(آیت 182){ وَالَّذِيْنَكَذَّبُوْابِاٰيٰتِنَاسَنَسْتَدْرِجُهُمْ …:} یعنی ان پر فوری گرفت نہیں کروں گا، تاکہ وہ غفلت میں پڑے رہیں اور گناہ پر گناہ کرتے جائیں، اسی کا نام ڈھیل اور استدراج (آہستہ آہستہ کھینچ کر لے جانا) ہے، جو کفار کو ان کے گناہوں کی سزا میں دی جاتی ہے، مگر وہ اپنی حماقت سے یہ سمجھتے ہیں کہ ہم پر بڑی مہربانی ہو رہی ہے، حالانکہ انھیں آخری عذاب کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۴۴، ۴۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
182۔ اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا انہیں ہم اس طرح بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہو سکے گی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سامان تعیش کی کثرت عتاب الٰہی بھی ہے ٭٭
اور آیت میں ہے «فَلَمَّانَسُوامَاذُكِّرُوابِهِفَتَحْنَاعَلَيْهِمْأَبْوَابَكُلِّشَيْءٍحَتَّىٰإِذَافَرِحُوابِمَاأُوتُواأَخَذْنَاهُمبَغْتَةًفَإِذَاهُممُّبْلِسُونَفَقُطِعَدَابِرُالْقَوْمِالَّذِينَظَلَمُواوَالْحَمْدُلِلَّـهِرَبِّالْعَالَمِينَ»۱؎[6-الأنعام:44-45] یعنی ایسے لوگوں کو روزی میں کشادی دی جائے گی، معاش کی آسانیاں ملیں گی، وہ دھوکے میں پڑ جائیں گے اور حقانیت کو بھول جائیں گے۔ جب پورے مست ہو جائیں گے اور ہماری نصیحت کو گئی گزری کر دیں گے تو ہم انہیں ہر طرح کے آرام دیں گے یہاں تک کہ وہ مست ہو جائیں گے، تب انہیں ہم ناگہانی پکڑ میں پکڑ لیں گے۔ اس وقت وہ مایوسی کے ساتھ منہ تکتے رہ جائیں گے اور ان ظالموں کی رگ کٹ جائے گی۔ حقیقتاً تعریفوں کے لائق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ انہیں میں تو ڈھیل دوں گا اور یہ میرے اس داؤ سے بےخبر ہوں گے۔ میری تدبیر کبھی ناکام نہیں ہوتی، وہ بڑی مضبوط اور مستحکم ہوتی ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔