ترجمہ و تفسیر — سورۃ القلم (68) — آیت 46

اَمۡ تَسۡـَٔلُہُمۡ اَجۡرًا فَہُمۡ مِّنۡ مَّغۡرَمٍ مُّثۡقَلُوۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾
یا تو ان سے کوئی مزدوری طلب کرتا ہے کہ وہ تاوان سے بوجھل ہیں۔ En
کیا تم ان سے کچھ اجر مانگتے ہو کہ ان پر تاوان کا بوجھ پڑ رہا ہے
En
کیا تو ان سے کوئی اجرت چاہتا ہے جس کے تاوان سے یہ دبے جاتے ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 46){ اَمْ تَسْـَٔلُهُمْ اَجْرًا …:} ان کے اسلام قبول نہ کرنے کا ایک عذر یہ ہو سکتا ہے کہ آپ ان سے کوئی اجرت مانگتے ہوں جو ان کے لیے خواہ مخواہ کی چٹی اور بوجھ ہو، ظاہر ہے کہ ایسا ہر گز نہیں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

46۔ 1 یہ خطاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن سرزنش ان کو کی جا رہی ہے جو آپ پر ایمان نہیں لا رہے تھے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

46۔ یا آپ ان سے کوئی صلہ مانگتے ہیں کہ وہ تاوان (کے بوجھ) سے دبے [22] جا رہے ہیں
[22] آپ تو سب لوگوں کو اللہ کی طرف دعوت دیتے اور اس کا پیغام پہنچاتے ہیں اور جو کچھ کر رہے ہیں بے لوث اور بے غرض ہو کر کر رہے ہیں۔ اب اگر یہ قریشی سردار اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو کریں، نہیں کرتے تو نہ کریں، پھر اگر دوسرے لوگ اس دعوت کو قبول کرتے ہیں تو یہ کیوں سیخ پا ہو جاتے ہیں؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔