(آیت 104){ وَقَالَمُوْسٰىيٰفِرْعَوْنُاِنِّيْرَسُوْلٌ …:} فرعون مصر کے ہر بادشاہ کا لقب تھا، جیسا کہ روم کے بادشاہ کا قیصر اور فارس کے بادشاہ کا لقب کسریٰ تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسے اس کے عزت والے نام کے ساتھ نہایت نرمی کے ساتھ مخاطب فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں بھیجتے وقت تلقین فرمائی تھی۔ دیکھیے سورۂ طٰہٰ (۴۴) اس فرعون کا نام منفتاح بن رعمسیس ثانی یا ولید بن ریان بتایا جاتا ہے، مگر یہ بات کسی قابل اعتماد ذریعے سے ثابت نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
104۔ موسیٰ نے فرعون [110] سے کہا: ”میں یقیناً اللہ رب العالمین کا رسول ہوں
[110] لقب فرعون کی حقیقت اور فرعون کی سلطنت کی وسعت:۔
اس دور میں مصر کے ہر بادشاہ کا لقب فرعون ہوا کرتا تھا اور ان کا اصلی نام الگ ہوا کرتا تھا۔ فرعون کے لقب کے پیچھے یہ تصور کار فرما تھا کہ سب سے بڑے دیوتا سورج کی روح بادشاہ کے جسم میں حلول کر جاتی ہے اس لحاظ سے وہ بادشاہ اس زمین میں اسی سبب سے بڑے دیوتا یا مہا دیو کا جسمانی مظہر ہوتا ہے اسی بنا پر تمام فراعنہ زمین پر اپنی خدائی کا دعویٰ بھی رکھتے تھے۔ موسیٰؑ کو اپنی زندگی میں دو فرعونوں سے پالا پڑا تھا ایک وہ فرعون جس نے سیدنا موسیٰؑ کی پرورش کی تھی اور اس کا نام رعمسیس تھا۔ جب موسیٰؑ مصر سے بھاگ کر دس سال کا عرصہ سیدنا شعیبؑ کے زیر تربیت رہے اس دوران یہ فرعون مر چکا تھا اور اس کا بیٹا تخت نشین ہو چکا تھا۔ ان کے زمانہ کا صحیح صحیح تعین بہت مشکل ہے کیونکہ تاریخوں میں بہت اختلاف پایا جاتا ہے تاہم یہ زمانہ سوا ہزار قبل مسیح سے لے کر ڈیڑھ ہزار قبل مسیح کے درمیان ہی ہو سکتا ہے جس فرعون کے سامنے سیدنا موسیٰؑ اپنے معجزات لے کر گئے تھے یہ وہی رعمسیس کا بیٹا تھا جس کی سلطنت بڑی وسیع تھی جو شام سے لے کر لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک پھیلی ہوئی تھی یہ فرعون اس وسیع علاقے کا صرف بادشاہ ہی نہ تھا بلکہ معبود بھی بنا ہوا تھا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
موسیٰ علیہ السلام اور فرعون ٭٭
موسیٰ علیہ السلام کے اور فرعون کے درمیان جو گفتگو ہوئی، اس کا ذکر ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلیم علیہ السلام نے فرمایا کہ اے فرعون! میں رب العالمین کا رسول ہوں جو تمام عالم کا خالق و مالک ہے۔ مجھے یہی لائق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارہ میں وہی باتیں کہوں جو سراسر حق ہوں «ب» اور «علی» یہ متعاقب ہوا کرتے ہیں۔ جیسے «رَمَیْتَبِالْقَوْسِ» اور «رَمَیْتَ علی الْقَوْسِ» وغیرہ۔ اور بعض مفسرین کہتے ہیں: «حَقِیْقٌ» کے معنی «حَرِیْصٌ» کے ہیں۔ یہ معنی بھی بیان کئے گئے ہیں کہ مجھ پر واجب اور حق ہے کہ اللہ ذوالمنن کا نام لے کر وہی خبر دوں جو حق و صداقت والی ہو کیونکہ میں اللہ عزوجل کی عظمت سے واقف ہوں، میں اپنی صداقت پر الٰہی دلیل بھی ساتھ ہی لایا ہوں۔ تو قوم بنی اسرائیل کو اپنے مظام سے آزاد کر دے، انہیں اپنی زبردستی کی غلامی سے نکال دے، انہیں ان کے رب کی عبادت کرنے دے۔ یہ ایک زبردست بزرگ پیغمبر کی نسل سے ہیں یعنی یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم خلیل اللہ علیہم السلام کی اولاد ہیں۔ فرعون نے کہا: میں تجھے سچا نہیں سمجھتا، نہ تیری طلب پوری کروں گا اور اگر تو اپنے دعوے میں واقعی سچا ہے تو کوئی معجزہ پیش کر۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔