وَ لَا یَسۡتَثۡنُوۡنَ ﴿۱۸﴾
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 18) {وَ لَا يَسْتَثْنُوْنَ: ”اَلْاِسْتِثْنَاءُ“} کسی چیز کو عام حکم سے علیحدہ کرنا، ان شاء اللہ کہنا۔ آیت کے دو معنی ہیں، ایک یہ کہ انھیں اپنے منصوبے کی کامیابی کا اتنا یقین تھا کہ انھوں نے ان شاء اللہ بھی نہیں کہا اور وہ اللہ کی قدرت و مشیت کو بھی بھول گئے۔ دوسرا یہ کہ انھوں نے سارا پھل اتار لینے کی قسم کھائی۔ عام طور پر پھل چنتے وقت کچھ پھل مساکین کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، لیکن انھوں نے اس کا استثنا بھی نہیں کیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
یعنی صبح ہوتے ہی پھل اتار لیں گے اور پیداوار کاٹ لیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
18۔ اور وہ کوئی استثنا [15] نہیں کر رہے تھے۔
[15] باغ والوں کا قصہ :۔
یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہاکہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کر دیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کر لیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ ہمارا باپ تو ساری عمر اس باغ کی فصل کو ادھر ادھر تقسیم کر کے اپنی کمائی یوں ہی لٹاتا رہا اور زندگی بھر مفلس ہی رہا۔ اب کے یہ ریت ختم کر دینا چاہیے۔ باغ ہمارا ہے اور اس پر ہمارا ہی حق ہے چنانچہ انہوں نے آپس میں یہ طے کر لیا کہ جب کٹائی کا موقع آئے تو راتوں رات ہی کر لی جائے۔ تاکہ نہ غریب مسکین آئیں، نہ ہمیں تنگ کریں اور نہ ہم برے بنیں۔ انہوں نے اس بات پر قسمیں کھائیں کہ ایسا ہی کریں گے اور انہیں اپنی اسکیم پر اس قدر وثوق تھا کہ انہوں نے انشاء اللہ کہنے کی بھی ضرورت نہ سمجھی۔ جب کٹائی کا وقت آ گیا تو وہ راتوں رات، خوشی خوشی، اچھلتے کودتے اپنے باغ کی طرف روانہ ہوئے ادھر اللہ کا کرنا یوں ہوا کہ اسی رات سخت آندھی کا طوفان آیا۔ جس میں آگ تھی۔ آندھی کے ذریعہ وہ آگ باغ کے درختوں تک پہنچ گئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں انہیں جلا کر راکھ کرگئی۔ آن کی آن میں سارا باغ جل کر راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ جب یہ عقل مند بیٹے وہاں پہنچے تو وہاں نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ انہیں وہاں باغ نام کی کوئی چیز نظر نہ آئی۔ سوچنے لگے کہ ہم شائد رات کے اندھیرے میں کسی غلط جگہ پر پہنچ گئے۔ پھر جب کچھ حواس درست ہوئے تو حقیقت ان پر آشکار ہو گئی کہ ان کی نیت کا فتور آندھی کا عذاب بن کر ان کے باغ کو بھسم کر گیا ہے۔ اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ ان کے منجھلے بھائی نے کہا کیا میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ اللہ کی تسبیح بیان کرو۔ اسے ہر وقت یاد رکھو اور اسی سے خیر مانگو۔ مگر ان بھائیوں میں سے کسی نے بھی منجھلے بھائی کی طرف توجہ نہ دی تو ناچار اسے بھی ان کا ساتھ دینا پڑا۔ اور وہ ملامت بھی اس طرح کرتے تھے کہ ایک دوسرے کو کہتا کہ تم ہی نے یہ ترغیب دی تھی دوسرا کہتا کہ یہ مشورہ تو تمہارا تھا مگر اب پچھتانے سے کچھ بن نہ سکتا تھا۔ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ باپ کو اس کی سخاوت اور دوسروں سے ہمدردی کا یہ صلہ ملتا رہا کہ اسی کا باغ سب سے زیادہ پھل لاتا تھا اور جتنا کچھ وہ دوسروں پر خرچ کرتا۔ اللہ تعالیٰ اس سے زیادہ اسے مہیا فرماتا۔ مگر جب بیٹوں پر بخل اور حرص غالب آئی تو اس کا ثمرہ یوں ملا کہ نیت کے فتور نے مجسم طوفان کا روپ دھار کر سارا باغ ملیا میٹ کر دیا۔ اس وقت نہ زمین کی زرخیزی کام آئی، نہ ان کی کوئی تدبیر، اس واقعہ سے یہ بات از خود واضح ہو جاتی ہے کہ دوسروں سے ہمدردی اور اچھے سلوک کی بنا پر اگر اللہ تعالیٰ نادیدنی وسائل کے ذریعہ رزق فراہم کر سکتا ہے تو نیت میں فتور آنے پر ایسے ہی نادیدنی وسائل سے دیئے ہوئے رزق کو چھین بھی سکتا ہے۔ آخر سب مل کر کہنے لگے کہ واقعی ہماری سب کی زیادتی تھی کہ ہم نے فقیروں اور محتاجوں کا حق مارنا چاہا اور حرص و طمع میں آکر اصل بھی کھو بیٹھے۔ یہ جو کچھ خرابی آئی اس میں ہم ہی قصور وار ہیں۔ مگر اب بھی ہم اپنے پروردگار سے ناامید نہیں کیا عجیب ہے کہ وہ اپنی رحمت سے پہلے باغ سے بہتر باغ ہم کو عطا کر دے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ٭٭
یہاں ان کافروں کی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کر دیا ہے۔
تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔
اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف]
تو فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور ہمیں ان کو بھی دینا پڑے بلکہ کل پھل اور میوے خود ہی لے آئیں گے، اپنی اس تدبیر کی کامیابی پر انہیں غرور تھا اور اس خوشی میں پھولے ہوئے تھے یہاں تک کہ اللہ کو بھی بھول گئے ان شاء اللہ تک کسی کی زبان سے نہ نکلا اس لیے ان کی یہ قسم پوری نہ ہوئی، رات ہی رات میں ان کے پہنچنے سے پہلے آسمانی آفت نے سارے باغ کو جلا کر خاکستر کر دیا ایسا ہو گیا جیسے سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی ‘۔
اسی لیے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں کہ لوگو گناہوں سے بچو گناہوں کی شامت کی وجہ سے انسان اس روزی سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے جو اس کے لیے تیار کر دی گئی ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو آیتوں کی تلاوت کی کہ ’ یہ لوگ بہ سبب اپنے گناہ کے اپنے باغ کے پھل اور اس کی پیداوار سے بے نصیب ہو گئے ‘ }۔ ۱؎ [الدار المنثور للسیوطی:395/6:ضعیف]
صبح کے وقت یہ آپس میں ایک دوسرے کو آوازیں دینے لگے کہ اگر پھل اتارنے کا ارادہ ہے تو اب دیر نہ لگاؤ سویرے ہی چل پڑو، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یہ باغ انگور کا تھا، اب یہ چپکے چپکے باتیں کرتے ہوئے چلے تاکہ کوئی سن نہ لے اور غریب غرباء کو پتہ نہ لگ جائے، چونکہ ان کی سرگوشیاں اس اللہ سے تو پوشیدہ نہیں رہ سکتی تھیں جو دلی ارادوں سے بھی پوری طرح واقف رہتا ہے وہ بیان فرماتا ہے کہ ’ ان کی وہ خفیہ باتیں یہ تھیں کہ دیکھو ہوشیار رہو کوئی مسکین بھنک پا کر کہیں آج آ نہ جائے ہرگز کسی فقیر کو باغ میں گھسنے ہی نہ دینا ‘۔ اب قوت و شدت کے ساتھ پختہ ارادے اور غریبوں پر غصے کے ساتھ اپنے باغ کو چلے۔ سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں «حَرْد» ان کی بستی کا نام تھا، لیکن یہ کچھ زیادہ ٹھیک نہیں معلوم ہوتا۔ یہ جانتے تھے کہ اب ہم پھلوں پر قابض ہیں ابھی اتار کر سب لے آئیں گے۔