ترجمہ و تفسیر — سورۃ القلم (68) — آیت 37

اَمۡ لَکُمۡ کِتٰبٌ فِیۡہِ تَدۡرُسُوۡنَ ﴿ۙ۳۷﴾
یا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے، جس میں تم (یہ) پڑھتے ہو۔ En
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں (یہ) پڑھتے ہو
En
کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 38،37) ➊ { اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَ …:} کفار جو کہتے تھے کہ ہمیں آخرت میں بھی جنت و نعمت ملے گی، اس بات کی تردید ایک اور طرح سے ہے، فرمایا تمھیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی؟ اگر کہو کہ تمھیں خود اللہ تعالیٰ نے بتائی ہے تو بتاؤ تمھارے پاس اللہ تعالیٰ کی کون سی کتاب ہے جس میں تم نے پڑھا ہے کہ آخرت میں تمھیں تمھاری پسند ہی کی چیزیں ملیں گی؟ صاف ظاہر ہے کہ نہ تمھارے پاس ایسی کوئی کتاب ہے اور نہ تمھارا یہ گمان کچھ حقیقت رکھتا ہے۔
➋ { تَخَيَّرُوْنَ } باب تفعّل میں سے {تَتَخَيَّرُوْنَ} ہے، ایک تاء حذف کر دی ہے۔ { اِنَّ لَكُمْ فِيْهِ لَمَا تَخَيَّرُوْنَ } جملہ بن کر { تَدْرُسُوْنَ } کا مفعول بہ ہے۔ { اِنَّ } کا ہمزہ مفتوح ہونا چاہیے تھا، لیکن { تَخَيَّرُوْنَ } پر لام آنے کی وجہ سے مکسور ہو گیا۔ ترجمہ یہ ہو گا کیا تمھارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ بات پڑھتے ہو کہ تمھارے لیے آخرت میں وہی ہو گا جو تم پسند کرو گے؟

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

37۔ 1 جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے جس کا تم دعویٰ کر رہے ہو، کہ وہاں بھی تمہارے لئے وہ کچھ ہو جسے تم پسند کرتے ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

37۔ یا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم (یہ بات) پڑھتے [18] ہو
[18] غلط فہمی کی تین طرح سے تردید :۔
آیت نمبر 37 تا 41 میں تین مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جو ان کے اس باطل نظریہ کی تردید میں نقلی دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ یہ ہیں:
1۔ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ آخرت میں بھی تمہیں آسودگی اور خوشحالی کی زندگی میسر ہو گی جیسا کہ تمہاری یہ خواہش ہے۔
2۔ یا تم نے ہم سے کچھ ایسے حلف نامے لے رکھے ہیں کہ تمہیں قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو تم چاہتے ہو اور اپنے حق میں ایسا ہی فیصلہ چاہتے ہو۔ اگر ایسی بات ہے تو بتاؤ کہ ان حلف ناموں کو ہم سے پورا کراکے دینے کے لیے تم سے کون ذمہ دار اور ضامن ہے؟
3۔ تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ان کے کچھ معبود اللہ کے کارناموں میں اس کے شریک ہیں۔ اگر ایسی بات ہے تو شریکوں کی بھی کائنات میں شراکت اور امور کائنات میں ان کے تصرف کو ثابت کر کے دکھائیں۔ پھر جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں ہے تو پھر آخر یہ کس برتے پر آس لگائے بیٹھے ہیں کہ انہیں اخروی زندگی میں آسودگی اور خوشحالی میسر ہو گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔