ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 139

اِنَّ ہٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا ہُمۡ فِیۡہِ وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۳۹﴾
بے شک یہ لوگ، تباہ کیا جانے والا ہے وہ کام جس میں وہ لگے ہوئے ہیں اور باطل ہے جو کچھ وہ کرتے چلے آرہے ہیں۔
یہ لوگ جس (شغل) میں (پھنسے ہوئے) ہیں وہ برباد ہونے والا ہے اور جو کام یہ کرتے ہیں سب بیہودہ ہیں
یہ لوگ جس کام میں لگے ہیں یہ تباه کیا جائے گا اور ان کا یہ کام محض بےبنیاد ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 139) {اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ مُتَبَّرٌ مَّا هُمْ فِيْهِ …:} موسیٰ علیہ السلام نے ان کے مطالبے کے جواب میں چار باتیں فرمائیں، پہلی یہ کہ تم لوگ جہالت، یعنی نادانی اور اکھڑ پن اختیار کر رہے ہو، جیسا کہ پچھلی آیت میں گزرا ہے۔ دوسری یہ کہ یہ لوگ اس وقت جس کام میں لگے ہوئے ہیں وہ تباہ و برباد کر دیا جانے والا ہے اور اس سے پہلے بھی یہ جو کچھ کرتے آئے ہیں باطل ہے۔ ایسے کام کا مطالبہ دنیا میں گمراہی و تباہی اور آخرت میں عذاب کا باعث ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

139۔ 1 یعنی مورتیوں کے پجاری جن کے حال نے تمہیں بھی دھوکے میں ڈال دیا، ان کا مقدر تباہی اور ان کا یہ فعل باطل اور خسارے کا باعث ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

139۔ یہ لوگ جس کام (بت پرستی) میں لگے ہوئے ہیں برباد [135] ہونے والا ہے اور جو کچھ وہ کر رہے ہیں سراسر باطل ہے
[135] یعنی میرا تو مشن ہی یہی ہے کہ ایسے بتوں کو برباد کر دوں اور ایسے باطل پرستوں کو ختم کر دوں اور ایک تم ہو کہ مجھی سے کہہ رہے ہو کہ میں تمہیں بت بنا دوں۔ اللہ نے تمہیں فضیلت اس لیے تو نہیں بخشی کہ تم اپنے سے حقیر اور اپنے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیز کے سامنے سجدہ ریز ہو جاؤ لہٰذا ایسی جہالت کی باتیں نہ کرو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شوق بت پرستی ٭٭
اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6]‏‏‏‏
یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔
یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065]‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن جریر)
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ { تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ } ۱؎[سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏