اس آیت کی تفسیر آیت 45 میں تا آیت 47 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 خیال رہے یہ سزا، خاص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ضمن میں بیان کی گئی ہے جس سے مقصد آپ کی صداقت کا اظہار ہے۔ اس میں یہ اصول بیان نہیں کیا گیا ہے کہ جو بھی نبوت کا جھوٹا وعدہ کرے تو جھوٹے مدعی کو ہم فورا سزا سے دوچار کردیں گے لہذا اس سے کسی جھوٹے نبی کو اس لیے سچا باور نہیں کرایا جاسکتا کہ دنیا میں وہ مؤخذہ الہی سے بچا رہا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ پھر اس کی رگ گردن کاٹ ڈالتے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔