ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 110

یُّرِیۡدُ اَنۡ یُّخۡرِجَکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ ۚ فَمَا ذَا تَاۡمُرُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
جو چاہتا ہے کہ تمھیں تمھاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو؟
اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟
یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشوره دیتے ہو

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 109 میں تا آیت 111 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

110۔ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال [113] دے۔ اب تم کیا مشورہ دیتے ہو“
[113] اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰؑ کو جادوگر قرار دینے کی بات فرعون نے پہلے خود کی تھی بعد میں اس کے درباریوں نے ہاں میں ہاں ملا دی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
جب ڈر خوف جاتا رہا، فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہو گئے تو فرعون نے کہا: بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔
اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہو جائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا۔ ہمیں جلا وطن کر دے گا۔ بتاؤ کیا کرنا چاہیئے؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا، وہی سامنے آیا۔