اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
3۔ 1 فریضہ نبوت کی ادائیگی میں جتنی زیادہ تکلیفیں برداشت کیں اور دشمنوں کی باتیں سنی ہیں اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ختم ہونے والا اجر ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
3۔ اور یقیناً آپ کے لیے ایسا اجر [4] ہے جو کبھی منقطع ہونے والا نہیں
[4] یعنی اگر یہ لوگ آپ کو دیوانہ کہتے ہیں تو اس سے آپ غمگین اور ملول نہ ہوں۔ اللہ اس کے عوض آپ کو اتنا اجر عطا فرماوے گا جو لامتناہی، غیر محدود اور غیر منقطع ہے اور اس کے تسلسل میں کبھی فرق نہ آئے گا۔ اس اجر سے مراد دنیا کی زندگی میں بھی ایسا اجر ہو سکتا ہے جو فی الواقع آپ کو عطا کر دیا گیا تھا اور اخروی اجر تو بہرحال یقینی ہے۔ غور فرمائیے کہ کسی دیوانے یا پاگل کا مستقبل بھی ایسا شاندار ہو سکتا ہے۔ پھر جس کا رتبہ اللہ کے ہاں اتنا بڑا ہو اسے چند احمقوں کے دیوانہ کہنے کی پروا نہ کرنا چاہیے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔