ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحاقة (69) — آیت 11

اِنَّا لَمَّا طَغَا الۡمَآءُ حَمَلۡنٰکُمۡ فِی الۡجَارِیَۃِ ﴿ۙ۱۱﴾
بلاشبہ ہم نے ہی جب پانی حد سے تجاوز کرگیا، تمھیں کشتی میں سوار کیا۔ En
جب پانی طغیانی پر آیا تو ہم نے تم (لوگوں) کو کشتی میں سوار کرلیا
En
جب پانی میں طغیانی آگئی تو اس وقت ہم نے تمہیں کشتی میں چڑھا لیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11){ اِنَّا لَمَّا طَغَا الْمَآءُ …:} نوح علیہ السلام کے واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان کا ذکر کیا ہے، فرمایا نوح(علیہ السلام) کی قوم کے کفر و شرک پر اصرار کی وجہ سے جب پانی اتنا بڑھا کہ عام حدوں سے کہیں اونچا ہو گیا تو ہمیں تھے جنھوں نے تمھیں اس سے پہلے ہی کشتی میں سوار کر لیا اور پھر اتنے بے حساب پانی میں اس کشتی کو محفوظ رکھا، ورنہ اس طوفان سے بچنے کی کوئی صورت نہ تھی۔ یہاں اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد کے زمانے کے لوگوں سے خطاب ہو رہا ہے، مگر مراد یہی ہے کہ تمھارے آباء کو سوار کیا، وہ سوار ہوئے تو تم بھی سوار ہوئے، کیونکہ تم ان کی پشتوں میں تھے۔ اگر وہ اس کشتی میں سوار ہو کر طوفان سے نجات نہ پاتے تو آج تمھارا وجود بھی نہ ہوتا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

11۔ 1 یعنی پانی بلندی میں تجاوز کر گیا، یعنی پانی خوب چڑھ گیا۔ 11۔ 2 کُم سے مخاطب عہد رسالت کے لوگ ہیں، مطلب ہے کہ تم جن آبا کی پشتوں سے ہو، ہم نے انہیں کشتی میں سوار کرکے بپھرے ہوئے پانی سے بچایا تھا۔ اَلْجَارِیَۃ سے مراد سفینہ نوح ؑ ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ جب پانی کا طوفان حد سے بڑھا تو ہم نے ہی تمہیں [8] کشتی میں سوار کر دیا تھا
[8] اس آیت میں طوفان سے مراد طوفان نوح ہے۔ اور ’تمہیں‘ سے مراد وہ تمام بنی نوع انسان ہیں۔ جو دنیا میں اس وقت آباد تھے اور یہ ان لوگوں کی ہی اولاد ہیں جنہیں طوفان نوح کے وقت کشتی میں سوار کر لیا گیا تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔