(آیت 29) {قُلْهُوَالرَّحْمٰنُاٰمَنَّابِهٖ …:} یعنی وہ ہمیں ہلاک کرے یا ہم پر رحم کرے، دونوں صورتوں میں ہماری امیدیں اسی سے وابستہ ہیں، وہی رحمان ہے، کوئی اور نہیں جو ہم پر رحم کرسکے۔ ہمارا اس پر ایمان اور اسی پر بھروسا ہے، تم جو اس کے علاوہ بھی کسی سے رحم کے امید وار اور طلب گار ہو، بہت جلد آنکھیں بند ہوتے ہی جان لو گے کہ ہم میں سے صاف گمراہ کون تھا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
29۔ 1 یعنی وحدانیت پر، اسی لئے اس کے ساتھ شریک نہیں ٹھہراتے۔ 29۔ 2 کسی اور پر نہیں۔ ہم اپنے تمام معاملات اسی کے سپرد کرتے ہیں، کسی اور کے نہیں جیسے مشرک کرتے ہیں۔ یعنی تم ہو یا ہم اس میں کافروں کے لیے سخت وعید ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
29۔ آپ ان سے کہیے: ”وہ رحمن ہی ہے جس پر ہم ایمان لائے اور اسی پر ہم [32] نے بھروسہ کیا ہے۔ اب تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ صریح گمراہی میں کون ہے؟
[32] ہماری عاقبت بخیر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہم رحمٰن پر صرف ایمان ہی نہیں لائے بلکہ اپنے تمام تر امور کا انجام اسی کے سپرد کر رکھا ہے اور اسی پر ہی ہمارا بھروسہ ہے پھر وہ آخر کیوں ہمیں اپنی نعمتوں سے سرفراز نہ کرے گا۔ اور تمہیں جلد ہی اس بات کا پتہ چل جائے گا کہ گمراہی کے راستہ پر ہم پڑے ہوئے ہیں یا تم ہو۔ یہاں ”جلد“ سے مراد کافروں پر کوئی دنیوی عذاب بھی ہو سکتا ہے۔ ان کی موت کا وقت بھی اور قیامت کا دن بھی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
زمین سے پانی ابلنا بند ہو جائے تو؟ ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اے نبی! ان مشرکوں سے کہو جو اللہ کی نعمتوں کا انکار کر رہے ہیں کہ تم جو اس بات کی تمنا کر رہے ہو کہ ہمیں نقصان پہنچے تو فرض کرو کہ ہمیں اللہ کی طرف سے نقصان پہنچا یا اس نے مجھ پر اور میرے ساتھیوں پر رحم کیا لیکن اس سے تمہیں کیا؟ صرف اس امر سے تمہارا چھٹکارا تو نہیں ہو سکتا؟ تمہاری نجات کی صورت یہ تو نہیں۔ نجات تو موقوف ہے توبہ کرنے پر، اللہ کی طرف جھکنے پر، اس کے دین کو مان لینے پر، ہمارے بچاؤ یا ہلاکت پر تمہاری نجات نہیں، تم ہمارا خیال چھوڑ کر اپنی بخشش کی صورتیں تلاش کرو ‘۔ پھر فرمایا ’ ہم رب العالمین رحمن و رحیم پر ایمان لا چکے اپنے تمام امور میں ہمارا بھروسہ اور توکل اسی کی پاک ذات پر ہے ‘، ارشاد ہے «فَاعْبُدْهُوَتَوَكَّلْعَلَيْهِوَمَارَبُّكَبِغَافِلٍعَمَّاتَعْمَلُوْنَ»۱؎[11-ھود:123] ’ اسی کی عبادت کر اور اسی پر بھروسہ کر۔ اب تم عنقریب جان لو گے کہ دنیا اور آخرت میں فلاح و بہبود کسے ملتی ہے اور نقصان و خسر ان میں کون پڑتا ہے؟ رب کی رحمت کس پر ہے؟ اور ہدایت پر کون ہے؟ اللہ کا غضب کس پر ہے؟ اور بری راہ پر کون ہے؟ ‘ پھر فرماتا ہے ’ اگر اس پانی کو جس کے پینے پر انسانی زندگی کا مدار ہے زمین چوس لے یعنی زمین سے نکلے نہیں گو تم کھودتے کھودتے تھک جاؤ تو سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی ہے جو بہنے والا، ابلنے والا اور جاری ہونے والا پانی تمہیں دے سکے؟ ‘ یعنی اللہ کے سوا اس پر قادر کوئی نہیں وہی ہے جو اپنے فضل و کرم سے صاف نتھرے ہوئے اور صاف پانی کو زمین پر جاری کرتا ہے جو ادھر سے ادھر تک پھر جاتا ہے اور بندوں کی حاجتوں کو پورا کرتا ہے، ضرورت کے مطابق ہر جگہ بآسانی مہیا ہو جاتا ہے۔ «فالْحَمْدُلِلَّـه» اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے سورۃ الملک کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُلِلَّـهرَبِّالْعَالَمِينَ» ۔ (حدیث میں ہے کہ اس آیت کے جواب میں «اللَّـهُرَبِّالْعَالَمِينَ» کہنا چاہیئے، مترجم)۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔