(آیت 120) { وَاُلْقِيَالسَّحَرَةُسٰجِدِيْنَ:} یعنی چونکہ جادوگر جادو کی حقیقت کو سمجھتے تھے، اس لیے معجزہ دیکھ کر وہ بے اختیار سجدے میں گر پڑے، جیسے وہ خود نہ گرے ہوں بلکہ اندر سے کسی چیز نے انھیں گرا دیا ہو۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
120۔ اور جادوگر بے اختیار [120] سجدے میں گر پڑے
[120] جادوگروں کا سجدے میں گرنا اور ایمان کا اعلان:۔
یعنی اس مقابلے میں جب فرعون اور اس کے درباری مغلوب اور سیدنا موسیٰؑ و ہارونؑ غالب آئے تو ان دونوں نبیوں نے سجدہ شکر ادا کیا انہیں دیکھ کر جادوگروں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی بے اختیار ان کے ساتھ سجدہ میں گر گئے بعد میں اسی بھرے مجمع میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم اس اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰؑ و ہارونؑ کا پروردگار ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی کہ فرعون بھی اپنے رب ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ رہی یہ بات کہ ان جادوگروں کے دلوں پر کیا گزری اور کیسے ایسی کیفیت طاری ہو گئی کہ وہ مجبوراً اپنے پروردگار کے سامنے سر بسجود ہو گئے اس کیفیت کی وضاحت کے لیے ہم یہاں معجزہ اور جادو کا فرق مختصراً بیان کرتے ہیں۔
معجزے اور جادو میں فرق:۔
1۔ جادو میں اشیاء کی حقیقت نہیں بدلتی بلکہ لوگوں کی نظروں کو فریب دیا جاتا ہے جبکہ معجزے میں اس چیز کی حقیقت ہی بدل جاتی ہے۔ سیدنا موسیٰؑ کا عصا معجزے سے زندہ سانپ بن جاتا تھا تبھی تو وہ ان جعلی سانپوں کو نگلنے لگتا تھا جبکہ جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپ ایک دوسرے کو نگل نہیں سکتے تھے اسی بنا پر جادوگر سیدنا موسیٰؑ پر ایمان لائے تھے کیونکہ ایک ماہر فن ہونے کی حیثیت سے وہ یہ بات خوب جانتے تھے کہ جو چیز سیدنا موسیٰؑ نے پیش کی ہے وہ جادو کی انتہائی پرواز سے بھی ماوراء ہے۔ 2۔ جادو شدہ چیز کا اہلاک ممکن ہے جیسے سیدنا موسیٰؑ کے عصا نے اژدہا بن کرجادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں یا لاٹھیوں کو نگل کر ان کا وجود ہی ختم کر دیا تھا مگر معجزے میں ایسا اہلاک ممکن نہیں۔ وہ چیز یا تو اپنی سابقہ حالت پر لوٹ آتی ہے جیسے موسیٰؑ کا عصا پھینکنے پر اژدہا بن جانا پھر جب اسے پکڑتے تو وہ عصا بن جاتا تھا یا آپؑ کا ہاتھ دوبارہ بغل میں ڈالنے پر اپنی سابقہ عام حالت پر آجاتا تھا۔ صالحؑ کی اونٹنی کی رگ کاٹی گئی تو وہ اسی پہاڑی میں چلی گئی جہاں سے نکلی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں چاند پھٹا تو پھر جڑ کر پورا ہو گیا یا پھر اس حالت میں طویل مدت تک برقرار رہتی ہے جیسے چاہ زمزم یا عصا مارنے سے بارہ چشموں کا پھوٹنا۔ 3۔ اگر کوئی قوم اپنے نبی سے کوئی خاص معجزہ طلب کرے اور وہی معجزہ اس نبی کو عطا کر دیا جائے پھر بھی وہ قوم اپنی ضد پر اڑی رہے تو اس قوم پر عذاب کا نازل ہونا یقینی ہوتا ہے۔ جیسے صالحؑ کی قوم ثمود پر عذاب آیا تھا یا دسترخوان کا مطالبہ کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے متنبہ فرمایا تھا لیکن جادو کا انکار کرنے سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑتا خواہ مطالبے پر ہی کوئی چیز ظہور پذیر ہوئی ہو۔ 4۔ معجزہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے جس کا صدور نبی سے ہوتا ہے اور یہ کسی طبعی قانون یا اصل پر مبنی نہیں ہوتا جسے سیکھا اور سکھلایا جا سکے جبکہ جادو ایک فن ہے اور یہ سیکھا اور سکھلایا جا سکتا ہے اور اس کا ماحصل شعبدہ بازی ہوتا ہے جس سے لوگوں کو فریب دیا جا سکے اور اسے پیشہ بنا کر پیٹ کا دھندا کیا جاتا ہے۔ 5۔ جادوگر کی تمام زندگی خوف، دہشت، ایذا رسانی اور بد عملی سے وابستہ ہوتی ہے لہٰذا لوگ اس کے شر سے بچنے کے لیے اس سے خوف کھاتے اور مرعوب ہوتے ہیں جبکہ نبی کی تمام زندگی صداقت، خلوص، مخلوق خدا کی ہمدردی، خیر خواہی، بھلائی اور تقویٰ و طہارت سے عبارت ہوتی ہے نبی کبھی اس معجزے کو پیشہ نہیں بناتا بلکہ کسی اہم موقع پر صداقت و حق کی حمایت میں اس کا مظاہرہ کرتا ہے اور وہ لوگوں میں معزز اور محبوب ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔