(آیت 140){ قَالَاَغَيْرَاللّٰهِاَبْغِيْكُمْاِلٰهًا …:} تیسری ان کی بات کی تردید کرتے ہوئے بطور سوال ڈانٹ ہے کہ کیا الٰہ (معبود) بھی کوئی ایسی ہستی ہے کہ انسان جسے جی چاہے بنا لے، بلکہ معبود تو وہی ہو سکتا ہے جو انسان کو ہر قسم کے انعامات سے نوازتا ہے اور پھر جس ذات نے تم پر بے بہا انعامات کیے ہیں اور تمھیں تمام عالم پر فضیلت بخشی ہے، کیا اب اس کی شکر گزاری یہی ہے کہ اسے چھوڑ کر دوسروں کی پوجا کرنے لگو؟ یہ شکر گزاری نہیں بلکہ عین ناشکری اور نمک حرامی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
140۔ 1 کیا جس اللہ نے تم پر اتنے احسانات اور تمہیں جہانوں پر فضیلت بھی عطا کی، اسے چھوڑ کر میں تمہارے لئے پتھر اور لکڑی کے تراشے ہوئے بت تلاش کروں، یعنی یہ ناشکری اور احسان ناشناسی میں کس طرح کرسکتا ہوں؟ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ کے مزید احسا نات کا تذکرہ ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
140۔ (پھر) کہا: کیا میں اللہ کے علاوہ تمہارے لیے کوئی اور الٰہ تلاش کروں حالانکہ اس نے تمہیں تمام اہل عالم پر فضیلت بخشی ہے“
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ماضی کی یاد دہانی ٭٭
انہیں اس گمراہ خیالی سے روکنے کے لئے آپ اللہ تعالیٰ کے احسانات یاد دلا رہے ہیں کہ فرعونیوں کی غلامی سے اللہ نے تمہیں آزادی دلوائی، ذلت و رسوائی سے چھٹکارا دیا۔ پھر اوج و عزت عطا فرمائی، تمہارے دیکھتے ہوئے تمہارے دشمنوں کو غارت کر دیا۔ ایسے رب کے سوا اور کون لائق عبادت ہو سکتا ہے؟ فرعون کے وقت کی اپنی ابتری کو بھول گئے جس سے اللہ نے نجات دی۔ اس کی پوری تفسیر سورۃ البقرہ میں گزر چکی ہے۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔