(آیت 50) {وَاِنَّهٗلَحَسْرَةٌ …:} یعنی یہ جھٹلانا کفار کے لیے باعث حسرت ہو گا، یا یہ قرآن کفار کے لیے باعث حسرت و افسوس ہو گا کہ انھوں نے اسے کیوں جھٹلایا۔ دوسری جگہ فرمایا: «رُبَمَايَوَدُّالَّذِيْنَكَفَرُوْالَوْكَانُوْامُسْلِمِيْنَ»[الحجر: ۲]”بہت بار کافر آرزو کریں گے کہ کاش! وہ کسی طرح کے مسلم ہوتے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
50۔ 1 یعنی قیامت والے دن اس پر حسرت کریں گے، کہ کاش ہم نے قرآن کی تکذیب نہ کی ہوتی۔ یا یہ قرآن بجائے خود ان کے لئے حسرت کا باعث ہوگا، جب وہ اہل ایمان کو قرآن کا اجر ملتے ہوئے دیکھیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
50۔ اور بلا شبہ یہ کافروں کے لئے باعث حسرت ہے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔