(آیت 108) {بَيْضَآءُلِلنّٰظِرِيْنَ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ کی وہ سفیدی عام سفیدی نہیں تھی بلکہ اس میں کوئی معجزانہ شان تھی کہ اس کی چمک اور ہیبت کی وجہ سے فرعون نے اسے جادو قرار دیا، ورنہ عام سفیدی کو جادو کون کہتا ہے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
18۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے نے جو دو معجزے انہیں عطا فرمائے تھے، اپنے صداقت کے لئے انہیں پیش کردیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
108۔ اور (بغل سے) اپنا ہاتھ نکالا تو وہ دیکھنے والوں کو چمکدار [112] دکھائی دینے لگا
[112] عصائے موسیٰ اور ید بیضاء:۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰؑ نے فرعون کے مطالبہ پر اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ تھوڑی دیر میں بہت بڑا اژدہا بن گیا اور اپنا منہ کھول کر فرعون ہی کی طرف لپکا۔ فرعون نے سخت دہشت زدگی کی حالت میں موسیٰؑ سے التجا کی کہ اس سانپ کو سنبھال لے۔ آپؑ نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ پھر عصا بن گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایا اور اسے نکالا تو وہ سفید اور چمکدار تھا۔ حالانکہ سیدنا موسیٰؑ کا اپنا رنگ گندمی تھا یہ ہاتھ اتنا تابدار ہو کر بغل سے نکلتا تھا جس سے آنکھیں چندھیانے لگتی تھیں۔ یہاں بعض عقل پرست فرقوں کی طرف سے ایک اور بحث بھی چل نکلی ہے کہ آیا اس طبعی دنیا میں ایسے خرق عادت واقعات کا ظہور ممکن بھی ہے یا نہیں؟۔ دوسرے الفاظ میں اس بحث کا عنوان یہ ہے کہ اس کائنات میں انتظام کے لیے اللہ نے جو طبعی قوانین بنائے ہیں کیا وہ خود ان قوانین میں کسی وقت اپنی مرضی کے مطابق تصرف یا رد و بدل بھی کر سکتا ہے یا نہیں؟ عقل پرست ایسے خرق عادت واقعات کا انکار کر دیتے ہیں اور قرآن میں جہاں کہیں ایسے واقعات مذکور ہیں ان کی دوراز کار تاویلات کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایسی دور از کار کہ قرآن کی عبارت جن کی متحمل ہی نہیں ہو سکتی ان حواشی میں اس طویل بحث کی گنجائش نہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے میری تصنیف ”عقل پرستی اور انکار معجزات“ نیز آئینہ پرویزیت حصہ اول و دوم)
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
عصائے موسیٰ اور فرعون ٭٭
آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی۔ وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لیے اسے روک۔ اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے۔ میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دوں گا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور وہ اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: موسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی فرعون کہنے لگا: میں تجھے پہچانتا ہوں۔ آپ نے فرمایا: یقیناً۔ اس نے کہا: تو نے بچپن ہمارے گھر کے ٹکڑوں پر ہی تو گزارا ہے۔ اس کا جواب موسیٰ علیہ السلام دے ہی رہے تھے کہ اس نے کہا: اسے گرفتار کر لو۔ آپ نے جھٹ سے اپنی لکڑی زمین پر ڈال دی جس نے سانپ بن کر ان پر حملہ کر دیا۔ اس بد حواسی میں ایک دوسرے کو کچلتے اور قتل کرتے ہوئے وہ سب کے سب بھاگے۔ چنانچہ پچیس ہزار آدمی اسی ہنگامے میں ایک دوسرے کے ہاتھوں مارے گئے اور فرعون سیدھا اپنے گھر میں گھس گیا لیکن اس واقعہ کے بیان کی سند میں غرابت ہے۔ «وَاللهُاَعْلَمُ» ۔ اسی طرح دوسرا معجزہ آپ نے یہ ظاہر کیا کہ اپنا ہاتھ اپنی چادر میں ڈال کر نکالا تو بغیر اس کے کہ کوئی روگ یا برص یا داغ ہو، وہ سفید چمکتا ہوا بن کر نکل آیا جسے ہر ایک نے دیکھا پھر ہاتھ اندر کیا تو یہ ویسا ہی ہو گیا۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔