ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحاقة (69) — آیت 3

وَ مَاۤ اَدۡرٰىکَ مَا الۡحَآقَّۃُ ؕ﴿۳﴾
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ ہو کر رہنے والی کیا ہے؟ En
اور تم کو کیا معلوم ہے کہ سچ مچ ہونے والی کیا ہے؟
En
اور تجھے کیا معلوم ہے کہ وه ﺛابت شده کیا ہے؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 گویا کہ تجھے اس کا علم نہیں، کیونکہ تو نے ابھی اسے دیکھا ہے اور نہ اس کی ہولناکیوں کا مشاہدہ کیا ہے، گویا مخلوقات کے دائرہ علم سے باہر ہے (فتح القدیر)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اور آپ کیا سمجھے کہ وہ سچ مچ ہونے والی [1] کیا ہے
[1] انداز کلام کو اس قدر موکد اس لیے بنایا گیا ہے کہ قرآن کے مخاطب قریشی لوگ قیامت کے کٹر منکر تھے۔ اور اس میں بتایا یہ گیا ہے کہ آپ بھی بس اتنا ہی جان سکتے ہیں۔ کہ قیامت یقیناً آنے والی ہے۔ یہ نہیں جان سکتے کہ کب آئے گی یا اس وقت کیا کیفیت ہو گی۔ چنانچہ اسی سورۃ میں قیامت کی بعض کیفیات بیان کر دی گئی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔