اس آیت کی تفسیر آیت 16 میں تا آیت 18 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 یعنی آسمان تو ٹکرے ٹکرے ہوجائے گا پھر فرشتے کہاں ہونگے فرمایا کہ وہ آسمان کے کناروں پر ہوں گے اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرشتے آسمان پھٹنے سے پہلے ہی اللہ کے حکم سے زمین پر آجائیں گے۔ یعنی اب مخصوص فرشتوں نے عرش الٰہی کو اپنے سروں پر اٹھایا ہوا ہوگا، یہ بھی ممکن ہے اس عرش سے مراد وہ عرش ہو جو فیصلوں کے لئے زمین پر رکھا جائے گا، جس پر اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا (ابن کثیر)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ اور فرشتے اس کے کناروں پر ہوں گے اور اس دن آٹھ فرشتے آپ کے پروردگار کے عرش کو اپنے اوپر [13] اٹھائے ہوئے ہوں گے
[13] یعنی اس وقت اللہ تعالیٰ کے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کی تعداد چار ہے۔ اس دن آٹھ فرشتے اس عرش کو اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ عرش کتنا بڑا ہے اس کے متعلق عام خیال یہ ہے کہ زمین کو پہلا آسمان محیط ہے۔ دوسرا آسمان پہلے سے بڑا اور اس کو محیط ہے۔ علی ہذا القیاس ساتواں آسمان چھٹے کو محیط ہے۔ پھر اس کے اوپر آٹھواں آسمان ہے جسے کرسی بھی کہتے ہیں اور فلک افلاک بھی۔ پھر اس کے اوپر اللہ کا عرش ہے جیسے محیط ہونے کے لحاظ سے نواں آسمان کہہ لیجئے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ اتنی بڑائی کے باوجود اللہ کا عرش اللہ سے بہرحال چھوٹا ہے اور اکبر اللہ ہی ہے۔ رہی یہ بات کہ فرشتے اللہ کے عرش کو آج کیسے اٹھائے ہوئے ہیں اور اس دن ان کی تعداد دوگنی کیوں کر دی جائے گی؟ تو ان باتوں کے لئے ہمیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ ہم صرف اتنی بات پر ایمان لاتے ہیں جو اللہ نے واضح طور پر خود بتلا دی ہے۔ نہ اس میں کچھ کمی کرنے کی ضرورت ہے اور نہ اضافہ کی اور نہ کسی قسم کی تاویل کرنے کی۔ اور یہ سب کچھ نفخۂ صور ثانی کے بعد ہو گا۔ جب تمام لوگ اپنی قبروں سے زندہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور میدان محشر میں محاسبہ کے لئے جمع ہوں گے اس وقت اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔