ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحاقة (69) — آیت 29

ہَلَکَ عَنِّیۡ سُلۡطٰنِیَہۡ ﴿ۚ۲۹﴾
میری حکومت مجھ سے برباد ہو گئی۔ En
(ہائے) میری سلطنت خاک میں مل گئی
En
میرا غلبہ بھی مجھ سے جاتا رہا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 28 میں تا آیت 30 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی جس طرح مال میرے کام نہ آیا، جاہ و مرتبہ اور سلطنت و حکومت بھی میرے کام نہ آئی۔ آج میں اکیلا ہی سزا بھگت رہا ہوں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ اور میری حکومت [18] بھی برباد ہو گئی
[18] سلطانیۃ سلطان کا لفظ بادشاہی اور اقتدار کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس صورت میں اس سے مراد وہ علاقہ ہے جو کسی شخص یا ادارہ یا سلطان کے زیر۔
دو بنیادی گناہ ہیں جن سے باقی گناہ پھوٹتے ہیں :۔
اس کے اعمال نامہ یا فرد جرم میں دونوں بڑی قسموں کے جرائم پائے جاتے تھے۔ نہ وہ اللہ پر ایمان لایا اور نہ اس کے اوامر و نواہی کی پروا کی۔ واضح رہے کہ اگر کوئی شخص زبانی طور پر اللہ کی ہستی کا قائل تو ہو مگر آخرت پر اور اس کے سامنے باز پرس پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ تو اس کا زبانی اللہ کی ہستی کا اقرار کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ کفار مکہ اللہ کی ہستی کے قائل تھے مگر آخرت کے قائل نہ تھے تو اللہ نے انہیں کافر ہی قرار دیا ہے اور یہ جرم عذاب جہنم کے مستحق ہونے کے لئے کافی ہے۔ دوسری نوعیت کے جرائم وہ ہیں جن کا بظاہر حقوق العباد سے تعلق ہوتا ہے۔ اگرچہ ان میں بھی اللہ کے حقوق موجود ہوتے ہیں۔ ان کی عام قسم یہ ہے کہ انسان ایک دوسرے سے ہمدردی کرے۔ تنگی ترشی میں ایک دوسرے کے کام آئے اور مالی مدد کرے اور یہ شخص اتنا بخیل واقع ہوا تھا کہ کسی کی مدد تو کیا کرتا دوسروں کو محتاجوں کی مدد کی تلقین یا انہیں کھانا کھلانے کی ترغیب بھی نہیں دیتا تھا۔
نگین ہو اور اس پر اس کا تسلط ہو۔ سلطان کا دوسرا معنی حجت، دلیل اور برہان ہے۔ اس لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ جتنی دلیلیں آخرت کے انکار پر دیا کرتا تھا۔ آج ان میں سے کوئی دلیل بھی مجھے یاد نہیں آرہی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔