فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآءَ فِیۡمَاۤ اٰتٰہُمَا ۚ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۹۰﴾
پھر جب اس نے انھیں تندرست بچہ عطا کیا تو دونوں نے اس کے لیے اس میں شریک بنا لیے جو اس نے انھیں عطا کیا تھا، پس اللہ اس سے بہت بلند ہے جو وہ شریک بناتے ہیں۔
جب وہ ان کو صحیح و سالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اس کا شریک مقرر کرتے ہیں۔ جو وہ شرک کرتے ہیں (خدا کا رتبہ) اس سے بلند ہے
سو جب اللہ نے دونوں کو صحیح سالم اوﻻد دے دی تو اللہ کی دی ہوئی چیز میں وه دونوں اللہ کے شریک قرار دینے لگے، سو اللہ پاک ہے ان کے شرک سے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
اس آیت کی تفسیر آیت 189 میں تا آیت 191 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
190۔ 1 شریک قرار دینے سے مراد یا تو بچے کا نام ایسا رکھنا ہے، مثلاً امام بخش، پیراں دیتا، عبدالشمس، بندہ علی وغیرہ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بچہ فلاں بزرگ، فلاں پیر کی (نعوذ باللہ) نظر کرم کا نتیجہ ہے۔ یا پھر اس اپنے عقیدے کا اظہار کرکے کہ ہم فلاں بزرگ فلاں قبر پر گئے تھے جس کے نتیجہ میں بچہ پیدا ہوا ہے، جو بدقسمتی سے مسلمان عوام میں بھی عام ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ شرک کی تردید فرما رہا ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
190۔ پھر جب اللہ نے انہیں تندرست لڑکا دے دیا تو وہ اللہ کی بخشش میں دوسروں کو شریک [189] بنانے لگے جبکہ اللہ ایسی چیزوں سے بلند تر ہے جو یہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں
[189] اولاد کے بارے میں شرکیہ افعال:۔
ترمذی میں ایک روایت آتی ہے کہ آدم و حوا علیہما السلام کے ہاں جو بچے پیدا ہوتے وہ مر جاتے تھے کیونکہ وہ کمزور الخلقت ہوتے تھے۔ ایک دفعہ جب سیدہ حوا علیہا السلام کو حمل ہوا تو آدم و حوا علیہا السلام دونوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اگر تندرست بچہ پیدا ہوا تو ہم اللہ کے شکر گزار ہوں گے۔ اسی دوران شیطان نے حوا علیہا السلام کو پٹی پڑھائی کہ اگر وہ اس ہونے والے بچے کا نام عبد الحارث رکھیں تو ان کا بچہ یقیناً تندرست ہو گا اور زندہ رہے گا۔ حارث در اصل ابلیس کا نام تھا اور جن دنوں وہ فرشتوں میں ملا ہوا تھا اسی نام سے پکارا جاتا تھا۔ چنانچہ حوا علیہا السلام نے شیطان سے اس بات کا وعدہ کر لیا اور سیدنا آدمؑ کو بھی اس بات پر راضی کر لیا۔ اس روایت کو حافظ ابن کثیر نے تین وجہ سے معلول قرار دیا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا قصہ اسرائیلیات سے ماخوذ ہے نیز قرآن ہی کے الفاظ سے یہ قصہ کئی وجوہ سے باطل قرار پاتا ہے اور وہ یہ ہیں:
1۔ ﴿جَعَلاَلَهُ شُرَكَاءَ ﴾سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا شریک صرف ایک شیطان ہی نہیں بنایا گیا بلکہ یہ شریک ایک جماعت یا کم از کم دو سے زیادہ ہیں۔
2۔ ﴿عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شرک کرنے والے دو (آدم و حوا علیہما السلام) نہ تھے بلکہ یہ بھی ایک جماعت ہے۔
3۔ اگر شیطان کو ہی شریک بنایا تھا تو اس کے لیے من آنا چاہیے تھا جو ذوی العقول کیلئے آتا ہے حالانکہ یہاں ﴿مَالاَ يَخْلُقُ﴾ کے الفاظ ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو سب نام سکھلا دیئے تھے اگر ابلیس یا شیطان کا کوئی نام حارث بھی ہوتا تو وہ آپ کو ضرور معلوم ہونا چاہیے تھا کیونکہ اسی سے تو براہ راست آپ کی دشمنی ٹھن گئی تھی۔ علاوہ ازیں کسی بھی سند صحیح سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سیدنا آدمؑ کے کسی بیٹے کا نام عبد الحارث بھی تھا۔ اس آیت کے مخاطب در اصل مشرکین مکہ ہیں۔ ابتداء میں سیدنا آدم و حوا علیہما السلام کا ذکر ضرور ہے مگر بعد میں روئے سخن دور نبوی کے مشرکین کی طرف مڑ گیا ہے جن کی عادت تھی کہ جب بچہ پیٹ میں ہوتا تو اس کی سلامتی اور تندرست و صحیح سالم بچہ پیدا ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی سے دعائیں کیا کرتے تھے لیکن جب صحیح و سالم بچہ پیدا ہو جاتا تو اللہ تعالیٰ کے اس عطیہ میں دوسروں کو بھی شکریے کا حصہ دار ٹھہرا لیتے تھے اور ان کے نام ایسے ہی رکھ دیتے جن میں شرک پایا جاتا مثلاً عبد الشمس، عبد العزّیٰ، عبد مناف وغیرہ اور نذریں نیازیں بھی اپنے دیوی دیوتاؤں کے آستانوں پر چڑھایا کرتے تھے۔ یہ حالت تو دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشرکین کی تھی۔ مگر آج کے دور کے مشرکین جو خود مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان مشرکوں سے چار ہاتھ آگے نکل گئے ہیں۔ یہ اولاد بھی غیروں سے مانگتے ہیں حمل کے دوران منتیں بھی غیروں کے نام ہی کی مانتے ہیں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد نیاز بھی انہی کے آستانوں پر جا کر چڑھاتے ہیں اور نام بھی مشرکانہ رکھتے ہیں جیسے پیراں دتہ، پیر بخش وغیرہ۔ پھر بھی یہ موحد کے موحد اور مسلمان کے مسلمان ہی رہتے ہیں۔
1۔ ﴿جَعَلاَلَهُ شُرَكَاءَ ﴾سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کا شریک صرف ایک شیطان ہی نہیں بنایا گیا بلکہ یہ شریک ایک جماعت یا کم از کم دو سے زیادہ ہیں۔
2۔ ﴿عَمَّا يُشْرِكُوْنَ﴾ سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ شرک کرنے والے دو (آدم و حوا علیہما السلام) نہ تھے بلکہ یہ بھی ایک جماعت ہے۔
3۔ اگر شیطان کو ہی شریک بنایا تھا تو اس کے لیے من آنا چاہیے تھا جو ذوی العقول کیلئے آتا ہے حالانکہ یہاں ﴿مَالاَ يَخْلُقُ﴾ کے الفاظ ہیں۔
4۔ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو سب نام سکھلا دیئے تھے اگر ابلیس یا شیطان کا کوئی نام حارث بھی ہوتا تو وہ آپ کو ضرور معلوم ہونا چاہیے تھا کیونکہ اسی سے تو براہ راست آپ کی دشمنی ٹھن گئی تھی۔ علاوہ ازیں کسی بھی سند صحیح سے یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ سیدنا آدمؑ کے کسی بیٹے کا نام عبد الحارث بھی تھا۔ اس آیت کے مخاطب در اصل مشرکین مکہ ہیں۔ ابتداء میں سیدنا آدم و حوا علیہما السلام کا ذکر ضرور ہے مگر بعد میں روئے سخن دور نبوی کے مشرکین کی طرف مڑ گیا ہے جن کی عادت تھی کہ جب بچہ پیٹ میں ہوتا تو اس کی سلامتی اور تندرست و صحیح سالم بچہ پیدا ہونے کے لیے اللہ تعالیٰ ہی سے دعائیں کیا کرتے تھے لیکن جب صحیح و سالم بچہ پیدا ہو جاتا تو اللہ تعالیٰ کے اس عطیہ میں دوسروں کو بھی شکریے کا حصہ دار ٹھہرا لیتے تھے اور ان کے نام ایسے ہی رکھ دیتے جن میں شرک پایا جاتا مثلاً عبد الشمس، عبد العزّیٰ، عبد مناف وغیرہ اور نذریں نیازیں بھی اپنے دیوی دیوتاؤں کے آستانوں پر چڑھایا کرتے تھے۔ یہ حالت تو دور نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مشرکین کی تھی۔ مگر آج کے دور کے مشرکین جو خود مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ان مشرکوں سے چار ہاتھ آگے نکل گئے ہیں۔ یہ اولاد بھی غیروں سے مانگتے ہیں حمل کے دوران منتیں بھی غیروں کے نام ہی کی مانتے ہیں اور بچہ پیدا ہونے کے بعد نیاز بھی انہی کے آستانوں پر جا کر چڑھاتے ہیں اور نام بھی مشرکانہ رکھتے ہیں جیسے پیراں دتہ، پیر بخش وغیرہ۔ پھر بھی یہ موحد کے موحد اور مسلمان کے مسلمان ہی رہتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ایک ہی باپ ایک ہی ماں اور تمام نسل آدم ٭٭
تمام انسانوں کو اللہ تعالیٰ نے صرف آدم علیہ السلام سے ہی پیدا کیا , انہی سے ان کی بیوی حواء کو پیدا کیا . پھر ان دونوں سے نسل انسان جاری کی۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» ۱؎ [49-الحجرات:13] ’ لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ ‘
سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» ۱؎ [4-النساء:1] ’ اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ ‘
یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» ۱؎ [30-الروم:21] ’ لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ ‘
اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔
عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔
جیسے فرمان ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ» ۱؎ [49-الحجرات:13] ’ لوگو! ہم نے تمہیں ایک ہی مرد و عورت سے پیدا کیا ہے , پھر تمہارے کنبے اور قبیلے بنا دیئے تاکہ آپس میں ایک وسرے کو پہچانتے رہو۔ اللہ کے ہاں سب سے زیادہ ذی عزت وہ ہے جو پرہیزگاری میں سب سے آگے ہے۔ ‘
سورۃ نساء کے شروع میں ہے «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً» ۱؎ [4-النساء:1] ’ اے لوگو اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک ہی شخص یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا ہے۔ انہی سے ان کی بیوی کو پیدا کیا، پھر ان دونوں میاں بیوی سے بہت سے مرد و عورت پھیلا دیئے۔ ‘
یہاں فرماتا ہے کہ انہی سے ان کی بیوی کو بنایا تاکہ یہ آرام اٹھائیں۔ چنانچہ ایک اور آیت میں ہے: «وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً» ۱؎ [30-الروم:21] ’ لوگو! یہ بھی اللہ کی ایک مہربانی ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری بیویاں بنا دیں تاکہ تم ان سے سکون و آرام حاصل کرو اور اس نے تم میں باہم محبت و الفت پیدا کر دی۔ پس یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے چاہت ہے جو میاں بیوی میں وہ پیدا کر دیتا ہے۔ ‘
اسی لیے جادوگروں کی برائی بیان کرتے ہوئے قرآن نے فرمایا کہ وہ اپنی مکاریوں سے میاں بیوی میں جدائی ڈلوا دیتے ہیں۔
عورت مرد کے ملاپ سے بحکم الٰہی عورت کو حمل ٹھہر جاتا ہے۔ جب تک وہ نطفے، خون اور لوتھڑے کی شکل میں ہوتا ہے ہلکا سا رہتا ہے، وہ برابر اپنے کام کاج میں آمد و رفت میں لگی رہتی ہے، کوئی ایسی زیادہ تکلیف اور بار نہیں معلوم ہوتا اور اندر ہی اندر وہ برابر بڑھتا رہتا ہے۔ اسے تو یونہی کبھی کچھ وہم سا ہوتا ہے کہ شاید کچھ ہو۔ کچھ وقت یونہی گزر جانے کے بعد بوجھ معلوم ہونے لگتا ہے، حمل ظاہر ہو جاتا ہے، بچہ پیٹ میں بڑا ہو جاتا ہے، طبیعت تھکنے لگتی ہے، اب ماں باپ دونوں اللہ سے دعائیں کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہ ہمیں صحیح سالم بیٹا عطا فرمائے تو ہم شکر گزاری کریں گے۔
ڈر لگتا ہے کہ کہیں کچھ اور بات نہ ہو جائے۔ اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے مہربانی فرمائی اور صحیح سالم انسانی شکل و صورت کا بچہ عطا فرمایا تو اللہ کے ساتھ شرک کرنے لگتے ہیں۔
مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔
مسند احمد میں ہے کہ { جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں۔
ابن جریر رضی اللہ عنہ میں خود سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ ”آدم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔“
تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حسن سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔
مفسرین نے اس جگہ بہت سے آثار و احادیث بیان کئے ہیں جنہیں میں یہاں نقل کرتا ہوں اور ان میں جو بات ہے، وہ بھی بیان کروں گا۔ پھر جو بات صحیح ہے، اسے بتاؤں گا۔ ان شاءاللہ۔
مسند احمد میں ہے کہ { جب حواء کو اولاد ہوئی تو ابلیس گھومنے لگا، ان کے بچے زندہ نہیں رہتے تھے۔ شیطان نے سکھایا کہ اب اس کا نام عبدالحارث رکھ دے تو یہ زندہ رہے گا چنانچہ انہوں نے یہی کیا اور یہی ہوا اور اصل میں یہ شیطانی حرکت تھی اور اسی کا حکم تھا۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3077، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ نے بھی اسے نقل کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ میں کہتا ہوں، اس حدیث میں کئی کمزوریاں ہیں: ایک تو یہ کہ اس کے ایک راوی عمر بن ابراہیم مصری کی بابت امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ راوی ایسا نہیں کہ اس سے حجت پکڑی جائے، گو امام ابن معین رحمہ اللہ نے اس کی توثیق کی ہے۔ لیکن ابن مردویہ رحمہ اللہ نے اسے معمر سے، اس نے اپنے باپ سے، اس نے سمرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
دوسرے یہ کہ یہی روایت موقوفاً سمرہ کے اپنے قول سے مروی ہوئی ہے جو کہ مرفوع نہیں۔
ابن جریر رضی اللہ عنہ میں خود سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا اپنا فرمان ہے کہ ”آدم علیہ السلام نے اپنے لڑکے کا نام عبدالحارث رکھا۔“
تیسرے اس آیت کی تفسیر اس کے راوی حسن سے اس کے علاوہ بھی مروی ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر یہ مرفوع حدیث ان کی روایت کردہ ہوتی تو یہ خود اس کے خلاف تفسیر نہ کرتے۔
چنانچہ ابن جریر میں ہے , حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”آدم علیہ السلام کا واقعہ نہیں بلکہ بعض مذاہب والوں کا واقعہ ہے۔“
اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ ”اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں،“ فرماتے ہیں کہ ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔“ یہ سب اسنادیں حسن رحمہ اللہ تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کی جو کچھ تفسیر کی گئی ہے، اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔
خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں، ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرے، پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے، یہ بالکل ان ہونی بات ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ سمرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو۔ جیسے کعب، وہب وغیرہ جو مسلمان ہو گئے تھے اس کا بیان بھی سنئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”حواء علیہ السلام کے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا نام عبداللہ، عبیداللہ وغیرہ رکھتی تھیں، وہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا: اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا، جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبدالحارث رکھا۔“
اور روایت میں آپ کا یہ فرمان منقول ہے کہ ”اس سے مراد بعض مشرک انسان ہیں جو ایسا کرتے ہیں،“ فرماتے ہیں کہ ”یہ یہود و نصاریٰ کا فعل بیان ہوا ہے کہ اپنی اولادوں کو اپنی روش پر ڈال لیتے ہیں۔“ یہ سب اسنادیں حسن رحمہ اللہ تک بالکل صحیح ہیں اور اس آیت کی جو کچھ تفسیر کی گئی ہے، اس میں سب سے بہتر تفسیر یہی ہے۔
خیر مقصد یہ تھا کہ اتنا بڑا متقی اور پرہیزگار آدمی ایک آیت کی تفسیر میں، ایک مرفوع حدیث قول پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم روایت کرے، پھر اس کے خلاف خود تفسیر کرے، یہ بالکل ان ہونی بات ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ حدیث مرفوع نہیں بلکہ وہ سمرہ رضی اللہ عنہ کا اپنا قول ہے۔ اس کے بعد یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ سمرہ رضی اللہ عنہ نے اسے اہل کتاب سے ماخوذ کیا ہو۔ جیسے کعب، وہب وغیرہ جو مسلمان ہو گئے تھے اس کا بیان بھی سنئے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: ”حواء علیہ السلام کے جو بچے پیدا ہوتے تھے، ان کا نام عبداللہ، عبیداللہ وغیرہ رکھتی تھیں، وہ بچے فوت ہو جاتے تھے۔ پھر ان کے پاس ابلیس آیا اور کہا: اگر تم کوئی اور نام رکھو تو تمہارے بچے زندہ رہیں گے۔ چنانچہ ان دونوں نے یہی کیا، جو بچہ پیدا ہوا، اس کا نام عبدالحارث رکھا۔“
اس کا بیان ان آیات میں ہے۔
اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بچے اس سے پہلے مر چکے تھے، اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے؟ ممکن ہے، کوئی جانور ہی ہو۔ ممکن ہے، صحیح سالم ہو گا، زندہ رہے گا۔ یہ بھی اس کے بہکاوے میں آ گئے اور عبدالحارث نام رکھا، اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا، اب یا تو تم میری اطاعت کرو، ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا، وہ کر ڈالوں گا وغیرہ۔ ہر چند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔
اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ دوبارہ حمل ٹھہرا، پھر یہ ملعون پھر آن پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا، اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا، اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے۔ جیسے مجاہد، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ وغیرہ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔
اور روایت میں ہے کہ ان کے دو بچے اس سے پہلے مر چکے تھے، اب حالت حمل میں شیطان ان کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ تمہیں معلوم بھی ہے کہ تمہارے پیٹ میں کیا ہے؟ ممکن ہے، کوئی جانور ہی ہو۔ ممکن ہے، صحیح سالم ہو گا، زندہ رہے گا۔ یہ بھی اس کے بہکاوے میں آ گئے اور عبدالحارث نام رکھا، اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
اور روایت میں ہے کہ پہلی دفعہ حمل کے وقت یہ آیا اور انہیں ڈرایا کہ میں وہی ہوں جس نے تمہیں جنت سے نکلویا، اب یا تو تم میری اطاعت کرو، ورنہ میں اسے یہ کر ڈالوں گا، وہ کر ڈالوں گا وغیرہ۔ ہر چند ڈرایا مگر انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔
اللہ کی شان وہ بچہ مردہ پیدا ہوا۔ دوبارہ حمل ٹھہرا، پھر یہ ملعون پھر آن پہنچا اور اسی طرح خوف زدہ کرنے لگا، اب بھی انہوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ چنانچہ یہ دوسرا بچہ بھی مردہ ہوا۔ تیسرے حمل کے وقت یہ خبیث پھر آیا، اب کی مرتبہ اولاد کی محبت میں آ کر انہوں نے اس کی مان لی اور اس کا نام عبدالحارث رکھا۔ اسی کا بیان ان آیتوں میں ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس اثر کو لے کر ان کے شاگردوں کی ایک جماعت نے بھی یہی کہا ہے۔ جیسے مجاہد، سعید بن جبیر رحمہ اللہ، عکرمہ رحمہ اللہ اور دوسرے طبقے میں سے قتادہ رحمہ اللہ، سدی رحمہ اللہ وغیرہ۔ اسی طرح سلف سے خلف تک بہت سے مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں یہی کہا ہے، لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ اثر اہل کتاب سے لیا گیا ہے۔
اس کی ایک بڑی دلیل یہ ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اسے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں جیسے کہ ابن ابی حاتم میں ہے، پس ظاہر ہے کہ یہ اہل کتاب کے آثار سے ہے۔ جن کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { ان کی باتوں کو نہ سچی کہو نہ جھوٹی۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:3644، قال الشيخ الألباني:ضعیف]
ان کی روایات تین طرح کی ہیں: ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ تیسرا وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم { اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3461] لیکن تصدیق، تکذیب جائز نہیں۔
میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، انہوں نے اسے تیسری قسم کا سمجھ کر روایت کر دیا ہے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ آدم و حواء کا۔“
ان کی روایات تین طرح کی ہیں: ایک تو وہ جن کی صحت ہمارے ہاں کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہے۔ دوسرا وہ جن کی تکذیب کسی آیت یا حدیث سے ہوتی ہو۔ تیسرا وہ جس کی بابت کوئی ایسا فیصلہ ہمارے دین میں نہ ملے تو بقول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم { اس روایت کے بیان میں تو کوئی حرج نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3461] لیکن تصدیق، تکذیب جائز نہیں۔
میرے نزدیک تو یہ اثر دوسری قسم کا ہے یعنی ماننے کے قابل نہیں اور جن صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم سے یہ مروی ہے، انہوں نے اسے تیسری قسم کا سمجھ کر روایت کر دیا ہے۔
امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”مشرکوں کا اپنی اولاد کے معاملے میں اللہ کے ساتھ کرنے کا بیان ان آیتوں میں ہے نہ کہ آدم و حواء کا۔“
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ اس شرک سے اور ان کے شریک ٹھہرانے سے بلند و بالا ہے۔ ان آیات میں یہ ذکر اور ان سے پہلے آدم و حواء کا ذکر مثل تمہید کے ہے کہ ان اصلی ماں باپ کا ذکر کر کے پھر اور ماں باپوں کا ذکر ہوا، اور ان ہی کا شرک بیان ہوا۔
ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر، جیسے آیت «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ» ۱؎ [67-الملك:5] میں ہے یعنی ’ ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا۔ ‘
اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں، وہ جھڑتے نہیں، ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
ذکر شخص سے ذکر جنس کی طرف استطراد کے طور پر، جیسے آیت «وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ» ۱؎ [67-الملك:5] میں ہے یعنی ’ ہم نے دنیا کے آسمان کو ستاروں سے زینت دی اور انہیں شیطانوں پر انگارے برسانے والا بنایا۔ ‘
اور یہ ظاہر ہے کہ جو ستارے زینت کے ہیں، وہ جھڑتے نہیں، ان سے شیطانوں کو مار نہیں پڑتی۔ یہاں بھی استطراد تاروں کی شخصیت سے تاروں کی جنس کی طرف ہے۔ اس کی اور بھی بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔