ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 199

خُذِ الۡعَفۡوَ وَ اۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾
در گزر اختیار کر اور نیکی کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کر۔
(اے محمدﷺ) عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو
آپ درگزر کو اختیار کریں نیک کام کی تعلیم دیں اور جاہلوں سے ایک کناره ہو جائیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 199) ➊ {خُذِ الْعَفْوَ:} یعنی توحید کی دعوت کے جواب میں آپ کو مشرکوں اور جاہلوں کی طرف سے بہت تکلیف اٹھانا پڑے گی۔ دیکھیے آل عمران (۱۸۶) اور بقرہ (۱۰۹) آپ اس کے مقابلے میں درگزر سے کام لیں۔ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حسن اخلاق کی تعلیم دی ہے اور آپ کے واسطے سے ہر وہ شخص مخاطب ہے جو اسلام کی دعوت کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے، جیسے فرمایا: «{ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ [النحل: ۱۲۵] اور ان سے اس طریقے سے بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ اور فرمایا: «{ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ [آل عمران: ۱۵۹] اور اگر تو بدخلق سخت دل ہوتا تو یقینا وہ تیرے گرد سے منتشر ہو جاتے۔
➋ {وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ: عَرَفَ يَعْرِفُ} سے مصدر بمعنی معروف ہے، وہ بات جس کا اچھا ہونا فطرتِ انسانی پہچانتی ہے اور شریعت اس کی تائید کرتی ہے۔ یعنی درگزر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ انھیں نیکی کا حکم دینا چھوڑ دیں، بلکہ عفو و درگزر کا تعلق حسن اخلاق سے ہے۔
➌ { وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِيْنَ:} اگر وہ ضد پر اڑ کر مخالفانہ رویہ اختیار کریں اور بے فائدہ تکرار کریں تو بجائے الجھنے کے آپ خاموشی اختیار کریں، خواہ وہ اس خاموشی کو کوئی معنی پہنا دیں۔ امید ہے کہ اس سے ان کے رویے میں تبدیلی پیدا ہو گی اور ان کی جارحیت کا وار خالی جائے گا۔ دیکھیے سورۂ قصص (۵۵) اور فرقان (۶۳) بعض علماء نے فرمایا کہ عفو و درگزر کا یہ حکم مکہ میں تھا، مدینہ میں جا کر قتال اور اقامتِ حدود کا حکم نازل ہوا تو یہ منسوخ ہو گیا۔ دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۰۹) مگر اس کے بعد بھی جو لوگ مسلمانوں میں سے جہالت اختیار کریں، جیسے منافق یا وہ کفار جن سے جنگ نہیں ہو رہی، ان سے درگزر کرنے، نیکی کا حکم دینے اور ان کی جہالت سے اعراض کا حکم اب بھی ہے، بلکہ دعوت کے وقت ان چیزوں کا خیال ہمیشہ رکھنا پڑے گا۔ ہاں حدود کے مجرموں یا جنگ پر آمادہ لوگوں سے ان کے لائق معاملہ کیا جائے گا اور اس کے واضح احکام قرآن و حدیث میں موجود ہیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

199۔ 1 بعض علماء نے اس کے معنی کئے ہیں ' ضرورت سے زائد مال ہو، وہ لے لو ' اور یہ زکوٰۃ کی فضیلت سے قبل کا حکم ہے، لیکن دوسرے مفسرین نے اس سے اخلاقی ہدایت یعنی عفو و درگزر مراد لیا ہے اور امام بن جری اور امام بخاری وغیرہ نے اس کو ترجیح دی ہے، چناچہ امام بخاری نے اس کی تفسیر میں حضرت عمر کا واقعہ نقل کیا ہے کہ عیینہ بن حصن حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آ کر تنقید کرنے لگے کہ آپ زکوٰۃ میں نہ پوری عطاء دیتے ہیں اور نہ ہمارے درمیان انصاف کرتے ہیں جس پر حضرت عمر غضب ناک ہوئے یہ صورت حال دیکھ کر حضرت عمر کے مشیر حر بن قیس نے (جو عیینہ کے بھتیجے تھے) حضرت عمر سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا تھا (درگزر اختیار کیجئے اور نیکی کا حکم دیجئے اور جاہلوں سے پرہیز کیجئیے ' اور یہ بھی جاہلوں میں سے ہے۔ ' جس پر حضرت عمر نے درگزر فرمایا اس کی تائید ان احادیث سے بھی ہوتی ہے جن میں ظلم کے مقابلے میں معاف کردینے، قطع رحمی کے مقابلے میں صلہ رحمی اور برائی کے بدلے احسان کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ 199۔ 2 عُرْف، ُ سے مراد معروف یعنی نیکی ہے۔ 199۔ 3 یعنی جب آپ نیکی کا حکم دینے میں اتمام حجت کر چکیں اور پھر بھی وہ نہ مانیں تو ان سے اعراض فرمالیں اور ان کے جھگڑوں اور حماقتوں کا جواب نہ دیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

199۔ (اے نبی!) درگزر کرنے کا رویہ اختیار کیجئے، معروف کاموں کا حکم دیجئے۔ اور جاہلوں [197] سے کنارہ کیجئے
[197] داعی حق کے لئے ہدایات:۔
1۔ عفو و درگزر
2۔ اچھی باتوں کا حکم
3۔ بحث میں پرہیز
4۔ جوابی کار روائی سے اجتناب
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت مختصر الفاظ میں تین نصیحتیں بیان فرمائی ہیں جو ہر داعی حق کے لیے نہایت اہم ہیں گویا داعی حق کو درپیش مسائل کا حل چند الفاظ میں بیان کر کے دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے اور وہ یہ ہیں۔
1۔ پچھلی چند آیات میں مشرکین کے معبودان باطل پر اور خود مشرکوں پر سنجیدہ الفاظ میں تنقید کی گئی ہے۔ جس کا یہ نتیجہ نکل سکتا ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلنا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں۔ اندریں صورت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو درگزر کرنے کی روش اختیار کرنا چاہیے، حوصلہ اور برداشت سے کام لینا چاہیے۔ اپنے رفقاء کی کمزوریوں پر بھی اور اپنے مخالفین کی اشتعال انگیزیوں پر بھی اپنے مزاج کو ٹھنڈا رکھنا چاہیے کیونکہ دعوت حق کے دوران اشتعال طبع سے بسا اوقات اصلی مقصد کو نقصان پہنچ جاتا ہے اور یہ صفت آپ میں بدرجہ اتم موجود تھی۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا
﴿ فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لهَُمْ ....﴾ [3: 159]
2۔ صاف اور سادہ الفاظ میں ایسی بھلائیوں کی طرف دعوت دینا چاہیے جن کو عقل عامہ تسلیم کرنے کو تیار ہو اور اس انداز میں دینا چاہیے جسے لوگ گرانبار محسوس نہ کریں اس کی بہترین مثال یہ واقعہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معاذ بن جبلؓ کو یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو یہ ہدایات فرمائیں۔ سب سے پہلے لوگوں کو ایک اللہ کی طرف دعوت دو پھر جب وہ اسلام لے آئیں تو انہیں بتلاؤ کہ تمہارے پروردگار نے تم پر دن بھر میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں پھر جب وہ اس پر عمل کرنے لگیں تو پھر بتلانا کہ تمہارے اموال پر اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ فرض کی ہے اور دیکھو زکوٰۃ وصول کرتے وقت ان کے عمدہ عمدہ مال لینے سے اجتناب کرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچتے رہنا، کیونکہ اللہ اور مظلوم کی بددعا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا۔ [بخاري۔ كتاب الزكوٰة۔ باب لاتؤخَذَ كرائم اموال الناس فى الصدقة]
اس حدیث میں دعوت کی ترتیب اور خطاب کا جو انداز بیان کیا گیا ہے اس میں داعی حق کے لیے بے شمار اسباق موجود ہیں نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی داعی کو روانہ فرماتے تو انہیں ارشاد فرماتے:
﴿بَشِّرُوْا وَلاَتُنَفِّرُوْا وَيَسِّرُوْا وَلاَ تُعَسِّرُوْا [بخاري۔ كتاب المغازي۔ باب بعث ابي موسيٰ و معاذ اليٰ يمن]
یعنی جہاں تم جاؤ تمہاری آمد لوگوں کے لیے خوشی کا باعث بنے نفرت کا باعث نہ بنے اور تم لوگوں کے لیے سہولت کا موجب بنو، تنگی اور سختی کا موجب نہ بنو۔
3۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ اعتراض برائے اعتراض اور بحث برائے بحث کرنے والوں سے کنارہ کش رہنے کی کوشش کرو اگر تم ان کی ہی باتوں میں الجھ گئے تو دعوت حق کے فروغ کا کام وہیں رک جائے گا لہٰذا ایسے لوگوں کے اعتراضات اور طعن و تشنیع کا جواب دینے میں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے بلکہ ان سے بے نیاز ہو کر اپنا سفر جاری رکھنا چاہیے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اچھے اعمال کی نشاندہی ٭٭
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ ان سے وہ مال لے جو ان کی ضرورت سے زیادہ ہوں اور جسے یہ بخوشی اللہ کی راہ میں پیش کریں۔ پہلے چونکہ زکوٰۃ کے احکام تفصیل کے ساتھ نہیں اترے تھے، اس لیے یہی حکم تھا۔
یہ بھی معنی کئے گئے ہیں کہ ضرورت سے زائد چیز اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا کرو۔
یہ بھی مطلب ہے کہ مشرکین سے بدلہ نہ لو۔ دس سال تک تو یہی حکم رہا کہ درگزر کرتے رہو، پھر جہاد کے احکام اترے۔
یہ بھی مطلب ہے کہ لوگوں کے اچھے اخلاق اور عمدہ عادات جو ظاہر ہوں، انہی پر نظریں رکھو، ان کے باطن نہ ٹٹولو، تجسس نہ کرو۔
سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما وغیرہ سے بھی یہی تفسیر مروی ہے اور یہی قول زیادہ مشہور ہے۔
حدیث میں ہے کہ { اس آیت کو سن کر جبرائیل علیہ السلام سے آپ نے دریافت کیا کہ اس کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ کہ جو تجھ پر ظلم کرے، تو اس سے درگزر کر۔ جو تجھے نہ دے، تو اس کے ساتھ بھی احسان و سلوک کر۔ جو تجھ سے قطع تعلق کرے، تو اس کے ساتھ بھی تعلق رکھ۔ } [تفسیر ابن جریر الطبری:15559]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے: { عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا اور آپ کا ہاتھ تھام کر درخواست کی کہ مجھے افضل اعمال بتائیے۔ آپ نے فرمایا: جو تجھ سے توڑے، تو اس سے بھی جوڑ۔ جو تجھ سے روکے، تو اسے دے، جو تجھ پر ظلم کرے، تو اس پر بھی رحم کر۔ } ۱؎ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:891]‏‏‏‏
اوپر والی روایت مرسل ہے اور یہ روایت ضعیف ہے۔ «عرف» سے مراد نیک ہے۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ { عیینہ بن حصن بن حذیفہ اپنے بھائی حر بن قیس کے ہاں آ کے ٹھہرا، حر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے خاص درباریوں میں تھے، آپ کے درباری اور نزدیکی کا شرف صرف انہیں حاصل تھا جو قرآن کریم کے ماہر تھے۔ خواہ وہ جوان ہوں، خواہ بوڑھے۔ اس نے درخواست کی کہ مجھے آپ امیر المؤمنین عمر کے دربار میں حاضری کی اجازت دلوا دیجئیے۔ آپ نے وہاں جا کر ان کے لیے اجازت چاہی۔ امیر المؤمنین نے اجازت دے دی، یہ جاتے ہی کہنے لگے: اے ابن خطاب! تو ہمیں بکثرت مال بھی نہیں دیتا اور ہم میں عدل کے ساتھ فیصلے بھی نہیں کرتا۔ آپ کو یہ کلام بھی برا لگا، ممکن تھا کہ اسے اس کی اس تہمت پر سزا دیتے لیکن اسی وقت حر نے کہا: اے امیر المؤمنین! اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا ہے کہ عفودرگزر کی عادت رکھ، اچھائیوں کا حکم کرتا رہ اور جاہلوں سے چشم پوشی کر۔ امیر المؤمنین یقین کیجئے، یہ نرا جاہل ہے۔ قرآن کریم کی اس آیت کا امیر المؤمنین کے کان میں پڑنا تھا کہ آپ کا تمام رنج و غم، غصہ و غضب جاتا رہا۔ آپ کی یہ تو عادت ہی تھی کہ ادھر اللہ کا نام سنا، ادھر گردن جھکا دی۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4642]‏‏‏‏
امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ کے پوتے سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ کا ذکر ہے کہ آپ نے شامیوں کے ایک قافلے کو دیکھا، جس میں گھنٹی تھی تو آپ نے فرمایا: یہ گھنٹیاں منع ہیں۔ انہوں نے کہ ہم اس مسئلے کو آپ سے زیادہ جانتے ہیں۔ بڑی بڑی گھنٹیوں سے منع ہے، اس جیسی چھوٹی گھنٹیوں میں کیا حرج ہے؟ سالم نے آیت کا آخری جملہ پڑھ کر ان جاہلوں سے چشم پوشی کر لی۔
عرف، معروف، عارف، عارفہ سب کے ایک ہی معنی ہیں۔ اس میں ہر اچھی بات کی اطاعت کا ذکر آ گیا۔ پھر حکم دیا کہ جاہلوں سے منہ پھیر لیا کر۔ گو یہ حکم آپ کو ہے لیکن دراصل تمام بندوں کو یہی حکم ہے۔
مطلب یہ ہے کہ تکلیف برداشت کر لیا کرو، تکلیف دہی کا خیال بھی نہ کرو۔ یہ معنی نہیں کہ دین حق کے معاملے میں جو جہالت سے پیش آئے، تم اسے کچھ نہ کہو، مسلمانوں سے جو کفر پر جم کر مقابلہ کرے، تم اسے کچھ نہ کہنا، یہ مطلب اس جملے کا نہیں۔
یہ وہ پاکیزہ اخلاق ہیں جن کا مجسم عملی نمونہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے۔ کسی نے اسی مضمون کو اپنے شعروں میں باندھا ہے۔
«خذ العفو وامر بعرف کما امرت واعرض عن الجاھلین
ولن فی الکلام بکل الانام فمستحسن من ذوی الجاھلین»

یعنی درگزر کیا کر، بھلی بات بتا دیا کر، جیسے کہ تجھے حکم ہوا ہے، نادانوں سے ہٹ جایا کر، ہر ایک سے نرم کلامی سے پیش آیا کر، یاد رکھ کہ عزت و جاہ پر پہنچ کر نرم اور خوش اخلاق رہنا ہی کمال ہے۔
بعض مسلمانوں کا مقولہ ہے کہ لوگ دو طرح کے ہیں، ایک تو بھلے اور محسن جو احسان و سلوک کریں، قبول کر لے اور ان کے سر نہ ہو جا کہ ان کی وسعت سے زیادہ ان پر بوجھ ڈال دے۔ دوسرے بد اور ظالم، انہیں نیکی اور بھلائی کا حکم دے۔ پھر بھی اگر وہ اپنی جہالت پر اور بد کرداری پر اڑے رہیں اور تیرے سامنے سرکشی اختیار کریں تو، تو ان سے روگردانی کر لے۔ یہی چیز اسے اس کی برائی سے ہٹا دے گی۔ جیسے کہ اللہ کا فرمان ہے «ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ السَّيِّئَةَ نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَصِفُونَ وَقُل رَّبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَن يَحْضُرُونِ» ۱؎ [23-المؤمنون:96-98]‏‏‏‏
اور آیت «وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّـهِ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ» ۱؎ [41-فصلت:34-36]‏‏‏‏
بہترین طریق سے دفع کر دو تو تمہارے دشمن بھی تمہارے دوست بن جائیں گے، لیکن یہ انہی سے ہو سکتا ہے جو صابر ہوں اور نصیبوں والے ہوں۔ اس کے بعد شیطانی وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگنے کا حکم ہوا، اس لیے کہ وہ سخت ترین دشمن ہے اور ہے بھی احسان فراموش۔ انسانی دشمنوں سے بچاؤ تو عفوودرگزر اور سلوک و احسان سے ہو جاتا ہے۔ لیکن اس ملعون سے سوائے اللہ کی پناہ کے اور کوئی بچاؤ نہیں۔
یہ تینوں حکم جو سورۃ الاعراف کی ان تین آیات میں ہیں، یہی سورۃ مومنون میں بھی ہیں اور سورۃ حم السجدہ میں بھی ہیں۔
شیطان تو آدم علیہ السلام کے وقت سے دشمن انسان ہے۔ یہ جب غصہ دلائے، جوش میں لائے، فرمان الٰہی کے خلاف ابھارے، جاہلوں سے بدلہ لینے پر آمادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگ لیا کرو۔ وہ جاہلوں کی جہالت کو بھی جانتا ہے اور تیرے بچاؤ کی ترکیبوں کو بھی جانتا ہے۔
ساری مخلوق کا اسے علم ہے وہ تمام کاموں سے خبردار ہے۔
کہتے ہیں کہ جب اگلے تین حکم سنے تو کہا: اسے اللہ ان کاموں کے کرنے کے وقت تو شیطان ان کے خلاف بری طرح آمادہ کر دے گا اور نفس تو جوش انتقام سے پر ہوتا ہی ہے، کہیں ان کی خلاف ورزی نہ ہو جائے تو یہ پچھلی آیت نازل ہوئی کہ ایسا کرنے سے شیطانی وسوسہ دفع ہو جائے گا اور تم ان اخلاق کریمانہ پر عامل ہو جاؤ گے۔
میں نے اپنی اسی تفسیر کے شروع میں ہی «اعوذ» کی بحث میں اس حدیث کو بھی وارد کیا ہے کہ { دو شخص لڑ جھگڑ رہے تھے جن میں سے ایک سخت غضبناک تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ایک ایسا کلمہ یاد ہے، اگر یہ کہہ لے تو ابھی یہ بات جاتی رہے۔ وہ کلمہ «اعُوذُ بِاللّہِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» ہے۔ کسی نے اس میں بھی ذکر کیا تو اس نے کہا کہ کیا میں کوئی دیوانہ ہو گیا ہوں؟ } ۱؎ [صحیح بخاری:3282]‏‏‏‏
«نزغ» کے اصلی معنی فساد کے ہیں، وہ خواہ غصے سے ہو یا کسی اور وجہ سے۔
فرمان قرآن ہے کہ «وَقُل لِّعِبَادِي يَقُولُوا الَّتِي هِيَ أَحْسَنُ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنزَغُ بَيْنَهُمْ» ۱؎ [17-الإسراء:53]‏‏‏‏ ’ میرے بندوں کو آگاہ کر دو کہ وہ بھلی بات زبان سے نکالا کریں۔ شیطان ان میں فساد کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے۔ ‘
«عیاذ» کے معنی التجا اور استناد کے ہیں اور «ملاذ» کا لفظ طلب خیر کے وقت بولا جاتا ہے جیسے حسن بن ہانی کا شعر ہے۔
«بامن الوذبہ فیما اوملہ ومن اعوذ بہ مما احاذرہ
لا یجبر الناس عظما انت کاسرہ ولا یھیضون عظما انت جابرہ»

یعنی اے اللہ! تو میری آرزوؤں کا مرکز ہے اور میرے بچاؤ اور پناہ کا مسکن ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جس ہڈی کو تو توڑنا چاہے، اسے کوئی جوڑ نہیں سکتا اور جسے تو جوڑنا چاہے، اسے کوئی توڑ نہیں سکتا۔
باقی احادیث جو تعوذ (‏‏‏‏اعوذ باللہ) کے متعلق تھیں، وہ ہم اپنی اس تفسیر کے شروع میں ہی لکھ آئے ہیں۔