(آیت 12){ مَنَّاعٍلِّلْخَيْرِمُعْتَدٍاَثِيْمٍ:} ظلم کی دو قسمیں ہیں، پہلی قسم کسی کا حق جو آدمی کے ذمے ہو روک لینا، ادا نہ کرنا اور دوسری قسم کسی پر زیادتی کرنا۔ {”مَنَّاعٍلِّلْخَيْرِ“} میں پہلی قسم مبالغے کے ساتھ پائی جاتی ہے اور {”مُعْتَدٍ“} میں دوسری۔ {”اَثِيْمٍ“} کا ذکر اس کے ساتھ اس طرح ہے جس طرح {”وَلَاتَعَاوَنُوْاعَلَىالْاِثْمِوَالْعُدْوَانِ“} (اور گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو) میں ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۲)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
12۔ بھلائی سے ہر دم [10] روکنے والا، حد سے بڑھنے والا گنہگار ہے
[10] خیر کے معنی مال و دولت بھی ہے اور ہر بھلائی کا کام بھی۔ پہلی صورت میں معنی یہ ہوتا کہ وہ خود بھی کنجوس اور بخیل ہے اور دوسروں کو بھی ایسا ہی سبق دیتا ہے اور دوسرے معنی کے لحاظ سے اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ ہر بھلائی کے کام سے خود بھی رکتا ہے دوسروں کو بھی روکتا رہتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔