ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 121

قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۲۱﴾ۙ
انھوں نے کہا ہم جہانوں کے رب پر ایمان لائے۔
اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے
کہنے لگے کہ ہم ایمان ﻻئے رب العالمین پر

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 122،121) {قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ …:} ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے کے ساتھ «{ رَبِّ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ (جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے) اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انھوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا کہ لوگوں کو موسیٰ علیہ السلام کے محض ایک جادوگر ہونے کا یقین دلا سکیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

121۔ 1 جادوگر جادو کے فن اور اس کی اصل حقیقت جانتے تھے یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ موسیٰ ؑ نے جو کچھ یہاں پیش کیا، جادو نہیں ہے، یہ واقع ہی اللہ کا نمائندہ ہے اور اللہ کی مدد سے ہی اس نے یہ معجزہ پیش کیا ہے جس نے آن واحد میں ہم سب کے کرتبوں پر پانی پھیر دیا۔ چناچہ انہوں نے موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کا اعلان کردیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ باطل باطل ہے چاہے اس پر کتنے ہی حسین غلاف چڑھا لئے جائیں اور حق حق ہے چاہے اس پر کتنے ہی پردے ڈال دیئے جائیں تاہم حق کا ڈنکا بج کر رہتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

121۔ (اور) کہنے لگے: ”ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔