اور جب ہم نے تمھیں فرعون کی آل سے نجات دی، وہ تمھیں برا عذاب دیتے تھے، تمھارے بیٹوں کو بری طرح قتل کرتے اور تمھاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس میں تمھارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔
(اور ہمارے ان احسانوں کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعونیوں (کے ہاتھ) سے نجات بخشی وہ لوگ تم کو بڑا دکھ دیتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے سخت آزمائش تھی
اور وه وقت یاد کرو جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے بچا لیا جو تم کو بڑی سخت تکلیفیں پہنچاتے تھے۔ تمہارے بیٹوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زنده چھوڑ دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی بھاری آزمائش تھی
(آیت 141) {وَاِذْاَنْجَيْنٰكُمْمِّنْاٰلِفِرْعَوْنَ …:} چوتھی یہ کہ آل فرعون سے نجات کو یاد کرو کہ اکیلے فرعون ہی نے نہیں بلکہ پوری قوم نے تمھیں غلام بنا رکھا تھا۔ {”بَلَآءٌمِّنْرَّبِّكُمْ“} آزمائش انعام اور مصیبت دونوں طرح ہوتی ہے۔ اس واقعہ میں تم پر مصیبت کا ابتلا بھی آیا اور انعام کا بھی۔ تمھارے لڑکوں کا ذبح کرنا اور عورتوں کو زندہ رکھ کر لونڈیاں بنا کر ان سے کام لینا اور اپنی خواہش نفس پوری کرنا اور مردوں کو ختم کرنے کے ذریعے سے بنی اسرائیل کی نسل ختم کرنے کا منصوبہ بنانا مصیبت تھا اور اس سے نجات انعام۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۹)۔ ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین کی طرف نکلے تو مشرکین کے ایک درخت کے پاس سے گزرے، جسے ذات انواط کہا جاتا تھا، وہ لوگ اس پر اپنے ہتھیار لٹکاتے تھے۔ تو (نو مسلم) لوگ کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! آپ ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیں، جیسا کہ ان کے لیے ذات انواط ہے۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! یہ تو اسی طرح کی بات ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے کہی تھی کہ ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے جس طرح ان (مشرکین) کے معبود ہیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر سوار ہو جاؤ گے۔“[ترمذی، الفتن، باب ما جاء لترکبن سنن …: ۲۱۸۰] ترمذی اور البانی (رحمھما اللہ) دونوں نے اسے صحیح کہا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
141۔ 1 یہ وہی آزمائشیں ہیں جن کا ذکر سورة بقرہ میں بھی گزرا ہے اور سورة ابراہیم میں بھی آئے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
141۔ اور (اے بنی اسرائیل۔ وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی۔ وہ تمہارے بیٹوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے لیے تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک بڑی آزمائش تھی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ماضی کی یاد دہانی ٭٭
انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی، تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ ایسے رب کے سوا اور کون لائق عبادت ہو سکتا ہے؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔