ترجمہ و تفسیر — سورۃ الملك (67) — آیت 2

الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ ہُوَ الۡعَزِیۡزُ الۡغَفُوۡرُ ۙ﴿۲﴾
وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بے حد بخشنے والا ہے۔ En
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے
En
جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 2) ➊ { الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَكُمْ …:} یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو مخلوق کی قدرت سے باہر ہیں، تاکہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ اس مقام پر اپنی قدرتوں میں سے پہلی چیز موت و حیات ذکر فرمائی، کیونکہ موت اور زندگی میں انسان کے تمام احوال پورے پورے آجاتے ہیں۔
➋ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دنیا میں آنے سے پہلے کی حالت کو موت قرار دیا اور دنیا میں آنے کے بعد یہاں سے جانے کو بھی موت قرار دیا۔ اسی طرح دنیا میں آنے کو زندگی قرار دیا، پھر موت کے بعد اٹھنے کو زندگی قرار دیا، جیسا کہ فرمایا: «كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۸] تم کیسے اللہ کا انکار کرتے ہو، حالانکہ تم بے جان تھے تو اس نے تمھیں زندگی بخشی، پھر تمھیں موت دے گا، پھر تمھیں زندہ کرے گا، پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ یہاں فرمایا کہ اللہ نے موت و حیات کو پیدا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ موت بھی ایک مخلوق ہے، یہ عدم محض(بالکل نہ ہونے) کا نام نہیں، کیونکہ دنیا میں آنے سے پہلے بھی انسان اللہ کے علم اور اس کی تقدیر میں موجود تھا اور اس کے دنیا میں آنے کا وقت مقرر تھا مگر روح و جسم کا اتصال نہیں تھا، اسے موت قرار دیا، پھر دنیا میں آنے کے بعد روح جسم سے جدا ہوئی تو اسے بھی موت قرار دیا۔ قیامت کے دن موت ایک مینڈھے کی شکل میں لائی جائے گی۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [يُؤْتٰی بِالْمَوْتِ كَهَيْئَةِ كَبْشٍ أَمْلَحَ فَيُنَادِيْ مُنَادٍ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ، هٰذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، ثُمَّ يُنَادِيْ يَا أَهْلَ النَّارِ! فَيَشْرَئِبُّوْنَ وَ يَنْظُرُوْنَ، فَيَقُوْلُ هَلْ تَعْرِفُوْنَ هٰذَا؟ فَيَقُوْلُوْنَ نَعَمْ هٰذَا الْمَوْتُ، وَكُلُّهُمْ قَدْ رَآهُ، فَيُذْبَحُ ثُمَّ يَقُوْلُ يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، وَ يَا أَهْلَ النَّارِ! خُلُوْدٌ فَلاَ مَوْتَ، ثُمَّ قَرَأَ: «‏‏‏‏وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» وَهٰؤُلاَءِ فِيْ غَفْلَةٍ أَهْلُ الدُّنْيَا «وَ هُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ» ‏‏‏‏] [بخاري، التفسیر، باب قولہ عزوجل: «وأنذرھم یوم الحسرۃ» : ۴۷۳۰] موت کو ایک چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا، پھر ایک اعلان کرنے والا اعلان کرے گا: اے اہلِ جنت! وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا: اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں! یہ موت ہے۔ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے، پھر وہ اعلان کرے گا: اے اہل نار! وہ گردن اٹھا کر دیکھیں گے تو وہ کہے گا: اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے: ہاں! یہ موت ہے۔ وہ سب اسے دیکھ چکے ہوں گے۔ تو اسے ذبح کر دیا جائے گا، پھر کہے گا: اے اہلِ جنت! (اب تمھارے لیے) ہمیشہ زندہ رہنا ہے، موت نہیں اور اے اہلِ نار! (تمھارے لیے بھی) ہمیشہ زندہ رہنا ہے، موت نہیں۔ پھر یہ آیت پڑھی: «‏‏‏‏وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِيَ الْاَمْرُ وَ هُمْ فِيْ غَفْلَةٍ» ‏‏‏‏ (اور انھیں پچھتاوے کے دن سے ڈرا جب ہر کام کا فیصلہ کر دیا جائے گا اور وہ سرا سر غفلت میں ہیں) یعنی یہ دنیا والے سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لا رہے۔
➌ زندگی اور موت دونوں اس امتحان کے لیے پیدا کی گئی ہیں کہ انسانوں میں سے اچھے عمل کون کرتا ہے؟ اگر موت اور موت کے بعد والی زندگی نہ ہوتی تو آدمی اچھے اعمال کے لیے جدو جہد اور برے اعمال سے پرہیز کیوں کرتا؟ اور موت اور حیات بعد الموت نہ ہوتی تو اچھے اور برے اعمال کا بدلا کہاں ملتا اور اگر دنیا میں انسان کو زندگی نہ ملتی اور نہ عمل کا موقع ملتا تو جزا و سزا کس چیز پر ہوتی؟
➍ {وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ:} وہ عزیز ہے، ایسا زبردست ہے کہ اعمال کی جزا و سزا پر پورا اختیار رکھتا ہے اور ایسا غالب کہ کوئی اس پر غالب نہیں، مگر اتنی قوت و عزت کے باوجود ظالم یا سخت گیر نہیں بلکہ غفور ہے اور ایسا غفور کہ کوئی توبہ کرے تو جتنے بھی گناہ کیے ہوں بخش دیتا ہے۔ توبہ کے بغیر بھی اگر اس کے ساتھ شرک نہ کیا ہو تو جسے چاہے گا بخش دے گا، فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ اللّٰهَ لَا يَغْفِرُ اَنْ يُّشْرَكَ بِهٖ وَ يَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ يَّشَآءُ» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۱۶] بے شک اللہ اس بات کو نہیں بخشے گا کہ اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ جو کچھ ہے جسے چاہے گا بخش دے گا۔ اور شرک اس لیے معاف نہیں کرے گا کہ یہ اس کے عزیز ہونے کے خلاف ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

روح ایک ایسی غیر مرئی چیز ہے جس بدن سے اس کا تعلق واتصال ہوجائے وہ زندہ کہلاتا ہے اور جس بدن سے اس کا تعلق منقطع ہوجائے وہ موت سے ہم کنار ہوجاتا ہے اس نے یہ عارضی زندگی کا سلسلہ، جس کے بعد موت ہے اس لیے قائم کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ اس زندگی کا صحیح استعمال کون کرتا ہے؟ جو اسے ایماء و اطاعت کے لیے استعمال کرے گا اس کے لیے بہترین جزاء ہے اور دوسروں کے لیے عذاب۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

2۔ جس نے موت [4] اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے [5] اور وہ ہر چیز پر غالب بھی ہے اور بخش دینے والا بھی
[4] موت ایک ایجابی چیز ہے جسے اللہ نے پہلے پیدا کیا تھا :۔
اللہ تعالیٰ نے موت کا نام زندگی سے پہلے لیا کہ اس نے موت کو بھی پیدا کیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ موت محض ایک سلبی چیز نہیں بلکہ ایجابی چیز ہے۔ اور اس سے معتزلہ کے اس قول کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ زندگی نہ ہونے کا نام ہی موت ہے۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے موت روح اور جسم کے انفصال کا نام ہے اور زندگی ان دونوں کے اتصال کا۔ دنیوی زندگی سے پہلے موت سے مراد وہ دور ہے جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدمؑ کو پیدا کرنے کے بعد ان تمام روحوں کو بھی پیدا فرمایا جو ان کی پشت سے تا قیامت پیدا ہونے والی تھیں۔ عہد الست اسی دور سے متعلق ہے۔ [7: 172]
اور یہ دور روح کی پیدائش سے لے کر اس کے شکم مادر میں جنین کے جسم میں داخل ہونے تک پھیلا ہوا ہے۔
[5] دنیا میں امتحان اور آخرت میں نتائج :۔
گویا اللہ نے کائنات کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ انسان کی تخلیق سے پہلے ہی انسان کی بنیادی ضروریات زندگی کا سامان مہیا کر دیا جائے۔ پھر انسان کو پیدا کیا اور اس کی موت و حیات کا سلسلہ قائم کیا اسے قوت ارادہ و اختیار اور عقل و تمیز عطا کی کہ دیکھا جائے کہ کون کائنات کی دوسری اشیاء کی طرح اللہ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرتا ہے اور کون نہیں کرتا۔ اگر سر تسلیم خم کر لے تو یہی اس کے لیے بہتر روش ہے اور اس کے اعمال اچھے ہوں گے اور انکار کی صورت میں اس کے اعمال بھی برے اور بدلہ بھی برا ملے گا۔ گویا یہ دنیا ہر انسان کے لیے دار الامتحان ہے اور اس امتحان کا وقت انسان کی موت تک ہے۔ موت سے لے کر بعث بعد الموت تک کا عرصہ امتحان کے نتائج کے انتظار کا عرصہ ہے۔ تاہم ہر ایک کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس امتحان میں فیل ہونے والا ہے یا پاس اور اسی کے مطابق اسے اس عرصہ میں کوفت یا راحت بھی پہنچتی رہتی ہے اور قیامت کو اس امتحان کے نتائج کا باقاعدہ اعلان ہو گا۔ نمبر نہایت انصاف کے ساتھ دیئے جائیں گے۔ پھر ہر ایک کو اس کے اعمال کے مطابق جزا و سزا بھی ملے گی۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ ’ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی بازپرس بھی نہیں کر سکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے ‘۔
پھر خود موت و حیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہو جائے۔
جیسے اور جگہ ہے «‏‏‏‏كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُم» ۱؎ [2-البقرة:28]‏‏‏‏ ’ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیوں کفر کرتے ہو؟ تم تو مردہ تھے پھر اس نے تمہیں زندہ کر دیا ‘ ‘، پس پہلے حال یعنی عدم کو یہاں بھی موت کہا گیا اس پیدائش کو حیات کہا گیا اسی لیے اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے «ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ» ۱؎ [2-البقرة:28]‏‏‏‏ ’ وہ پھر تمہیں مار ڈالے گا اور پھر زندہ کر دے گا ‘۔
ابن ابی حاتم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ بنی آدم موت کی ذلت میں تھے، دنیا کو اللہ تعالیٰ نے حیات کا گھر بنا دیا پھر موت کا اور آخرت کو جزا کا پھر بقا کا قلعہ }۔ لیکن یہی روایت اور جگہ قتادہ رحمہ اللہ کا اپنا قول ہونا بیان کی گئی ہے۔
اچھے عمل والا کون؟ ٭٭
آزمائش اس امر کی ہے کہ تم میں سے اچھے عمل والا کون ہے؟ اکثر عمل والا نہیں بلکہ بہتر عمل والا، وہ باوجود غالب اور بلند جناب ہونے کے پھر عاصیوں اور سرتاب لوگوں کے لیے، جب وہ رجوع کریں اور توبہ کریں معاف کرنے اور بخشنے والا بھی ہے۔ جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے ایک پر ایک کو۔
بعض لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ایک پر ایک ملا ہوا ہے لیکن دوسرا قول یہ ہے کہ درمیان میں جگہ ہے اور ایک دوسرے کے اوپر فاصلہ ہے، زیادہ صحیح یہی قول ہے، اور حدیث معراج وغیرہ سے بھی یہی بات ثابت ہوتی ہے، پروردگار کی مخلوق میں تو کوئی نقصان نہ پائے گا بلکہ تو دیکھے گا کہ وہ برابر ہے، نہ ہیر پھیر ہے نہ مخالفت اور بےربطی ہے، نہ نقصان اور عیب اور خلل ہے۔
اپنی نظر آسمان کی طرف ڈال اور غور سے دیکھ کہ کہیں کوئی، عیب ٹوٹ پھوٹ، جوڑ توڑ، شگاف و سوراخ دکھائی دیتا ہے؟ پھر بھی اگر شک رہے تو دو دفعہ دیکھ لے کوئی نقصان نظر نہ آئے گا تو نے خوب نظریں جما کر ٹٹول کر دیکھا ہو پھر بھی ناممکن ہے کہ تجھے کوئی شکست و ریخت نظر آئے تیری نگاہیں تھک کر اور ناکام ہو کر نیچی ہو جائیں گی۔ نقصان کی نفی کرکے اب کمال اثبات ہو رہا ہے۔