(آیت 183) ➊ { وَاُمْلِيْلَهُمْ: ”اَمْلَييُمْلِيْاِمْلَائً“} لمبی مہلت دینے کو کہتے ہیں۔ ➋ { اِنَّكَيْدِيْمَتِيْنٌ:} جس کی کسی حیلہ اور تدبیر سے مدافعت نہیں کی جا سکتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب اسے پکڑتا ہے تو اسے بھاگ کر جانے نہیں دیتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «{ وَكَذٰلِكَاَخْذُرَبِّكَاِذَاۤاَخَذَالْقُرٰى }»[ھود: ۱۰۲][بخاری، التفسیر، باب: { وکذٰلک أخذ ربک…}: ۴۶۸۶، عن أبی موسٰی رضی اللہ عنہ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
183۔ 1 یہ وہی استدراج و امہال ہے جو بطور امتحان اللہ تعالیٰ افراد اور قوموں کو دیتا ہے۔ پھر جب اس کی مشیت مواخذہ کرنے کی ہوتی ہے تو کوئی اسے بچانے پر قادر نہیں ہوسکتا، کیونکہ اس کی تدبیر بڑی مضبوط ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
183۔ اور میں انہیں ڈھیل دے رہا ہوں۔ یقیناً میری تدبیر کا کوئی توڑ [183] نہیں
[183] قانون امہال و تدریج:۔
اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ وہ مجرم لوگوں پر سرزنش اور تنبیہ کے طور پر پہلے چھوٹے چھوٹے دکھ اور تکلیفیں نازل فرماتا ہے اگر لوگ ان سے عبرت حاصل کر لیں تو خیر ورنہ انہیں ایک دوسرے طریقہ سے آزماتا ہے۔ یعنی ان پر خوش حالی اور آسودگی کا دور آتا ہے جس میں وہ ایسے مگن اور مستغرق ہو جاتے ہیں کہ انہیں سابقہ تکلیفیں یاد ہی نہیں رہتیں اور وہ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان پر مہربان ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ انہیں محض اس لیے مہلت دے رہا ہوتا ہے کہ جس انتہا کو پہنچنا چاہتے ہیں پہنچ جائیں تو پھر یکدم انہیں ان کے انجام سے دو چار کر دیتا ہے اس وقت لوگوں کو کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا نہیں سکتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے ٭٭
اور آیت میں ہے «فَلَمَّانَسُوامَاذُكِّرُوابِهِفَتَحْنَاعَلَيْهِمْأَبْوَابَكُلِّشَيْءٍحَتَّىٰإِذَافَرِحُوابِمَاأُوتُواأَخَذْنَاهُمبَغْتَةًفَإِذَاهُممُّبْلِسُونَفَقُطِعَدَابِرُالْقَوْمِالَّذِينَظَلَمُواوَالْحَمْدُلِلَّـهِرَبِّالْعَالَمِينَ»۱؎[6-الأنعام:44-45] یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑ جائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہو جائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گزری کر دیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہو جائیں گے، تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دوں گا اور یہ میرے اس داؤ سے بےخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی، وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔