ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 138

وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتَوۡا عَلٰی قَوۡمٍ یَّعۡکُفُوۡنَ عَلٰۤی اَصۡنَامٍ لَّہُمۡ ۚ قَالُوۡا یٰمُوۡسَی اجۡعَلۡ لَّنَاۤ اِلٰـہًا کَمَا لَہُمۡ اٰلِـہَۃٌ ؕ قَالَ اِنَّکُمۡ قَوۡمٌ تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۱۳۸﴾
اور ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں پر آئے جو اپنے کچھ بتوں پر جمے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے کوئی معبود بنا دے، جیسے ان کے کچھ معبود ہیں؟ اس نے کہا بے شک تم ایسے لوگ ہو جو نادانی کرتے ہو۔
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا کے پار اتارا تو وہ ایسے لوگوں کے پاس جا پہنچے جو اپنے بتوں (کی عبادت) کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ (بنی اسرائیل) کہنے لگے کہ موسیٰ جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں۔ ہمارے لیے بھی ایک معبود بنا دو۔ موسیٰ نے کہا کہ تم بڑے ہی جاہل لوگ ہو
اور ہم نے بنی اسرائیل کو دریا سے پار اتار دیا۔ پس ان لوگوں کا ایک قوم پر گزر ہوا جو اپنے چند بتوں سے لگے بیٹھے تھے، کہنے لگے اے موسیٰ! ہمارے لیے بھی ایک معبود ایسا ہی مقرر کر دیجئے! جیسے ان کے یہ معبود ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ واقعی تم لوگوں میں بڑی جہالت ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 137 میں تا آیت 139 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

138۔ 1 اس سے بڑی جہالت اور نادانی کیا ہوگی کہ جس اللہ نے انہیں فرعون جیسے دشمن سے نہ صرف نجات دی، بلکہ ان کی آنکھوں کے سامنے اسے اس کے لشکر سمیت غرق کردیا اور معجزانہ طر یقہ سے دریا عبور کروا دیا۔ وہ دریا پار کرتے ہی اس اللہ کو بھول کر پتھر کے خود تراشیدہ معبود تلاش کرنے لگ گئے۔ کہتے ہیں کہ یہ بت گائے کی شکل کے تھے جو پتھر کی بنی ہوئی تھیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

138۔ اور (جب) ہم نے بنی اسرائیل کو سمندر سے پار اتار دیا تو وہ ایک ایسی قوم کے پاس آئے جو اپنے بتوں کی عبادت میں لگے ہوئے تھے۔ کہنے لگے: موسیٰ! ہمیں بھی ایک ایسا الٰہ بنا دو جیسا ان لوگوں کا الٰہ ہے“ موسیٰ نے کہا: ”بلا شبہ تم بڑے [134] جاہل لوگ ہو
[134] گؤ سالہ پرستی کی استدعا:۔
بنی اسرائیل اگرچہ سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لا چکے تھے اور اپنے موحد ہونے کا اقرار بھی کرتے تھے تاہم اس کے اندر گؤ سالہ پرستی کے جراثیم ہنوز باقی تھے جس میں انہوں نے اپنی عمریں گزار دی تھیں۔ سمندر پار کرتے ہی انہوں نے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ بچھڑے کا ایک پیتل کا بنا ہوا بت عبادت خانہ میں اپنے سامنے رکھ کر اس کی پوجا پاٹ میں مشغول تھے انہیں دیکھ کر بنی اسرائیل کو اپنی پرانی یاد تازہ ہو گئی اور گؤ سالہ پرستی کے لیے جی للچا آیا حتیٰ کہ موسیٰؑ کو یہ بات کہہ بھی دی۔ موسیٰؑ نے انہیں کہا کہ یہ تم کیسی جہالت کی باتیں کر رہے ہو؟ ابھی تک یہ بات تمہاری سمجھ میں نہیں آسکی کہ عبادت کے لائق صرف اللہ کی ذات ہے۔
پیکر محسوس اور تصور شیخ کی علّت اور ذات انواط:۔
بت پرست لوگ عموماً یہ کہا کرتے ہیں کہ ہم ان بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ اللہ ہی کی پوجا کرتے ہیں مگر چونکہ انسانی طبیعت کا خاصہ ہے کہ وہ ایک محسوس چیز کی طرف زیادہ مائل ہوتی ہے اس لیے کسی بت کو سامنے رکھنے سے ہم اللہ کی طرف زیادہ متوجہ ہوتے ہیں اور مسلمان کسی کا بت تو سامنے نہیں رکھتے مگر اپنے شیخ کا تصور یا تصویر اس طرح اپنے ذہن میں پختہ کرتے ہیں کہ اس کا تصور یا تصویر آنکھوں کے سامنے رہے اور کہتے ہیں کہ عبادت ہم اللہ ہی کی کرتے ہیں ایسی سب باتیں شرک ہی کا پیش خیمہ ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی ہر بات سے منع فرما دیا ہے جس میں شرک کا شائبہ تک بھی پایا جاتا ہو چنانچہ ایک دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی لڑائی میں تشریف لے گئے وہاں مسلمانوں نے ایک بیری کا درخت دیکھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ خواہش ظاہر کی کہ جس طرح کافروں نے ایک درخت مقرر کر رکھا ہے جس پر وہ اپنے کپڑے اور ہتھیار لٹکاتے اور اس کے گرد جمے رہتے ہیں اور اسے ذات انواط کہتے ہیں اسی طرح آپ ہمارے لیے بھی ایک ذات انواط مقرر فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تو وہی مثال ہوئی جیسے بنی اسرائیل نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہمیں بھی ایک بت بنا دیجئے جس طرح ان لوگوں کے بت ہیں۔ [ترمذي۔ ابواب الفتن۔ باب لتركبن سنن من كان قبلكم]

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

شوق بت پرستی ٭٭
اتنی ساری اللہ کی قدرت کی نشانیاں بنی اسرائیل دیکھ چکے لیکن دریا پار اترتے ہی بت پرستوں کے ایک گروہ کو اپنے بتوں کے آس پاس اعتکاف میں بیٹھے دیکھتے ہی موسیٰ علیہ السلام سے کہنے لگے کہ ہمارے لیے بھی کوئی چیز مقرر کر دیجئے تاکہ ہم بھی اس کی عبادت کریں جیسے کہ ان کے معبود ان کے سامنے ہیں۔ یہ کافر لوگ کنعانی تھے۔ ایک قول ہے کہ لحم قبیلہ کے تھے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:46/6]‏‏‏‏
یہ گائے کی شکل بنائے ہوئے اس کی پوجا کر رہے تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس کے جواب میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال سے محض ناواقف ہو۔ تم نہیں جانتے کہ اللہ شریک و مثیل سے پاک اور بلند تر ہے۔
یہ لوگ جس کام میں مبتلا ہیں، وہ تباہ کن ہے اور ان کا عمل باطل ہے۔
سیدنا ابوواقد لیثی رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ { جب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکے شریف سے حنین کو روانہ ہوئے تو راستے میں انہیں بیری کا وہ درخت ملا جہاں مشرکین مجاور بن کر بیٹھا کرتے تھے اور اپنے ہتھیار وہاں لٹکایا کرتے تھے، اس کا نام ذات انواط تھا تو صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک ذات انواط ہمارے لیے بھی مقرر کر دیں۔ آپ نے فرمایا: اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم نے قوم موسیٰ علیہ السلام جیسی بات کہہ دی کہ ہمارے لیے بھی معبود مقرر کر دیجئے جیسا ان کا معبود ہے۔ جس کے جواب میں کلیم اللہ علیہ السلام نے فرمایا: تم جاہل لوگ ہو، یہ لوگ جس شغل میں ہیں، وہ ہلاکت خیز ہے اور جس کام میں ہیں، وہ باطل ہے۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:15065]‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن جریر)
مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ یہ درخواست کرنے والے ابوواقد لیثی تھے۔ جواب سے پہلے یہ سوال سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ اکبر کہنا بھی مروی ہے اور یہ بھی کہ آپ نے فرمایا کہ { تم بھی اپنے اگلوں کی سی چال چلنے لگے۔ } ۱؎[سنن ترمذي:2180،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏