(آیت 25) {وَغَدَوْاعَلٰىحَرْدٍقٰدِرِيْنَ: ”حَرْدٍ“} کا ایک معنی ہے قصد و ارادہ،یعنی وہ پختہ ارادے کے ساتھ نکلے کہ کسی مسکین کو باغ میں گھسنے نہیں دیں گے اور دوسرا معنی ہے شدید غصہ، یعنی وہ مساکین پر سخت غصے کے عالم میں نکلے۔ دونوں صورتوں میں {”قٰدِرِيْنَ“} کا معنی ہے ”اس حال میں کہ وہ اپنے خیال میں باغ کے پھل پر قادر تھے۔“ {”حَرْدٍ“} کا تیسرا معنی ہے روکنا، یعنی وہ صبح صبح اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں) مساکین کو روکنے پر قادر تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
25۔ 1 یعنی اپنے معاملے کا انہوں نے اندازہ کرلیا، یا اپنے ارادے سے انہوں نے باغ پر قدرت حاصل کرلی، یا مطلب ہے مساکین پر انہوں نے قابو پا لیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
25۔ اور وہ صبح سویرے ہی لپکتے ہوئے وہاں جا پہنچے جیسے وہ (پھل توڑنے کی) پوری قدرت رکھتے ہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔