ترجمہ و تفسیر — سورۃ القلم (68) — آیت 11

ہَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِیۡمٍ ﴿ۙ۱۱﴾
جو بہت طعنہ دینے والا، چغلی میں بہت دوڑ دھوپ کرنے والا ہے۔ En
طعن آمیز اشارتیں کرنے والا چغلیاں لئے پھرنے والا
En
بے وقار، کمینہ، عیب گو، چغل خور En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 11) {هَمَّازٍ مَّشَّآءٍۭ بِنَمِيْمٍ: هَمَّازٍ هَمَزَ يَهْمُزُ هَمْزًا} (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت طعنہ دینے والا، عیب لگانے والا۔ { مَشَّآءٍ مَشٰي يَمْشِيْ مَشْيًا} (ض) (چلنا) سے مبالغے کاصیغہ ہے، بہت چلنے والا، بہت دوڑ دھوپ کرنے والا۔ {نَمِيْمٌ} چغلی، خرابی ڈالنے کی نیت سے کسی کی بات دوسرے شخص تک پہنچانا۔ ان دونوں صفتوں کا خلاصہ دوسروں پر عیب لگانا ہے۔ { هَمَّازٍ } وہ جو دوسرے کے منہ پر عیب لگاتا اور طعنہ دیتا ہے۔ { مَشَّآءٍ بِنَمِيْمٍ } وہ جو پیٹھ پیچھے چغلی کرتا ہے۔ یعنی بس چلے تو جرأت سے منہ پر طعنہ زنی اور عیب جوئی کرتا ہے اور بس نہ چلے تو پیٹھ پیچھے دوڑ دھوپ جاری رکھتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

11۔ جو طعنے دینے والا ہے اور چغلیاں [9] کھاتا پھرتا ہے
[9] آیت نمبر 10 سے 13 تک چار آیات میں کافروں کے ایک رئیس کی اخلاقی حالت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں پیش کیا گیا ہے اور اس کا نام لینے کی ضرورت اس لئے پیش نہیں آئی کہ ان صفات والا کردار صرف ایک ہی تھا۔ اور اس کی یہ صفات پڑھ کر ہر ایک کو معلوم ہو جاتا تھا کہ ان آیات کا روئے سخن کس طرف ہے اور یہ قرآن کی انتہائی حکمت کی دلیل ہے کہ کسی برے شخص کا نام لیے بغیر محض صفات سے ہی اس کی نشاندہی کر دی جائے اور ہر ایک کو معلوم ہو جائے کہ جس شخص میں یہ اور یہ صفات پائی جاتی ہوں وہ ایسے اخلاق کا مالک ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔