ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأعراف (7) — آیت 101

تِلۡکَ الۡقُرٰی نَقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآئِہَا ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا بِمَا کَذَّبُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَذٰلِکَ یَطۡبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾
یہ بستیاں ہیں، ہم تجھ سے ان کے کچھ حالات بیان کر رہے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے، تو وہ ایسے نہ تھے کہ اس چیز کو مان لیتے جسے وہ اس سے پہلے جھٹلا چکے تھے۔ اسی طرحاللہ کافروں کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے۔
یہ بستیاں ہیں جن کے کچھ حالات ہم تم کو سناتے ہیں۔ اور ان کے پاس ان کے پیغمبر نشانیاں لے کر آئے۔ مگر وہ ایسے نہیں تھے کہ جس چیز کو پہلے جھٹلا چکے ہوں اسے مان لیں اسی طرح خدا کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے
ان بستیوں کے کچھ کچھ قصے ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے، پھر جس چیز کو انہوں نے ابتدا میں جھوٹا کہہ دیا یہ بات نہ ہوئی کہ پھر اس کو مان لیتے، اللہ تعالیٰ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 101) ➊ {تِلْكَ الْقُرٰى …:} یہاں { الْقُرٰى } سے مراد گزشتہ پانچ اقوام (قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب) کی بستیاں ہیں۔ آپ کو ان کے کچھ حالات سنانے کا مقصد یہ ہے کہ کفار مکہ جو ان بستیوں میں رہنے والوں کی طرح آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، عبرت حاصل کریں۔
➋ {فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ:} یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے رسولوں کے پاس اپنے سچا ہونے کے دلائل نہیں تھے، یا وہ دلائل اتنے واضح اور روشن نہیں تھے کہ قائل کر سکیں، بلکہ اس کا سبب ان کی قوم کا پہلے سے طے کر لینا تھا کہ ہم نے ماننا ہی نہیں۔ اب پہلے جھٹلا دینے کے بعد وہ ایمان لے آتے تو ان کی جھوٹی عزت نفس پر حرف آتا تھا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ اِذَا قِيْلَ لَهُ اتَّقِ اللّٰهَ اَخَذَتْهُ الْعِزَّةُ بِالْاِثْمِ فَحَسْبُهٗ جَهَنَّمُ وَ لَبِئْسَ الْمِهَادُ [البقرۃ: ۲۰۶] اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر تو اس کی عزت اسے گناہ میں پکڑے رکھتی ہے، سو اسے جہنم ہی کافی ہے اور یقینا وہ برا ٹھکانا ہے۔ یہی گناہ (یعنی دلائل دیکھنے کے باوجود پہلے ہی جھٹلا دینا اور اس پر اصرار کرنا) ان کے دلوں پر مہر کا باعث بن گیا۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۰۹، ۱۱۰)۔
➌ {كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ:} یعنی جس طرح پہلی امتوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ان کے دلوں کی صلاحیتیں سلب کر لی گئی تھیں اور انھیں ایمان نصیب نہیں ہوا تھا اسی طرح ان کے دل بھی مسخ ہو چکے ہیں اور ان میں ایمان کی صلاحیت باقی نہیں رہی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

(1) جس طرح گزشتہ صفحات میں چند انبیاء کا ذکر گزرا۔ بینات سے مراد دلائل وبراہین اور معجزات دونوں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے جب تک ہم نے حجت تمام نہیں کردی ہم نے انہیں ہلاک نہیں کیا۔ کیونکہ جب تک ہم رسول نہیں بھیجتے عذاب نازل نہیں کرتے۔ 11۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یوم میثاق کو جب عہد لیا گیا تھا تو یہ اللہ کے علم میں ایمان لانے والے نہ تھے اس لئے جب ان کے پاس رسول آئے تو اللہ کے علم کے مطابق ایمان نہیں لائے، کیونکہ ان کی تقدیر میں ہی ایمان نہیں تھا جسے اللہ نے اپنے علم کے مطابق لکھ دیا تھا۔ جس کو حدیث میں تعبیر کیا گیا ہے دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب پیغمبر ان کے پاس آئے تو اس وجہ سے ان پر ایمان نہیں لائے کہ وہ اس سے قبل حق کی تکذیب کرچکے تھے۔ گویا ابتدا میں جس چیز کی تکذیب کرچکے تھے، یہی گناہ ان کے عدم ایمان کا سبب بن گیا اور ایمان لانے کی توفیق ان سے سلب کرلی گئی، اسی کو اگلے جملے میں مہر لگانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (وَمَا يُشْعِرُكُمْ ۙ اَنَّهَآ اِذَا جَاۗءَتْ لَا يُؤْمِنُوْنَ 19۔ وَنُقَلِّبُ اَفْــــِٕدَتَهُمْ وَاَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ يُؤْمِنُوْا بِهٖٓ اَوَّلَ مَرَّةٍ) 6۔ الانعام:19) اور تمہیں کیا معلوم ہے یہ تو ایسے (بدبخت) ہیں کہ ان کے پاس نشانیاں بھی اجائیں تب بھی ایمان نہ لائیں اور ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے (تو) جیسے یہ اس (قرآن) پر پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے (ویسے پھر نہ لائیں گے)۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

101۔ یہ بستیاں [105] ہیں جن کے احوال ہم نے آپ سے بیان کر دیئے ہیں۔ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل لے کر آئے تھے مگر جس بات کو وہ پہلے جھٹلا چکے تھے اس پر ایمان لانا [106] انہوں نے مناسب نہ سمجھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے
[105] یعنی سیدنا نوحؑ سیدنا ہودؑ، سیدنا صالحؑ، سیدنا لوطؑ اور سیدنا شعیبؑ کے علاقہ ہائے تبلیغ رسالت۔
[106] دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے؟
آیت کے اس حصہ میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے؟ اور دوسرے یہ کہ اس مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف کس لحاظ سے ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے دل پر مہر یوں لگتی ہے کہ وہ جس بات کا ایک دفعہ انکار کر دیتا ہے یا اسے جھٹلا دیتا ہے پھر اسے کوئی نشانی دیکھنے سے یا کسی کے سمجھانے سے حقیقت سمجھ میں آبھی جائے تو محض اس لیے اپنے پہلے سے کیے ہوئے انکار پر ڈٹ جاتا ہے کہ اس سے اس کی انا مجروح ہوتی ہے۔ جب کوئی انسان اس حالت کو پہنچ جائے تو اسے سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے دل پر اللہ کی مہر لگنے کا وقت آ گیا ہے اور آئندہ وہ حق بات تسلیم کرنے کے قابل ہی نہ رہے گا۔
مہر لگنے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں؟
مہر لگانے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف اس لیے ہے کہ اسباب کو اختیار کرنا انسان کے اپنے بس میں ہے اور اسی وجہ سے اسے سبب اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس کے اعمال کی جزا و سزا کا دار و مدار بھی اسباب کو اختیار کرنے کی بنا پر ہے۔ لیکن ان اسباب کے مسببات یا نتائج حاصل کرنا انسان کے اختیار میں نہیں ہے یہ نتائج اکثر اوقات تو اختیار کردہ اسباب کے مطابق ہی برآمد ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار ان کے خلاف بھی برآمد ہو سکتے ہیں لہٰذا نتائج کی نسبت اسباب اختیار کرنے والے کی طرف بھی ہو سکتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف بھی۔ اور قرآن میں یہ نسبت دونوں طرح سے استعمال ہوئی ہے۔ بہرحال یہ نسبت اگر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی ہو تو بھی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کسی سبب اختیار کرنے والے مجرم کے عمل کے نتیجے میں ہے۔ اور حقیقتاً مجرم وہ ہے جس نے ایسے اسباب اختیار کیے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا ٭٭
پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہو گئے۔ صرف ماننے والے بچ گئے۔
اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ ’ جب تک رسول نہ آ جائیں، خبردار نہ کر دیئے جائیں، عذاب نہیں کئے جاتے۔ ‘ ۱؎ [17-الإسراء:15]‏‏‏‏
ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کر دیا تھا، ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت «بِمَا كَذَّبُوا» میں «ب» سببیہ ہے۔ جیسے ساتویں پارے کے آخر میں فرمایا ہے کہ ’ تم کیا جانو؟ یہ لوگ تو معجزے آنے پر بھی ایمان نہ لائیں گے۔ ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو الٹ دیں گے۔ جیسے کہ یہ اس قرآن پر پہلی بار ایمان نہ لائے تھے اور ہم انہیں ان کی سرکشی کی حالت میں بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیں گے۔ ‘ ۱؎ [6-الأنعام:109-110]‏‏‏‏
یہاں بھی فرمان ہے کہ کفار کے دلوں پر اسی طرح ہم مہر لگا دیا کرتے ہیں۔
ان میں سے اکثر بدعہد ہیں بلکہ عموماً فاسق ہیں۔ یہ عہد وہ ہے جو روز ازل میں لیا گیا تھا اور اسی پر پیدا کئے گئے۔ اسی فطرت اور جبلت میں رکھا گیا، اسی کی تاکید انبیاء علیہم السلام کرتے رہے۔ لیکن انہوں نے اس عہد کو پس پشت ڈال دیا یا مطلق پرواہ نہ کی اور اس عہد کے خلاف غیر اللہ کی پرستش شروع کر دی۔ اللہ کو مالک، خالق اور لائق عبادت مان کر آئے تھے لیکن یہاں اس کے سراسر خلاف کرنے لگے اور بےدلیل، خلاف عقل و نقل، خلاف فطرت اور خلاف شرع، اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت میں لگ گئے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں نے اپنے بندوں کو موحد اور یکطرفہ پیدا کیا لیکن شیطان نے آ کر انہیں بہکا دیا اور میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2865]‏‏‏‏
بخاری و مسلم میں ہے: { ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے پھر اسے اس کے ماں باپ یہودی، نصرانی، مجوسی بنا لیتے ہیں الخ۔ } [صحیح بخاری:4775]‏‏‏‏
خود قرآن کریم میں ہے: ’ ہم نے تجھ سے پہلے جتنے رسول بھیجے تھے، سب کی طرف یہی وحی کی تھی کہ میرے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اے دنیا کے لوگو! تم سب صرف میری ہی عبادت کرتے رہو۔ ‘ ۱؎ [21-الأنبياء:25]‏‏‏‏
اور آیت میں ہے: ’ اپنے سے پہلے کے رسولوں سے دریافت کر لو کہ کیا ہم نے اپنے سوا اور معبود ان کے لیے مقرر کئے تھے؟ ‘ ۱؎ [43-الزخرف:45]‏‏‏‏
اور فرمان ہے «وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّـهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ» ۱؎ [16-النحل:36]‏‏‏‏ ’ ہم نے ہر امت میں رسول بھیجا کہ لوگو! صرف اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے سوا ہر ایک کی عبادت سے الگ رہو۔ ‘
اس مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔ اس جملے کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ چونکہ پہلے ہی سے اللہ کے علم میں یہ بات مقرر ہو گئی تھی کہ انہیں ایمان نصیب نہیں ہو گا۔ یہی ہو کر رہا کہ باوجود دلائل سامنے آ جانے کے، ایمان نہ لائے۔ میثاق والے دن گو یہ ایمان قبول کر بیٹھے لیکن ان کے دلوں کی حالت اللہ جل شانہ کو معلوم تھی کہ ان کا ایمان جبراً اور ناخوشی سے ہے۔
جیسے فرمان ہے کہ ’ یہ اگر دوبارہ دنیا کی طرف لوٹائے جائیں تو پھر بھی وہی کام نئے سرے سے کرنے لگیں گے جن سے انہیں روکا گیا ہے۔ ‘ [6-الأنعام:28]‏‏‏‏