائیں گے۔ یہ ہمارا وعدہ ہے اور ہم اسے کر کے ہی رہنے والے ہیں۔ } یہ روایت بخاری و مسلم میں بھی نکالی گئی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4625]
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے، ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے: جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔
یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے، وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا، گو درمیان میں نیک ہو گیا ہو۔ اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے، وہ انجام کار نیک ہی ہو گا، گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہو جائیں گے۔
جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔
یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کر چکا ہے، ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔
یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی۔ جیسے فرمان ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ» ۱؎ [64-التغابن:2] پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔
اسی قول کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6594]
دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6493]
اور حدیث میں ہے: { ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2878] (مسلم)
یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ جیسے ہم نے لکھ دیا ہے، ویسے ہی تم ہوؤ گے۔ ایک روایت میں ہے: جیسے تمہارے اعمال تھے ویسے ہی تم ہوؤ گے۔
یہ بھی معنی ہیں کہ جس کی ابتداء میں بدبختی لکھ دی ہے، وہ بدبختی اور بداعمالی کی طرف ہی لوٹے گا، گو درمیان میں نیک ہو گیا ہو۔ اور جس کی تقدیر میں شروع سے ہی نیکی اور سعادت لکھ دی گئی ہے، وہ انجام کار نیک ہی ہو گا، گو اس سے کسی وقت برائی کے اعمال بھی سرزد ہو جائیں گے۔
جیسے کہ فرعون کے زمانے کے جادوگر کہ ساری عمر سیاہ کاریوں اور کفر میں کٹی لیکن آخر وقت مسلمان اولیاء ہو کر مرے۔
یہ بھی معنی ہیں کہ اللہ تم میں سے ہر ایک کو ہدایت پر یا گمراہی پر پیدا کر چکا ہے، ایسے ہی ہو کر تم ماں کے بطن سے نکلو گے۔
یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابن آدم کی پیدائش مومن و کافر ہونے کی حالت میں کی۔ جیسے فرمان ہے «هُوَ الَّذِي خَلَقَكُمْ فَمِنكُمْ كَافِرٌ وَمِنكُم مُّؤْمِنٌ» ۱؎ [64-التغابن:2] پھر انہیں اسی طرح قیامت کے دن لوٹائے گا یعنی مومن و کافر کے گروہوں میں۔
اسی قول کی تائید صحیح بخاری کی اس حدیث سے بھی ہوتی ہے جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: { اس کی قسم جس کے سوا کوئی اور معبود نہیں کہ تم میں سے ایک شخص جنتیوں کے اعمال کرتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک بام بھر کا یا ہاتھ بھر کا فرق رہ جاتا ہے۔ پھر اس پر لکھا ہوا سبقت کر جاتا ہے اور دوزخیوں کے اعمال شروع کر دیتا ہے اور اسی میں داخل ہو جاتا ہے اور کوئی جہنمیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے یہاں تک کہ جہنم سے ایک ہاتھ یا ایک بام دور رہ جاتا ہے کہ تقدیر کا لکھا آگے آ جاتا ہے اور وہ جنتیوں کے اعمال کرنے لگتا ہے اور جنت نشین ہو جاتا ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6594]
دوسری روایت بھی اسی طرح کی ہے۔ اس میں یہ بھی ہے کہ { اس کے وہ کام لوگوں کی نظروں میں جہنم اور جنت کے ہوتے ہیں۔ اعمال کا دارومدار خاتمے پر ہے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:6493]
اور حدیث میں ہے: { ہر نفس اسی پر اٹھایا جائے گا جس پر تھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2878] (مسلم)
ایک اور روایت میں ہے: { جس پر مرا۔ } ۱؎
اگر اس آیت سے مراد یہی لی جائے تو اس میں اس کے بعد فرمان «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» ۱؎ [30-الروم:30] میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775]
اور صحیح مسلم کی حدیث میں { فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا۔ پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865]
اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کے لئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھٹی میں رکھ دیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے مقدر کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔
جیسے فرمان ہے: اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔
اور حدیث میں ہے: { ہر شخص صبح کرتا ہے، پھر اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:223] اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا، اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی، پھر رہنمائی کی۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں، ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں، ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1362]
چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ایک فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آ جائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں، ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہیئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا۔ ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے، پڑھ لیجئے۔
اگر اس آیت سے مراد یہی لی جائے تو اس میں اس کے بعد فرمان «فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّـهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا» ۱؎ [30-الروم:30] میں اور بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { ہر بچہ فطرت پر پیدا کیا جاتا ہے۔ پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4775]
اور صحیح مسلم کی حدیث میں { فرمان باری ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و حنیف پیدا کیا۔ پھر شیطان نے ان کے دین سے انہیں بہکا دیا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865]
اس میں کوئی جمع کی وجہ ہونی چاہیئے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے انہیں دوسرے حال میں مومن و کافر ہونے کے لئے پیدا کیا۔ گو پہلے حال میں تمام مخلوق کو اپنی معرفت و توحید پر پیدا کیا تھا کہ اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔ جیسے کہ اس نے ان سے روز میثاق میں عہد بھی لیا تھا اور اسی وعدے کو ان کی جبلت گھٹی میں رکھ دیا تھا۔ اس کے باوجود اس نے مقدر کیا تھا کہ ان میں سے بعض شقی اور بدبخت ہوں گے اور بعض سعید اور نیک بخت ہوں گے۔
جیسے فرمان ہے: اسی نے تمہیں پیدا کیا پھر تم میں سے بعض کافر ہیں اور بعض مومن۔
اور حدیث میں ہے: { ہر شخص صبح کرتا ہے، پھر اپنے نفس کی خرید و فروخت کرتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسے آزاد کرا لیتے ہیں۔ کچھ ایسے ہیں جو اسے ہلاک کر بیٹھتے ہیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:223] اللہ کی تقدیر، اللہ کی مخلوق میں جاری ہے، اسی نے مقدر کیا، اسی نے ہدایت کی، اسی نے ہر ایک کو اس کی پیدائش دی، پھر رہنمائی کی۔
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جو لوگ سعادت والوں میں سے ہیں، ان پر نیکوں کے کام آسان ہوں گے اور جو شقاوت والے ہیں، ان پر بدیاں آسان ہوں گی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:1362]
چنانچہ قرآن کریم میں ہے: ایک فرقے نے راہ پائی اور ایک فرقے پر گمراہی ثابت ہو چکی۔ پھر اس کی وجہ بیان فرمائی کہ انہوں نے اللہ کو چھوڑ کر شیطانوں کو دوست بنا لیا ہے۔ اس آیت سے اس مذہب کی تردید ہوتی ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو کسی معصیت کے عمل پر یا کسی گمراہی کے عقیدے پر عذاب نہیں کرتا تاوقتیکہ اس کے پاس صحیح چیز صاف آ جائے اور پھر وہ اپنی برائی پر ضد اور عناد سے جما رہے۔ کیونکہ اگر یہ مذہب صحیح ہوتا تو جو لوگ گمراہ ہیں لیکن اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے ہیں اور جو واقعی ہدایت پر ہیں، ان میں کوئی فرق نہ ہونا چاہیئے تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں فرق کیا۔ ان کے نام میں بھی اور ان کے احکام میں بھی۔ آیت آپ کے سامنے موجود ہے، پڑھ لیجئے۔