(آیت 10) {وَلَقَدْمَكَّنّٰكُمْفِيالْاَرْضِ ……:} اوپر کی آیات میں انذار و تبشیر کے ساتھ لوگوں کو انبیاء کی دعوت قبول کرنے کی ترغیب دی اور ترغیب میں نعمتوں کی کثرت کی طرف اشارہ تھا، اب یہاں سے نعمتوں کے بیان کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، ساتھ ہی شیطان کے حسد اور انسان کو اﷲ کی نعمتوں سے محروم کرنے کی جد و جہد کا ذکر ہے، تاکہ ہم اس سے بچ سکیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
10۔ ہم نے تمہیں زمین میں اختیار دیا [8] اور تمہارے لیے سامان زیست بنایا۔ مگر تم لوگ کم ہی شکر ادا کرتے ہو
[8] یعنی انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اس قدر زیادہ ہیں کہ اگر ان میں سے کوئی بھی ایک کم کر دیا جائے مثلاً ہوا کا وجود ہی ختم ہو جائے یا دھوپ کبھی نہ نکلے تو اس دنیا میں اس کا جینا محال ہو جائے ان احسانات کا بدلہ تو یہ ہونا چاہیے کہ انسان اللہ کے شکر گزار بندے بن جاتے مگر ایسا خیال کم ہی لوگوں کو آتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالیٰ کے احسانات ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنا احسان بیان فرما رہا ہے کہ اس نے زمین اپنے بندوں کے رہنے سہنے کے لئے بنائی۔ اس میں مضبوط پہاڑ گاڑ دیئے کہ ہلے جلے نہیں، اس میں چشمے جاری کر دیئے، اس میں منزلیں اور گھر بنانے کی طاقت انسان کو عطا فرمائی اور بہت سی نفع کی چیزیں اس لیے پیدا فرمائیں۔ ابر مقرر کر کے اس میں سے پانی برسا کر ان کے لیے کھیت اور باغات پیدا کئے۔ تلاش معاش کے وسائل مہیا فرمائے۔ تجارت اور کمائی کے طریقے سکھا دیئے۔ باوجود اس کے اکثر لوگ پوری شکر گزاری نہیں کرتے۔ ایک آیت میں فرمان ہے «وَإِنتَعُدُّوانِعْمَتَاللَّـهِلَاتُحْصُوهَاإِنَّالْإِنسَانَلَظَلُومٌكَفَّارٌ»۱؎[14-إبراهيم:34] یعنی ’ اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننے بیٹھو تو یہ بھی تمہارے بس کی بات نہیں لیکن انسان بڑا ہی ناانصاف اور ناشکرا ہے۔ ‘ «مَعَايِشَ» تو جمہور کی قرأت ہے لیکن عبدالرحمٰن بن ہرمز اعرج «مَعَاۤیِـْش» پڑھتے ہیں اور ٹھیک وہی ہے جس پر اکثریت ہے۔ اس لیے کہ «مَعَايِشَ» جمع ہے «مَعِیْشَتہٌ» کی۔ اس کا باب «عَاشَیَعِیْشُعَیْشًا» ہے۔ «مَعِیْشَتہٌ» کی اصل «مَعِیْشَتہٌ» ہے۔ کسرہ «یا» پر تقلیل تھا، نقل کر کے ماقبل کو دیا «مَعِیْشَتہٌ» ہو گیا لیکن جمع کے وقت پھر کسرہ «یا» پر آ گیا کیونکہ اب ثقل نہ رہا۔ پس «مَفَاعِلٌ» کے وزن پر «مَعَايِشَ» ہو گیا کیونکہ اس کلمہ میں «یا» اصلی ہے۔ بخلاف «مدائن» ، «صحائف» اور «بصائر» کے جو «مدینہ» ، «صحیفہ» اور «بصیرہ» کی جمع ہے باب «مدن» ، «صحف» اور «ابصر» سے۔ ان میں چونکہ «یا» زائد ہے اس لیے ہمزہ دی جاتی ہے اور «مفاعل» کے وزن پر جمع آتی ہے۔ «وَاللهُاَعْلَمُ» ۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔