ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 184

اَوَ لَمۡ یَتَفَکَّرُوۡا ٜ مَا بِصَاحِبِہِمۡ مِّنۡ جِنَّۃٍ ؕ اِنۡ ہُوَ اِلَّا نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۱۸۴﴾
اور کیا انھوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے ساتھی میں جنون کی کون سی چیز ہے؟ وہ تو ایک کھلم کھلا ڈرانے والے کے سوا کچھ نہیں۔
کیا انہوں نے غور نہیں کیا کہ ان کے رفیق محمد (ﷺ) کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ وہ تو ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں
کیا ان لوگوں نے اس بات پر غور نہ کیا کہ ان کے ساتھی کو ذرا بھی جنون نہیں وه تو صرف ایک صاف صاف ڈرانے والے ہیں

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 184) {اَوَ لَمْ يَتَفَكَّرُوْا مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ......:} اوپر کی آیات میں ان کی غفلت اور بے رخی پر تنبیہ تھی، اب یہاں سے نبوت پر ان کے شبہات کی تردید ہو رہی ہے۔ کفار قریش آپ کو مجنون (پاگل) قرار دیتے تھے، دیکھیے سورۂ حجر (۶) اور دخان (۱۳، ۱۴) اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اس کے دو جواب دیے، ایک یہ کہ کبھی تم نے سوچا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور جگہ سے نہیں آئے، تمھارے ساتھی ہیں، تمھی میں رہتے ہیں، تم ان سے خوب واقف ہو، انھوں نے چالیس برس تم میں گزارے ہیں، کچھ غور تو کرو، کیا پاگل ایسے ہوتے ہیں؟ { صَاحِبُكُمْ } (تمھارے ساتھی) کے لفظ میں یہی جواب دیا گیا ہے۔ دیکھیے سورۂ یونس (۱۶) دوسرا یہ کہ ان لوگوں نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ جن باتوں کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیتے ہیں، مثلاً توحید، نماز، صدقہ، صلہ رحمی، پاک دامنی اور صدق وغیرہ ان میں سے کون سی چیز جنون ہے، یا آپ کے عادات و خصائل میں کون سی چیز ہے جسے جنون کہا جا سکے، آپ تو محض اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے کھلم کھلا ڈرانے والے ہیں۔ [ديكهيے سورهٔ سبا ۴۶]

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

184۔ 1 صَاحِب سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی ہے جن کی بابت مشرکین کبھی ساحر اور کبھی مجنون (نعوذ باللہ) کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ تمہارے عدم تفکر کا نتیجہ ہے وہ تو تمہارا پیغمبر ہے جو ہمارے احکام پہنچانے والا اور ان سے غفلت اور اعراض کرنے والوں کو ڈرانے والا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

184۔ کیا انہوں نے کبھی نہیں سوچا کہ ان کے ساتھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی جنون نہیں۔ وہ تو محض ایک کھلم کھلے [184] ڈرانے والے ہیں۔
[184] مجنون اور نبی میں فرق:۔
اب ایسے لوگوں کے بعض شبہات کا جواب دیا جا رہا ہے مثلاً: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی ان قریش مکہ کے سامنے ہے نبوت سے پیشتر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری قوم نہایت سلیم الطبع اور صحیح الدماغ نیز صادق اور امین کی حیثیت سے جانتی تھی۔ پھر جب نبوت کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں کو پہنچایا اور انہیں اخروی انجام سے ڈرایا تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مجنون اور آسیب زدہ کہنے لگے حالانکہ نبی جو کچھ کہتا ہے سب سے پہلے وہ خود اس پر عمل پیرا ہوتا ہے اور اپنی بات پر اپنے پاکیزہ سیرت و کردار سے مہر تصدیق ثبت کرتا ہے ذرا سوچو! کسی مجنون میں یہ صفات پائی جاتی ہیں؟ پھر تم کس لحاظ سے اسے مجنون کہتے ہو؟ کیا صرف اس لیے کہ جو حقائق وہ پیش کرتا ہے وہ تمہاری طبائع قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہیں۔ حالانکہ اس کائنات کے نظام میں اگر وہ کچھ بھی غور و فکر کرتے تو انہیں معلوم ہو جاتا کہ جو کچھ ان کا ساتھی انہیں سمجھا رہا ہے کائنات کا ذرہ ذرہ اس کی شہادت دے رہا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

صداقت رسالت پر اللہ کی گواہی ٭٭
کیا ان کافروں نے کبھی اس بات پر غور کیا کہ «وَمَا صَاحِبُكُم بِمَجْنُونٍ» ۱؎ [81-التكوير:22]‏‏‏‏ ’ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں جنون کی کوئی بات بھی ہے؟ ‘
جیسے فرمان ہے «قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُم بِوَاحِدَةٍ أَن تَقُومُوا لِلَّـهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا مَا بِصَاحِبِكُم مِّن جِنَّةٍ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَّكُم بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ» ۱؎ [34-سبأ:46]‏‏‏‏ ’ آؤ میری ایک بات تو مان لو، ذرا سی دیر خلوص کے ساتھ اللہ کو حاضر جان کر اکیلے وکیلے غور تو کرو کہ مجھ میں کون سا دیوانہ پن ہے؟ میں تو تمہیں آنے والے سخت خطرے کی اطلاع دے رہا ہوں کہ اس سے ہوشیار رہو۔ ‘
جب تم یہ کرو گے تو خود اس نتیجے پر پہنچ جاؤ گے کہ میں مجنون نہیں بلکہ اللہ کا پیغام دے کر تم میں بھیجا گیا ہوں۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صفا پہاڑ پر چڑھ کر قریشیوں کے ایک ایک قبیلے کا الگ الگ نام لے کر انہیں اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اسی طرح صبح کر دی تو بعض کہنے لگے کہ دیوانہ ہو گیا ہے۔ اس پر یہ آیت اتری۔