(آیت 39){ اَمْلَكُمْاَيْمَانٌعَلَيْنَابَالِغَةٌ …: ”اَيْمَانٌ“”يَمِيْنٌ“} کی جمع ہے، قسم، حلفیہ عہد۔ فرمایا، یا پھر تمھارے پاس ہمارے کوئی حلفیہ عہد ہوں جو قیامت تک کے لیے ہوں کہ تمھیں وہی ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے۔ ظاہر ہے ہمارا عہد اگر ہے بھی تو ان سے ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہیں، مجرموں اور ظالموں سے تو ہمارا کوئی عہد ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَايَنَالُعَهْدِيالظّٰلِمِيْنَ» [البقرۃ: ۱۲۴]”میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
39۔ یا ہمارے ذمہ تمہارے پاس حلفیہ عہد ہیں جو قیامت کے دن تک جا پہنچیں گے کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم حکم لگاؤ گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔